logo-img
رازداری اور پالیسی
7 ماہ قبل

مرنے والے کو تکلیف کا احساس

کیا مرنے والے کو اپنے گھر والوں کی تکلیف اور دکھ کا احساس ہوتا ہے؟


سب سے پہلے ہمیں اس حقیقت کا اقرار کرنا چاہیے کہ ہم سب نے اس دنیا سے جانا ہے، جلد یا دیر سے سب کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔ ہمارا اس دنیا سے جانا اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تابع ہے۔ ہم میں سے بعض ماں کے پیٹ میں ہی مر جاتے ہیں، بعض بچپنے میں فوت ہو جاتے ہیں، بعض جوانی کے عالم میں اور بعض بڑھاپے میں فوت ہو جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کی تقدیر کے مطابق اور اللہ کے اختیار میں ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ آپ کا امتحان لے رہا ہو، جب آپ کے بیٹے کو موت دیتا ہے۔ یہ سوال کہ آپ کا بیٹا آپ کے درد کو محسوس کرے گا یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ آپ کا بیٹا آپ پر آنے والی اس مصیبت کاا دراک کرے اور محسوس کرے۔ ائمہ ہدیٰ (علیہم السلام) سے روایات وارد ہوئی ہیں کہ میت اپنے گھر والوں کی زیارت کرتی ہے اور ان کے نیک یا بد عمل کو جانتی ہے۔ شیخ کلینیؒ نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ مومن اپنے گھر والوں کو دیکھتا ہے اور اس کو وہی دکھایا جاتا ہے جو اسے پسند ہوتا ہے اور ناپسندیدہ عمل اس سے چھپا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح کافر بھی اپنے گھر والوں کی زیارت کرتا ہے جو اس کو ناپسند ہوتا ہے وہ دکھایا جاتا ہے اور جو پسند ہوتا ہے وہ چھپا لیا جاتا ہے۔ بعض ہر جمعہ کو زیارت کرتے ہیں اور بعض اپنے عمل کے مطابق زیارت کرتے ہیں۔(کافی، ج 3، ص 276) شیخ کلینی نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ ہر مومن یا کافر اپنے گھر والوں کے پاس سورج کے زوال کے وقت آتا ہے۔ جب مومن اپنے گھر والوں کو نیک اعمال کرتے دیکھتا ہے تو اللہ کی حمد کرتا ہے اور جب کافر اپنے گھر والوں کو نیک کام کرتے دیکھتا ہے تو اسے حسرت ہوتی ہے۔(کافی، ج 3، ص 277) جیسا کہ وارد ہوا ہے کہ میت اپنے گھر والوں کی زیارت سے مانوس ہوتی ہے اور خوش بھی۔ شیخ کلینی نے امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ (راوی کہتا ہے کہ) میں نے آپ (علیہ السلام) سے پوچھا: ”کیا مومن قبر پر آنے والوں کو جانتا ہے“ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا: ”ہاں، جانتا ہے اور جب تک وہ قبر پر رہتا ہے، اس کے ساتھ مانوس ہوتا ہے اور جب وہ چلا جاتا ہے تو اس کی قبر میں وحشت داخل ہو جاتی ہے۔“(کافی، ج 3، ص 275)