logo-img
رازداری اور پالیسی
3 سال قبل

میثم تمار کی شہادت

حضرت میثم تمار کی شہادت کیسے ہوئی ؟


ایک روایت کے مطابق میثم کے تختۂ دار پر لٹکائے جانے کے تیسرے روز، ایک خنجر سے ان کے پیٹ یا خاصرہ کو زخمی کیا گیا اور انھوں نے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا۔ اسی دن شام کے وقت ان کے منہ اور ناک سے خون جاری ہوا اور شہید ہوگئے۔[1] البتہ ابن ابی الحدید نے لکھا ہے کہ بنو امیہ کے خلاف اور بنو ہاشم کے حق میں خطاب کرنے کے ایک دن بعد ان کے منہ پر لگام باندھی گئی، ان کے منہ اور ناک سے خون جاری ہوا اور تیسرے روز خنجر کا زخم کھا کر شہید ہوئے۔[2] میثم تمّار کی شہادت 22 ذوالحجہ سنہ 60 ہجری قمری میں، امام حسینؑ کے عراق میں داخلے سے قبل واقع ہوئی۔[3] ابن زیاد نے ان کے جسم بےجان کی تدفین سے منع کیا تاہم کوفہ کے چند کھجور فروشوں نے رات کی تاریکی میں ان کی میت تختۂ دار سے اتار کر قبیلۂ مراد کی زمینوں میں واقع پانی کی ایک گودال میں سپرد خاک کردی۔[4] 1. کشی، رجال، ص78، 81۔مفید، ارشاد، ج1، ص325۔ابن ابی الحدید، شرح نهج البلاغه، ج2، ص293-294۔ 2. ابن ابی الحدید، وہی ماخذ۔ 3. مفید، ارشاد، وہی ماخذ۔طبرسی، اِعلام الوری باعلام الهدی، ج1، ص343۔ 4. کشی، رجال، ص83۔

1