حضرت میثم نے تختۂ دار پر بلند آواز سے لوگوں کو بلایا اور کہا کہ حضرت علی (علیہ السلام) کی حیرت انگیز اور چھپی ہوئی حدیثیں سننے کے لئے جمع ہو جائیں۔ انھوں نے بنو امیہ کے فتنوں اور بنو ہاشم کے بعض فضائل بیان کیے۔ عمرو بن حریث نے میثم کی حق بیانی اور عوام کے ازدحام کو دیکھا تو عجلت کے ساتھ ابن زیاد کے پاس پہنچا اور اس کو حقیقت حال سے آگاہ کیا۔ ابن زیاد نے رسوائی کے خوف سے، حکم دیا کہ میثم کے منہ پر لگام باندھی جائے۔ کہا گیا ہے کہ میثم تمّار اسلام میں وہ پہلے شخص تھے جن کے منہ پر لگام باندھی گئی۔[1]
ایک روایت کے مطابق، عمرو بن حریث نے ـ جو لوگوں کے میثم کے کلام کی طرف رجحان اور یزیدی حکومت کے خلاف ان کی شورش سے خوفزدہ تھا ـ ابن زیاد سے درخواست کی کہ میثم کی زبان کٹوا دے۔ ابن زیاد مان گیا اور اپنے ایک محافظ کو ایسا کرنے کے لئے روانہ کیا۔ میثم نے زبان کٹوانے سے پہلے حاضرین کو یادآوری کرادی کہ "امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ ابن زیاد میرے ہاتھ پاؤں اور زبان کٹوا دے گا اور ابن زیاد نے کہا تھا کہ وہ میری زبان نہیں کٹوائے گا اور میرے مولا کی پیشنگوئی کو جھٹلا دے گا لیکن وہ اس پیشنگوئی کو نہ جھٹلا سکا۔ مروی ہے کہ میثم تمّار کی زبان کاٹ دی گئی تو کچھ لمحے بعد وہ جام شہادت نوش کرگئے۔[2]
1. کلینی، الکافی، ج2، ص220۔کشی، رجال، ص84-87۔شریف رضی، خصائص الائمة علیهم السلام، ص55۔مفید، ارشاد، ج1، ص304، 324-325۔فتال نیشابوری، روضة الواعظین، ج2، ص288-289۔
2. کشی، رجال، ص87۔