ابن سعد نے اپنے لشکر کے میمنہ پر عمرو بن حجاج کو سالار بنایا۔ عمرو بن حجاج نے فرات کی جانب موجود انصارِ امام حسینؑ پر حملہ کیا اور دونوں میں شدت کی جنگ ہوئی، ابن سعد کے لشکر کے تقریبا ۵۰ جنگجو واصلِ جہنم ہوئے۔ امام حسینؑ کے انصار میں سے مسلم بن عوسجہ اس شدید حملہ میں شہید ہوئے اور کہا جاتا ہے کہ لشکرِ حسینی کے پہلے شہید جناب مسلم بن عوسجہ ہیں۔ طبری اور بلاذری نے نقل کیا ہے: فصرع مسلم بن عوسجة الأسدي أول أَصْحَاب الْحُسَيْن؛ پھر مسلم بن عوسجہ اسدی زمین پر آ گرے، اصحاب حسینؑ میں پہلے شہید یہی ہیں۔ [1] ابن کثیر نے بھی اس کو واضح طور پر تحریر کیا ہے: وَقَدْ قُتِلَ فِي هذه الحملة مسلم بن عوسجة وكان أَوَّلَ مَنْ قُتِلَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُسَيْن؛ اس حملہ میں مسلم بن عوسجہ شہید ہو گئے اور وہ اصحابِ حسینؑ میں پہلے صحابی ہیں جو قتل کیے گئے۔ اگر ہم اس بات کو قبول کر لیں تو اس کا نتیجہ نکلتا ہے کہ روزِ عاشور میدانِ کربلا میں اصحابِ حسینؑ میں پہلے شہید جناب مسلم بن عوسجہ ہیں۔ اس طرف توجہ رہنی چاہیے انہی کتب میں مسلم بن عوسجہ کی شہادت سے پہلے بریر بن حضیر اور عمرو بن قرظہ کی شہادت کا تذکرہ بھی ہوا ہے لیکن ان کے بارے میں یہ نہیں وارد ہوا کہ ان میں سے کون پہلے اور کون بعد میں شہید ہوا۔ اس اعتبار سے کہا جا سکتا ہے کہ ممکن ہے اس سے پہلے کوئی شہید ہوا ہو لیکن اس کا نام واضح طور پر اس طرح سے نہیں آیا یا اگر شہید ہوئے ہوں تو وہ جماعت اور گروہ کی صورت میں شہید ہوئے۔[2]
جب عمرو بن حجاج کا لشکر حملہ کرنے کے بعد واپس پلٹا اور غبار چھٹا تو مسلم بن عوسجہ زمین پر گرتے دکھائی دیئے، امام حسینؑ ان کی طرف بڑھے، مسلم بن عوسجہ میں آخری رمقیں باقی تھیں اور اکھڑی سانسیں لے رہے تھے، امام حسینؑ نے فرمایا:رَحِمَكَ اللَّهُ يَا مُسْلِمُ بْنَ عَوْسَجَةَ، {فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ؛ اے مسلم بن عوسجہ اللہ تجھ پر رحمت نازل کرے، (پھر یہ آیت تلاوت فرمائی): ان میں سے بعض ہیں جنہوں نے (راہِ الہی) میں اپنی جان قربان کر دی اور ان میں سے بعض منتظر ہیں۔[3] [1]طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۳۵. بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۹۳۔
[2] ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ والنہایۃ، ج۸، ص۱۸۲۔ [3] احزاب/سوره۳۳، آیت ۲۳۔ ابن اثیر جزری، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، ج ۴، ص ۶۷۔