logo-img
رازداری اور پالیسی
3 سال قبل

بازار کوفہ حضرت زینب کا خطبہ

کیا بازار کوفہ میں حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے خطبہ دیا تھا؟


کوفہ کے زن و مرد جو ہزاروں کی تعداد میں یہ نظارہ دیکھنے کے لیے وہاں جمع تھے آلِ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو اس تباہ حالت میں دیکھ کر زار و قطار رونے لگے۔ امام زین العابدین (علیہ السلام) نے نحیف آواز کے ساتھ فرمایا: تنوحون وتبکون من ذا الذی قتلنا۔ اے کوفہ والو! یہ تو بتاؤ ہمیں قتل کس نے کیا ہے؟ اسی اثناء میں ایک کوفی عورت نے چھت سے جھانک کر دیکھا اور پوچھا کہ تم کس قوم اور قبیلہ سے تعلق رکھتے ہو؟ آپ نے فرمایا: نحن اساری آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ)۔ ہم خاندانِ نبوت کے اسیر ہیں۔ یہ سن کر وہ نیک بخت عورت نیچے اتری اور کچھ برقعے اور چادریں اکٹھی کر کے ان کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت عقیلہ بنی ہاشم حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے خطبہ ارشاد فرمایا۔ لوگوں کی آہ و زاری اور شور کی وجہ سے کان پر پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، لیکن راوی بتاتے ہیں کہ جونہی شیر خدا کی بیٹی نے فرمایا "انصتوا" [خاموش ہو جاؤ]، تو کیفیت یہ تھی کہ: ارتدت الانفاس و سکنت الاجراس۔ آتے ہوئے سانس رک گئے اور جرس کارواں کی آوازیں خاموش ہو گئیں۔ اس کے بعد دختر علی (علیہ السلام) نے خطبہ شروع کیا تو لوگوں کو حضرت علی (علیہ السلام) کا لب و لہجہ یاد آگیا۔ جب ہر طرف مکمل خاموشی چھا گئی تو امّ المصائب نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا: سب تعریفیں خدا وند ذوالجلال و الاکرام کے لیے ہیں اور درود و سلام ہو میرے نانا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) پر اور ان کی طیب و طاہر اور نیک و پاک اولاد پر۔ اما بعد! اے اہلِ کوفہ! اے اہل فریب و مکر! کیا اب تم روتے ہو؟ خدا کرے تمہارے آنسو کبھی خشک نہ ہوں اور تمھاری آہ و فغان کبھی بند نہ ہو۔ تمہاری مثال اس عورت جیسی ہے جس نے بڑی محنت و جانفشانی سے محکم ڈوری باندھی ہو اور پھر خود ہی اسے اپنے ہاتھوں سے کھول دیا ہو اور اپنی محنت پر پانی پھیر دیا ہو۔ تم منافقانہ طور پر ایسی جھوٹی قسمیں کھاتے ہو جن میں کوئی صداقت نہیں۔ تم جتنے بھی ہو، سب کے سب بیہودہ گو، بڑی بڑی بھڑکیں مارنے والے، پیکر فسق و فجور اور فسادی، کینہ پرور اور لونڈیوں کی طرح جھوٹے چاپلوس اور دشمنی کے غماز ہو۔ تمہاری مثال کثافت (گندگی) پر اگنے والے سبزے یا اس چاندی جیسی ہے کہ جو دفن شدہ عورت (کی قبر) پر رکھی جائے۔ آگاہ رہو! تم نے بہت ہی برے اعمال کا ارتکاب کیا ہے۔ جس کی وجہ سے خداوند عالم تم پر غضب ناک ہے۔ اس لیے تم اس کے ابدی عذاب و عتاب میں گرفتار ہو گئے۔ اب کیوں گریہ و زاری کرتے ہو؟ ہاں بخدا البتہ تم اس کے سزاوار ہو کہ زیادہ گریہ کرو اور کم ہنسو۔ تم اپنے امام (علیہ السلام) کے قتل میں ملوث ہو چکے ہو اور تم اس داغ کو کبھی دھو نہیں سکتے اور بھلا تم خاتم نبوت اور معدن رسالت کے فرزند اور جوانان جنت کے سردار کے قتل کے الزام سے کیونکر بری ہو سکتے ہو۔ لعنت ہو تم پر اور ہلاکت ہے تمہارے لیے۔ تم نے بہت ہی برے کام کا ارتکاب کیا ہے اور آخرت کے لیے بہت برا ذخیرہ جمع کیا ہے۔ تمہاری کوشش رائیگاں ہو گئی اور تم برباد ہو گئے۔ تمہاری تجارت خسارے میں رہی اور تم خدا کے غضب کا شکار ہو گئے ہو۔ تم ذلت و رسوائی میں مبتلا ہوئے ہو۔ افسوس ہے اے اہل کوفہ تم پر، کچھ جانتے بھی ہو کہ تم نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے کس جگر گوشہ کو پارہ پارہ کر دیا ہے؟ اور ان کا کون سا خون بہایا ہے؟ اور ان کی کون سی ہتک حرمت کی؟ اور ان کی کن مستورات کو بے پردہ کیا ہے؟ تم نے ایسے پست اعمال کا ارتکاب کیا ہے کہ آسمان گر پڑیں، زمین پھٹ جائے اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ تم نے قتلِ امام (علیہ السلام) کا سنگین جرم کیا ہے، جو وسعت میں آسمان و زمین کے برابر ہے۔ اگر اس قدر بڑے گناہ پر آسمان سے خون برسے تو تعجب نہ کرو۔ یقیناً آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ سخت اور رسوا کن ہو گا اور اس وقت تمہاری کوئی امداد نہ کی جائے گی۔ تمہیں جو مہلت ملی ہے اس سے خوش نہ ہو کیونکہ خداوندِ عالم بدلہ لینے میں جلدی نہیں کرتا اور اسے انتقام کے فوت ہو جانے کا خدشہ نہیں ہے۔ یقیناً تمہارا خدا اپنے نا فرمان بندوں کی گھات میں ہے۔

4