کیا کربلا میں اس عظیم و دشوار ذمہ داری کے لیے زینب کبری (سلام اللہ علیہا) کو تیار کیا تھا؟
اگرچہ زینب کبری (سلام اللہ علیہا) روحی اعتبار سے تحمل اور برداشت کی قدرت رکھتی تھیں، لیکن پھر بھی یہ حادثہ اتنا درد ناک اور ذمہ داری اتنی سنگین تھی کہ آپ جیسی شیر دل خاتون کو بھی پہلے سے تیار ہونا پڑا۔ اسی لیے بچپن ہی سے ایسے عظیم سانحے کے لیے معصوم کی آغوش میں رہ کر اپنے آپ کو تیار کر رہی تھیں۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کے ایام نزدیک تھے، آپ اپنے جد بزرگوار کی خدمت میں گئیں اور عرض کی: اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کل رات میں نے خواب دیکھا کہ تند ہوا چلی جس کی وجہ سے پوری دنیا تاریک ہو جاتی ہے۔ یہ تند و تیز ہوا مجھے ایک طرف سے دوسری طرف پہنچا دیتی ہے، اچانک میری نظریں ایک تن آور درخت پر پڑتی ہیں، تو میں اس درخت کے نیچے پناہ لیتی ہوں، لیکن ہوا اس قدر تیز چلتی ہے کہ وہ درخت بھی جڑ سے اکھڑ جاتا ہے، اور زمین پر گرتا ہے تو میں ایک مضبوط شاخ سے لپٹ کر پناہ لینے کی کوشش کرتی ہوں، لیکن ہوا اس شاخ کو بھی توڑ دیتی ہے، میں دوسری شاخ پکڑ کر پناہ لینے کی کوشش کرتی ہوں، ہوا اسے بھی توڑ دیتی ہے۔ آخر کار دو شاخیں ملی ہوئی پاتی ہوں تو میں ان کا سہارا لیتی ہوں، لیکن ہوا ان دو شاخوں کو بھی توڑ دیتی ہے۔ اسوقت میں نیند سے بیدار ہو جاتی ہوں۔! زینب کبری (سلام اللہ علیہا) کی باتوں کو سن کر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنسو جاری ہو ئے اور فرمایا: اے نور نظر! وہ درخت آپ کے جد گرامی ہیں، بہت جلد تند اور تیز ہوا اسے اجل کی طرف لے جائیگی، اور پہلی شاخ آپ کے بابا اور دوسری شاخ آپ کی ماں زہرا (سلام اللہ علیہا) اور دو شاخیں جو ساتھ ملی ہوئی تھیں وہ آپ کے بھائی حسن اور حسین (علیہما السلام) تھے، جن کے غم و سوگ میں دنیا تاریک ہو جائے گی اور آپ کالا لباس زیب تن کریں گی۔ چھ سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ جد گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رحلت کا سوگ برداشت کرنا پڑا، پھر تھوڑی ہی مدت کے بعد مادر گرامی کی مصیبت ، پھر اپنے والد گرامی کی شہادت کا غم اور اس کے بعد امام حسن مجتبی اور امام حسین مظلوم کربلا (علیہما السلام) کی مصیبت برداشت کرنی پڑی۔ جب مدینے سے مکہ، مکہ سے عراق، عراق سے شام کی مسافرت کی تفصیلات بیان کی گئیں تو بغیر کسی چون و چرا کے اپنے بھائی کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو جاتی ہیں، اور اپنے بھائی کے ساتھ اس سفر پر نکلتی ہیں۔ گویا ایسا لگتا ہے کہ کئی سال پہلے اس سفر کے لیے پیشن گوئی کی گئی ہو۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے عقد نکاح میں بھی اپنے بھائی کے ساتھ سفر پر جانے کو مشروط قرار دیا تھا۔ اور جب قافلہ حسینی مدینے سے نکل رہا تھا، عبد اللہ بن جعفر الوداع کرنے آئے، تو زینب کبری (سلام اللہ علیہا) نے کہا : اے چچا زاد عبد اللہ! آپ میرے آقا ہو۔ اگر آپ اجازت نہ دیں، تو میں نہیں جاؤں گی، لیکن یہ یاد رکھنا کہ میں بھائی سے بچھڑ کر زندہ نہیں رہ سکوں گی۔ تو جناب عبد اللہ نے بھی اجازت دے دی اور آپ بھائی کے ساتھ سفر پر روانہ ہو گئیں۔ (ریاحین الشریعہ ،ج 3، ص 15)