logo-img
رازداری اور پالیسی
3 سال قبل

امام حسن (علیہ السلام) کی نگاہ میں

امام حسن مجتبی (علیہ السلام) کی نگاہ میں حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کا مقام و مرتبہ کیا تھا؟


امام حسن مجتبی (علیہ السلام) بھی حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کے بلند مقام کی وجہ سے ان پر فخر و مباہات کیا کرتے تھے۔ امام مجتبی نے سورہ انفطار کی آیت 18 فِي أَي صُورَةٍ مَا شَاءَ رَكَّبَكَ ، کے ذیل میں فرمایا ہے کہ: صَوَّرَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ عَلِي بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي ظَهْرِ أَبِي طَالِبٍ عَلَى صُورَةِ مُحَمَّدٍ فَكَانَ عَلِي بْنُ أَبِي طَالِبٍ أَشْبَهَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللَّهِ ص وَ كَانَ الْحُسَينُ بْنُ عَلِي أَشْبَهَ النَّاسِ بِفَاطِمَةَ وَ كُنْتُ أَنَا أَشْبَهَ‏ النَّاسِ‏ بِخَدِيجَةَ الْكُبْرَى. خداوند نے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام)کو ابو طالب کی پشت میں، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صورت میں خلق فرمایا، پس اسی وجہ سے علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) لوگوں میں سب سے زیادہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مشابہے تھے اور حسین ابن علی (علیہ السلام) لوگوں میں سب سے زیادہ فاطمہ (سلام اللہ علیہا) کے مشابہے تھے اور میں لوگوں میں سب سے اپنی جدہ زیادہ خدیجۃ الکبری (سلام اللہ علیہا) کے مشابہے ہوں۔ امام حسن (علیہ السلام) کی خلافت کے دور میں جب معاویہ ملعون نے خلافت کو زبردستی اپنے ہاتھ میں لیا تو اس نے مسجد کوفہ کے منبر پر بیٹھ کر خطبہ دیا اور علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کو برا بھلا کہا، امام حسن (علیہ السلام) بھی وہاں موجود تھے، انھوں نے معاویہ کو جواب دیتے ہوئے، اپنے نسب کا ایسے ذکر کیا: أَيهَا الذَّاكِرُ عَلِياً أَنَا الْحَسَنُ وَ أَبِي عَلِي وَ أَنْتَ مُعَاوِيةُ وَ أَبُوكَ صَخْرٌ وَ أُمِّي فَاطِمَةُ وَ أُمُّكَ هِنْدٌ وَ جَدِّي رَسُولُ اللَّهِ وَ جَدُّكَ حَرْبٌ وَ جَدَّتِي خَدِيجَةُ وَ جَدَّتُكَ قُتَيلَةُ فَلَعَنَ اللَّهُ أَخْمَلَنَا ذِكْراً وَ أَلْأَمَنَا حَسَباً وَ شَرَّنَا قَدَماً وَ أَقْدَمَنَا كُفْراً وَ نِفَاقاً- فَقَالَ طَوَائِفُ مِنْ أَهْلِ الْمَسْجِدِ آمِينَ آمِينَ. اے علی کا ایسے (برائی کے ساتھ) ذکر کرنے والے، میں حسن ہوں اور میرا باپ علی ہے، تم معاویہ اور تمہارا باپ صخر ہے، میری والدہ فاطمہ ہیں اور تیری ماں ہند ہے، میرے جد رسول خدا ہیں اور تیرا جد حرب ہے، میری جدہ خدیجہ ہیں اور تیری جدہ قتیلہ ہے، پس خداوند ہم میں سے اس پر لعنت کرے کہ جسکا نام پلید تر اور جس کا حسب و نسب، پست تر ہے، اور جس کا ماضی بہت برا ہے اور جس کا کفر و نفاق پہلے سے تھا، مسجد کوفہ میں موجود سب لوگوں نے بلند آواز سے دو مرتبہ آمین کہا۔ اس عبارت میں امام حسن (علیہ السلام) نے اپنے اور معاویہ کے حسب کا موازنہ کرتے ہوئے، فخر سے اپنی جدہ کے طور پر حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کا ذکر کیا ہے۔ اسی طرح جب معاویہ مدینہ میں امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) کی برائی کرنا چاہتا تھا تو وہ ملعون منبر پر بیٹھ کر ادھر ادھرامام حسن (علیہ السلام) کو دیکھنے لگا، امام حسن (علیہ السّلام)اچانک اس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور فخر سے اپنے حسب و نسب کا ذکر کیا اور یہاں پر بھی فخر سے ام المؤمنین حضرت خدیجہ (سلام اللہ علیہا) کے نام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: كَانَ وَصِي رَسُولِ اللَّهِ مِنْ بَعْدِهِ وَ أَنَا ابْنُ عَلِي وَ أَنْتَ ابْنُ صَخْرٍ وَ جَدُّكَ حَرْبٌ وَ جَدِّي رَسُولُ اللَّهِ وَ أُمُّكَ هِنْدٌ وَ أُمِّي فَاطِمَةُ وَ جَدَّتِي‏ خَدِيجَةُ وَ جَدَّتُكَ نَثِيلَةُ فَلَعَنَ اللَّهُ أَلْأَمَنَا حَسَباً وَ أَقْدَمَنَا كُفْراً وَ أَخْمَلَنَا ذِكْراً وَ أَشَدَّنَا نِفَاقاً فَقَالَ عَامَّةُ أَهْلِ الْمَجْلِسِ آمِين‏. بے شک علی ابن ابی طالب (علیہ السلام)، رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے بعد ان کے وصی ہیں، اور میں علی کا فرزند اور تم صخر کے بیٹے ہو، تمہارا جد حرب ہے اور میرے جد رسول خدا ہیں، تمہاری ماں ہند ہے اور میری والدہ فاطمہ ہیں، اور میری جدہ خدیجہ ہیں اور تیری جدہ نثیلہ ہے، پس خداوند ہم میں سے اس پر لعنت کرے کہ جسکا نام پلید تر اور جسکا حسب و نسب، پست تر ہے، اور جسکا ماضی کفر و نفاق میں گزرا ہے۔ اس پر مسجد میں موجود اکثر لوگوں نے بلند آواز سے آمین کہا۔ معاویہ کی جدہ (نانی) کے طور پر، تین نام ذکر ہوئے ہیں: نثيلہ، فتيلہ اور قتيلہ، یہ تو جدہ کی بات ہے، اہل سنت عالم زمخشری نے اپنی کتاب ربیع الابرار میں لکھا ہے کہ خود معاویہ کے چار باپ تھے۔۔۔۔ (ابن شهرآشوب، رشيد الدين أبي عبد الله محمد بن علي السروي المازندراني (متوفى588هـ)، مناقب آل أبي طالب، ج 4 ص 2 ، تحقيق: لجنة من أساتذة النجف الأشرف، البغدادي، الشيخ المفيد محمد بن محمد بن النعمان، العكبري ، _متوفي 413 ق_ ، الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، ج 2 ص 15 ، تحقيق : مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث، الطبرسي، أبي منصور أحمد بن علي بن أبي طالب _متوفى 548 ق_، الاحتجاج، ج 1 ص 282 ، تحقيق: تعليق وملاحظات: السيد محمد باقر الخرسان)

4