کیا کربلا میں حبیب ابن مظاہر نے بنی اسد کے لوگوں کو مدد کیلے بلایا؟
حبیب نے کربلا پہنچتے ہیں ایک بار امام (علیہ السلام) کی نسبت اپنی وفاداری میدان عمل میں ثابت کردی۔ جب دیکھا کہ امام (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی تعداد بہت کم اور آپ (علیہ السلام) کے دشمنوں کی تعداد کثیر ہے تو امام(علیہ السلام) سے عرض کیا: "قریب ہی قبیلۂ بنو اسد کا مسکن ہے؛ آپ اجازت دیں تو میں جاکر آپ کی مدد کی دعوت دوں گا شاید خدا انہیں ہدایت دے"، امام (علیہ السلام) نے اجازت دی تو حبیب عجلت کے ساتھ اپنے قبیلے میں پہنچے اور ان کو موعظت و نصیحت کی لیکن عمر سعد نے ایک لشکر بھیج کر بنو اسد کو امام (علیہ السلام) کی طرف آنے سے روک لیا۔[1] عصر تاسوعا ایک شخص اس روز عمر سعد کا ایک خط امام حسین کے لئے لایا تو حبیب ابن مظاہر نے اس کو نصیحت کرتے ہوئے کہا: ظلم و ستم والوں کے پاس مت جاؤ۔[2] عصر تاسوعا حبیب بن مظاہر نے خیام امام پر حملے کا ارادہ رکھنے والی دشمن کی سپاہ کو نصیحت کرتے ہوئے امام حسین (علیہ السلام) اور آپ کے اصحاب کے اوصاف بیان کئے اور انہیں جنگ سے پرہیز کرنے کی تلقین کی۔[3] [1]الامین، اعیان الشیعہ، ج4، ص554۔
[2]سماوی، ابصار العین فی انصار الحسین، ص130۔
[3]بلاذری، انساب الاشراف، ج2، ص484۔