ایک مختصر
۱۔ قرآن نے ایک طرف متعدد جگهوں پر انسان کے بلند و بالا رتبه کا اعلان کیا ہے لیکن دوسری طرف بهت سی آیتوں میں اس کی مذمت اور سرزنش بھی کی ہے۔
۲۔ انسان کی حرکت، بےانتها بلندی و پستی کی سمت ہوتی ہے اور اس کی کوئی حد نهیں ہوتی۔ اور یه انسان کی غیر معمولی صلاحیت کے سبب ہے۔
۳۔ انسان دو پهلو مخلوق ہے؛ ایک روحانی و ملکوتی اوردوسری حیوانی و نفسانی۔
۴۔ انسان دوسرے موجودات کے برخلاف اراده و اختیار سے بهره مند ہے اور خود ہموار کی ہوئی زمین پر اپنے اختیار کے ساتھ زندگی کا راسته انتخاب کرتا ہے۔
۵۔ وه لوگ خلیفۃ الله کے منصب تک پهنچتے ہیں جو الهی ہدایت کو اپنائیں اور سرکش آرزؤں اور حیوانی صفات کو کنٹرول کریں۔
تفصیلی جوابات
قرآن کریم کا سرسری مطالعه کرکے ہم اس نتیجه پر پهنچ سکتے ہیں که انسان کے بارے میں دو طرح کی آیات ملتی ہیں: پهلے دسته میں وه آیتیں ہیں جو انسان کی عظمت بیان کرتی ہیں اور اس کی شان کو بیان کرتی ہیں۔ مثلا یه آیتیں:
۱۔ اور ہم نے بنی آدم کو کرامت عطا کی ہے اور انهیں خشکی اور دریاؤں میں سواریوں پر اٹھایا ہے، انهیں پاکیزه رزق عطا کیا ہے اور اپنی مخلوقات میں سے بهت سوں پر فضیلت دی ہے ۔[1]
۲۔ اے رسول اس وقت کو یاد کرو جب تمهارے پروردگار نے ملائکه سے کها که میں زمین میں اپنا خلیفه بنانے والا ہوں اور انهوں نے کها که کیا اسے بنائے گاجو زمین میں فساد برپا کرے اور خونریزی کرے جب که ہم تیری تسبیح اور تقدیس کرتے ہیں توارشاد ہوا که میں وه جانتا ہوں جو تم نهیں جانتے۔[2]
۳۔ بیشک ہم نے امانت کو آسمانً زمین اور پهاڑ سب کے سامنے پیش کیا اور سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور خوف ظاہر کیا پس انسان نے اس بوجھ کو اٹھالیا که انسان اپنے حق میں ظالم اور نادان ہے۔[3] دوسرے دسته میں وه آیتیں ہیں جن میں انسان کی مذمت کی گئی ہے اور سخت لفظوں میں اس کی سرزنش کی گئی ہے مثلا: وه بالکل مایوس اور بے آس ہوجاتا ہے،[4] انسان سرکشی کرتا ہے،[5] بیشک انسان بڑا ظالم اور انکار کرنے والا ہے،[6] انسان اپنے حق میں ظالم اور نادان ہے،[7] ہمارا کھلا ہوا دشمن ہوگیا ہے۔[8] بے شک انسان خساره میں ہے،[9] وغیره۔اب ان آیات کو ملاحظه کرنے کے بعد یه سوال اٹھتا ہے که آخر بات کیا ہے؟ ظاہری اعتبار سے ان متضاد آیتوں کی مراد کیاہے؟ اس سوال کے جواب کے لئے بهتر ہے که خود قرآن سے مدد لیں؛ چونکه اس آسمانی کتاب کی بعض آیتیں بعض دوسری آیتوں کی تفسیر کرتی ہیں۔سوره بیّنۃ میں ہم پڑھتے ہیں:‹بے شک اهل کتاب میں جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے اور دیگر مشرکین سب جهنمّ میں ہمیشه رہنے والے ہیں اور یهی بدترین خلائق ہیں اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انهوں نے نیک اعمال کانجام دئے ہیں وه بهترین خلائق ہیں›۔[10]ایک سورے کی ان دو ملی ہوئی آیتوں میں انسان کو بهترین اور بدترین دونوں کا عنوان دیا گیا ہے اور یه اس کی بلندی اور پستی کی بےانتهائی کو بتاتا ہے۔ کهنے کا مطلب یه ہے که اگر ایمان اور عمل صالح والا ہوگا تو الله کی بهترین مخلوق ہوگا اور اگر کفر و گمراہی اور الحاد و انکار کی راه کو اپنائے گا تو اس طرح سقوط کرے گا که الله کی بدترین مخلوق ہوجائے گا۔حضرت علی (علیه السلام) ایک روایت میں فرماتے ہیں: ‹الله نے کائنات کی خلقت کو تین طرح کا پیدا کیا: فرشتے، حیوان اور انسان؛ فرشتوں کے پاس عقل ہے لیکن شهوت وغضب نهیں ہے، حیوانات میں شهوت و غضب ہے لیکن عقل نهیں ہے، لیکن انسان کے پاس شهوت و غضب بھی ہے اور عقل بھی ان میں سے اگر عقل غالب آگئی تو وه فرشتوں سے بھی برتر ہے اور اگر شهوت و غضب غالب آگئے تو حیوانوں سے بھی پست تر ہے›۔[11] اس نورانی روایت سے نتیجه نکالا جاسکتا ہے که جس طرح انسان دوبعدی (روحانی و نفسانی) مخلوق ہے اسی طرح اس کے رجحانات اور خواہشات بھی دو طرح کے ہیں (روحانی رجحانات اور نفسانی رجحانات) اور وه الله کی طرف سے عطا کئے گئے اراده و اختیار کی بنیاد پر ان میں سے کسی کا بھی انتخاب کر انسانی معراج پر پهنچ سکتا ہے یا پھر اتنا پست بھی ہوسکتا ہے که قرآن کے بقول حیوان سے بھی گر جائے۔[12]لهٰذا قرآن کی آیتیں اس حقیقت سے پرده اٹھاتی ہیں که تمام انسان صلاحیت و استعداد کے مرحلے تک اس کی اہلیت رکھتے ہیں که بهترین محترم ترین بلکه فرشتوں سے بھی زیاده برتر ہوجائیں اوروه ان بالقوۃ صلاحیتوں کو فعال کرکے خلیفۃ الله کے درجه تک پهنچ سکتے ہیں؛ لیکن اگر الله کی عطا کرده اس استعداد سے اسفتاده نه کریں تو الهی مذمت کے اهل قرار پائیں گے جس کا مختصر تذکره ہم نے کیا ہے۔مزید معلومات کے لئے رجوع کریں:المیزان (ترجمه فارسی)، ج16، ص524۔527؛ تفسیر نمونه، ج8، ص242، ج17، ص451،457
[1] اسرا/70
[2] بقره/30
[3] احزاب/72
[4] فصلت49/50/51
[5] علق/6
[6] ابراهیم/34
[7] احزاب/72
[8] یس/77
[9] عصر/2
[10] بیّنه6/7
[11] تفسیر نور الثقلین، ج3، ص188
[12] ‹اولئک کالانعام بل هم اضل›، اعراف/179