logo-img
رازداری اور پالیسی
( 26 Year ) - عراق
3 سال قبل

امام زمانہ (عج) سے ملاقات

کيا امام زمانہ (عج) سے ملاقات ممکن ہے؟


وجود امام زمانہ (عج) پر اعتقاد اور ان کي امامت کو قبول کرنا ايک واضح مسئلہ ہے کہ جس کا شمار مذہب شيعہ کي ضروريات ميں سے کيا جاتا ہے۔ عقلي،قرآني اور حديثي دلائل کے ذريعے يہ اعتقاد اب تک بطور احسن روشن اور واضح کيا گيا ہے ليکن زمانہ غيبت کي خاص تاريخي شرائط کے پيش نظر بہت سي بحثيں ابھي تک تشنئہ کام پڑي ہيں، مثلا زمانہ غيبت ميں حضرت حجت (عج) کي زندگي کي خصوصيات، شيعي نظريہ ميں مسئلہ غيبت کے آثار، فوائد اور نتائج، غيبت کے طولاني ہونے کے عوامل اور اس ميں لوگوں کا کردار،ظہور کي شرائط اور علامات وغيرہ، ابھي تک بہت کم بحثيں ہوئي ہيں کہ ان مسائل کے تمام زاويوں کو زير بحث لايا جائے انہي موضوعات کي طرح ايک موضوع جو اپني تمام تر اہميت وضرورت کے باوجود ابھي تک تحقيق کے ترازو ميں نہيں تولا گيا وہ اس زمانے ميں امام زمانہ (عج) کي زيارت اور ان سے ملاقات ہے کو جو امام کے آخري نائب کي رحلت کے بعد سے ابھي تک شيعوں کے درميان رائج رہا ہے، اور مختلف جہتوں اور زاويوں سے بحث اور تحقيق کا محتاج ہے اور دوسري طرف موضوع کي پيچيدگياں ،علمي صلاحيت کے ساتھ ساتھ موضوع کي شکل اور قالب کے لحاظ سے بھي دقت کي طلبگار ہيں کيونکہ ہر قسم کي کج فکري اور افراط وتفريط اس مسئلہ کو پيش کرنے ميں مشکلات ايجاد کرسکتي ہے اور اسي بناء پر انسان کا وسيع النظر اور معتدل ہونا،اس وادي ميں قدم رکھنے کي مہمترين شرط ہے ۔ موجودہ کتابوں ميں بہت کم ايسي کتابيں مليں گي جن ميں اس موضوع کے عوامل اور اس کے نتائج پر بحث کي گئي ہو زيادہ تر کتابوں ميں حالات زندگي اور حکايات کو نقل کيا گيا ہے کہ ان ميں سے بھي بعض عوامانہ طرز پر لکھي گئي ہيں،امام زمانہ (عج) کي ملاقات کے واقعات اور داستانيں بغير کسي بحث اور تحقيق کے جمع کي گئي ہيں کہ جن کے ذريعے اس موضوع ميں کئي مبہم مطالب کا اضافہ ہوا ہے اس مختصر سے مضمون ميں کوشش کي گئي ہے کہ افراط وتفريط سے بالاتر ہوکر علمي اور روشمند طريقے سے اس موضوع پر بحث کي جائے جس کا اصلي سوال يہ ہے کہ کيا غيبت کبريٰ کے زمانہ ميں حضرت امام زمانہ (عج) کي زيارت ممکن ہے يا نہيں؟ يا اتفاقا ملاقات ہوسکتي ہے يا نہيں؟ روايات اس بارے ميں کيا کہتي ہيں؟ شيعہ علماء اصل مسئلہ (يہ کہ زمانہ غيبت ميں حضرت حجت (عج) کي زيارت ممکن ہے) کو اجمالا قبول کرتے ہيں اگرچہ اس مسئلہ کي خصوصيات اور جزئيات ميں اختلاف نظر پايا جاتا ہے اور بعض علماء نے اس مسئلہ کي ترديد اور اس کا انکار کيا ہے ۔ موضوع کي تمام زاويوں سے علمي بحث کےليے اس موضوع کو تين بابوں ميں تقسيم کيا گيا ہے: ۱۔ موضوع کي وضاحت اور موضوع کي حد بندي وغيرہ ۲۔ جو زيارت کو ممکن سمجھتے ہيں ان کے دلائل ۳۔ اور تيسرے باب ميں ان علماء کے دلايل پر بحث ہوگي جو زيارت کو غيبت کے زمانہ ميں ممکن نہيں سمجھتے ۔ پہلا باب: توقيع شريف: غيبت صغريٰ ميں جب امام زمانہ (عج) کا تمام لوگوں سے رابط نہيں تھا بلکہ خاص نائب تھے جو لوگوں اور امام زمانہ (عج) کے درميان واسطہ ہوا کرتے تھے لوگوں کے مسائل امام تک پہچانا اور ان کا جواب لوگوں تک پہچانا ان کا اولين فريضہ تھا اور جو تحرير ايک خط کي صورت ميں امام زمانہ (عج) کي طرف ان کو ملتي تھي اس کو توقيع کہا جاتا ہے ۔ ملاقات کا معني: ملاقات يعني دوسرے شخص کے ساتھ ايسا ارتباط جو گفتگو اور شناخت کو بھي شامل ہو۔ امام عصر (عج) کے ساتھ ملاقات کا اصطلاح اور عرف ميں معني يہ ہے کہ امام (عج) کے وجود مبارک کو ديکھنا، گفتگو کرنا وغيرہ ہوسکتا ہے يہ ملاقات عالم خواب ميں ہوئي ہو يا بيداري کے عالم ميں ۔ خواب ميں ملاقات: ايسي ملاقات کہ جس کا ظرف اور جگہ عالم خواب ہے شخص حضرت امام زمانہ(عج) سے عالم خواب کے اعتبار سے ملاقات کرتا ہے اور گفتگو کرتا ہے، ايسي ملاقات مختلف اشخاص کے ليے ممکن ہے، مخصوصا جب انسان روحي اعتبار سے قوي ہو اور عمل وکردار کے حوالے سے بھي پختہ ہو، البتہ عالم خواب نہ حجت ہے اور نہ شرعي اعتبار سے تکليف کا سبب بنتا ہے۔ بيداري کے عالم ميں ملاقات: يعني انسان بيداري کے عالم ميں اپني ظاہري آنکھوں کے ذريعے حضرت حجت کي زيارت کرے اور ان کے ساتھ گفتگو کرے، ايسي ملاقات کي تين مختلف صورتيں ہوسکتي ہيں: الف: حضرت حجت کي زيارت، غير حقيقي عنوان کے اعتبار سے: اس طرح کہ ملاقات کرنے والا اور حضرت حجت کي زيارت کرنے والا اصلا متوجہ نہ ہو کہ يہي امام زمانہ(عج)ہيں اور اس کو پتہ بھي نہ چلے اور بعد ميں بھي اسے پتہ نہ چلے کہ کبھي امام کي زيارت ہوئي تھي۔ يہ ہماري بحث سے خارج ہے کيونکہ اس کو نہ ملاقات کے وقت پتہ چلتا ہے کہ يہي امام ہيں اور نہ ملاقات کے بعد کبھي معلوم ہوتا ہے کہ امام سے ملاقات ہوئي تھي اور ممکن ہے کہ يہ صورت اکثر افراد کے ليے پيش آئے جس طرح کہ بعض روايات ميں آيا ہے اور آگے چل کر ان روايات کو بيان بھي کيا جائے گا۔ ب: امام سے ملاقات اس عنوان سے کہ ملاقات کرنے والا ملاقات کے وقت امام کو پہچانتا ہو کہ يہي امام زمانہ (عج) ہيں۔ يہ ہماري بحث ميں شامل ہے اور بحث ہوگي کہ کيا ايسي ملاقات غيبت کے زمانہ ميں ممکن ہے يا نہيں؟ ج: امام سے ملاقات کرے ليکن دوران ملاقات معلوم نہ ہو کہ يہي امام زمانہ (عج) ہيں ليکن ملاقات کے بعد پتہ چلے کہ وہ امام زمانہ (عج) تھے يہ بھي ہماري بحث ميں شامل ہے۔ آخري دو صورتيں ہماري بحث ميں شامل ہيں البتہ اصل بحث کو شروع کرنے سے پہلے چند ايک اہم سوالات کو ذکر کرنا مناسب ہے کيونکہ ہماري يہ تحقيق انہي سوالوں کے گرد گھومتي ہے۔ کيا غيبت کبري ميں امام زمانہ (عج) کي زيارت اور ان سے ملاقات ممکن ہے؟ اگر بالفرض ممکن ہے تو کيا سب کے ليے يہ توفيق ميسر ہے يا صرف خاص اشخاص اور خاص شرائط کے ساتھ ممکن ہے؟ غيبت کا معني کيا ہے؟ کيا غيبت سے مراد اصلا امام کے وجود مبارک کا نظر نہ آنا ہے يا مراد امام کا گمنام ہونا ہے اگرچہ نظر آئيں؟وغيرہ پہلے سوال کے جواب ميں کہا جاسکتا ہے کہ اس کے جواب سے دو طرح سے بحث کي جا سکتي ہے، اولا يہ کہ کيا عقلا ممکن ہے امام سے ملاقات يا نہيں؟ اگر جواب مثبت ہے تو پھر يہ سوال ہوگا کہ کيا واقع ميں بھي کسي کي امام سے ملاقات ہوئي ہے يا نہيں؟ جہاں تک امکان عقلي کا تعلق ہے کہ کيا عقلي طورپر بھي امام سے ملاقات ممکن ہے؟ تو اس کا جواب واضح اور روشن ہونے کہ وجہ سے زيادہ بحث کا محتاج نہيں،کيونکہ امام سے ملاقات کے ممکن ہونے پر شيعہ علماء کا اتفاق ہے شايد کوئي ہو جس نے يہ کہا ہو کہ امام سے ملاقات عقلا ممکن نہيں کيونکہ امام سے ملاقات نہ تناقض کا سبب ہے اور نہ استحالہ کا سبب تاکہ عقلي طورپر ناممکن کہيں بلکہ عقلي دلايل الٹا ملاقات کے ممکن ہونے پر دلالت کرتے ہيں جيسے امامت کا فلسفہ، زمين کا حجت خدا سے خالي نہ ہونا، لوگوں کا امام کے وجود کا محتاج ہونا وغيرہ اگر غيبت کے زمانے ميں لوگ امام کے ظاہري وجود سے محروم ہيں تو اس کا مطلب يہ نہيں کہ لوگوں کو امام کي ضرورت ہي نہيں ہے، بلکہ امام کے ظاہري وجود مبارک سے محرومي اس رکاوٹ کي وجہ سے ہے کہ جس کو ان روايات ميں بيان کيا گيا ہے کہ جو روايات غيبت کے فلسفے کو بيان کرتي ہيں ان روايات ميں ان رکاوٹوں کو بيان کيا گيا ہے کہ کيوں لوگ امام کے ظاہري وجود سے محروم ہيں جيسے قتل کا ڈر، ظالم حکمرانوں کے ہاتھوں پر بيعت نہ کرنا، لوگوں کا آمادہ نہ ہونا وغيرہ اب اگر لوگ امام کے محتاج ہيں اور ضرورت ہے تو يہ کافي نہيں ہے بلکہ ان رکاوٹوں کو ہٹانا بھي ضروري ہے جن ميں سے آج سب سے زيادہ مہم اپنے آپ کي اور لوگوں کي تربيت ہے، اور ظہور کے زمينہ کو ہموار کرنا ہے۔ البتہ يہ رکاوٹيں امام کے ظہور سے مانع ہيں نہ يہ کہ امام کسي ايک شخص سے بھي نہيں مل سکتے ہوسکتا ہے کہ ايک شخص ميں تمام شرائط پائي جائيں اور تمام رکاوٹيں اس شخص کي نسبت ہٹ جائيں تو امام سے ملاقات ممکن ہوسکتي ہے، شيخ طوسي کا بھي يہي نظريہ ہے اسي طرح وہ واقعات اور روايات جو امام کے ساتھ ملاقات کو بيان کرتي ہيں اس مسئلے کو مزيد روشن کرديتي ہيں وہ چيز جس پر دقت کي ضرورت ہے وہ يہ ہے کہ کيا واقع ميں بھي کسي کي ملاقات امام سے ہوئي ہے يا نہيں؟ مختلف نظريات پائے جاتے ہيں بعض اصلا قبول نہيں کرتے کہ واقع ميں غيبت کبريٰ کے زمانہ ميں کسي شخص کي امام سے ملاقات ہوئي ہو اور بعض قبول کرتے ہيں ليکن ہر روايت اور واقعہ کو نہيں بلکہ خاص افراد کے ليے اور خاص شرائط کے پيش نظر قبول کرتے ہيں۔ اس مضمون ميں جو چيز مہم ہے وہ دونوں طرف سے پيش کيے گئے دلائل کي تحقيق ہے تاکہ مذہبي احساسات سے بالاتر ہوکر علمي معيار کي بناپر دونوں طرف کے دلائل کو علمي اصولوں کي کسوٹي پر پرکھا جائے۔ امام سے ملاقات ميں جو اختلاف پايا جاتا ہے کہ بعض کہتے ہيں واقع ميں ممکن ہے اور بعض نفي کرتے ہيں۔ اس اختلاف کي اصلي وجہ (خود امام کے غيب ہونے سے مراد کيا ہے؟) اس ميں اختلاف ہے۔ کيا امام کے غائب ہونے کا مطلب اصلا امام کے وجود کا غائب ہونا ہے يا مراد عنوان کا مخفي ہونا ہے (يعني ممکن ہے انسان امام کو ديکھے ليکن پہچان نہ سکے اور معلوم نہ ہوسکے کہ يہي امام ہيں)، البتہ يہ سوال ان روايات سے پيدا ہوتا ہے جو امام کي غيبت کے بارے ميں بيان ہوئي ہيں۔ امام کے وجود کے غائب ہونے کا مطلب ہے کہ کوئي فوق العادہ طاقت کارفرما ہے اور يہ مطلب دو طرح سے سمجھا جا سکتا ہے:پہلا يہ کہ يا مراد يہ ہے کہ امام غيبت کے زمانے ميں موجودہ عادي اور مادي شرائط سے بالاتر ہيں، جيسا کہ شيخيہ کہتے ہيں اور جس عالم ميں امام زمانہ (عج) ہيں اس عالم کو ھورقليا کا نام ديتے ہيں (کہ امام ايک روح کي صورت ميں موجود ہيں) يا مراد امام کا دنيا ميں تصرف ہے البتہ اس قدرت تکويني کے ذريعہ جو خداوند نے انہيں عطا کي ہے۔ اب اگر ہم غيبت سے مراد، امام کے وجود مبارک کا غيب ہونا مراد ليں تو پھر امام سے ملاقات اور ان کي زيارت کے بارے ميں بحث بے فائدہ ہے، کيونکہ امام کا وجود ہي اس دنيا سے غائب ہوچکا ہے تو ملاقات اور زيارت معني نہيں رکھتيں، ہاں اگر مراد دوسري صورت ليں يعني امام اس دنيا ميں ہي ہيں البتہ نآشنا کے طور پر ايک اجنبي کے طور پر کہ کوئي پہچان نہيں سکتا کہ امام ہيں تو يہاں بحث فائدہ دے گي اور بحث کي جاسکتي ہے کہ کسي نے امام کي زيارت کي ہے يا نہيں؟ اجمالي طورپر جو بات حديثوں سے معلوم ہوتي ہے وہ يہ ہے کہ امام، غيبت کے زمانہ ميں بھي طبيعي اور اسي جسم کے ساتھ زندگي گزار رہے ہيں جيسا کہ اگر غيبت واقع نہ ہوتي تو امام زندگي گزارتے۔ اس بنا پر ان روايات کي طرف توجہ کرني چاہيے جو امام کي زندگي گزارنے کے بارے ميں وارد ہوئي ہيں جو الفاظ اور کلمات ان حديثوں ميں آئے ہيں مثلا "لاترون شخصه"(۱) "اس کو کوئي ديکھ نہيں سکتا"،يا "فيراھم ولايرونه"(۲)،و "يري الناس ولايرونه"(۳)۔ "وہ تو لوگوں کو ديکھتے ہيں ليکن لوگ انہيں نہيں ديکھ سکتے"، وغيرہ کہ جن کا معني ہے امام کے وجود مبارک کا نظر نہ آنا اور بعض حديثوں ميں کہا گيا ہے:"يرونه ولايعرفونه"(۴)۔ يعني"امام کو ديکھتے ہيں ليکن پہچانتے نہيں ہيں" جو واضح طورپر کہ رہي ہے کہ لوگ امام کو ديکھتے ہيں ليکن پہچانتے نہيں ہيں۔ دونوں چيزيں ظاہرا ايک دوسرے سے فرق کرتي ہيں ليکن اگر خود الفاظ، کلمات اور روايت کے مضمون ميں توجہ کي جائے تو معلوم ہوجائےگا کہ ان دو قسم کي روايات ميں تضاد اور تعارض نام کي کوئي چيز نہيں ہے۔ پہلي قسم کي روايات ميں لفظ "لايري"اس وقت امام کے وجود کے غائب ہونے پر دلالت کرسکتا ہے جب اس کلمہ کا ايک ہي معني ہوتا کہ معلوم ہوسکے کہ اس کا مطلب ہے کہ اصلا امام نظر نہيں آتے ليکن دوسري روايت ميں بھي اسي کلمہ کا استعمال يعني: "يرونه ولايعرفونه"۔ "لوگ امام کو ديکھتے ہيں ليکن پہچانتے نہيں ہيں"، تو اس کا مطلب ہے "لايرونه" کے دو معني ہيں: ايک ظاہري طورپر نہ ديکھنا، اور دوسرا ہے نہ پہچاننا اگرچہ ديکھ رہے ہيں ۔ پس کلمہ "يري" کے دو معني ہيں کہ جو روايات اور آيات ميں استعمال ہوئے ہيں امام علي (عليہ السلام) امام مہدي(عج) کي غيبت کے بارے ميں فرماتے ہيں: "داخلة في دورھا وقصورھا جوالة في شرق ھذہ الارض وغربھا تسمع الکلام وتسلم علي الجماعة تري ولاتري"(۵)۔ يعني "حجت خدا گھروں اور اجتماع ميں تشريف لاتي ہے مشرق سے مغرب تک پوري دنيا ميں چکر لگاتي ہے مختلف علاقوں کا نظارہ کرتي ہے لوگوں کي باتوں کو سنتي ہے مجلس ميں موجود افراد پر سلام کرتي ہے وہ لوگوں کو پہچانتي ہے درحالانکہ خود نہيں پہچاني جاتي۔" يہ جملہ امام علي(عليہ السلام) کا کہ "تسلم علي الجماعة" دلالت کررہا ہے کہ "لاتري" سے مراد يہ نہيں ہے کہ امام اصلا ديکھے نہيں جاتے بلکہ مراد يہ ہے کہ پہچانے نہيں جاتے، پس پہلي روايات ميں جو الفاظ ذکر ہوئے ہيں مثلا "لايرون"،"لاتراہ"،"لايري"وغيرہ سے مراد صرف يہ نہيں ہے کہ اصلا ديکھے نہيں جاتے بلکہ مراد اس کا دوسرا معني ہے جو قرينے سے سمجھا جاتا ہے اور وہ ہے امام کا نہ پہچانا جانا، پس دونوں معني مراد ليے جاسکتے ہيں اس بنا پر ان دو قسم کي روايات ميں تضاد نام کي کوئي چيز نہيں ہے، بلکہ "لايري" اور"لايرون" کا معني ہے عدم پہچان اور اس پر قرينہ اور گواہ وہ کلمات ہيں جو امام علي (عليہ السلام) نے فرمائے: امام کا لوگوں کے درميان اجنبي کے طورپر آنا جانا،مجالس اور محافل ميں تشريف لانا، اہل مجلس پر سلام کرنا وغيرہ اور اسي طرح وہ روايات جو غيبت کے زمانہ ميں امام کي غيبت کو حضرت يوسف کي غيبت سے تشبيہہ ديتي ہيں، جيسا کہ عنقريب آئے گا، اسي چيز پر دلالت کرتي ہيں اسي طرح محمد بن عثمان عمري (غيبت صغريٰ ميں دوسرے خاص نائب) کا قسم ياد کرنا کہ امام ہر سال حج کے موقع پر حج کے اعمال انجام ديتے ہيں اور لوگوں سے ملاقات کرتے ہيں اس بات کي طرف واضح اشارہ ہے کہ امام حاجيوں کو ديکھتے ہيں اور ان کو پہچانتے ہيں اور حاجي بھي انہيں ديکھتے ہيں البتہ پہچانتے نہيں ہيں:"يري الناس ويعرفھم ويرونه ولا يعرفونه" (۶)۔ امام کے دوسرے خاص نائب کا يہ جملہ جو امام صادق(عليہ السلام) کي طرح استعمال کيا ہے امام کے اجنبي ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ امام کے وجود کا اصلا نظر نہ آنا غير طبيعي اور غير عادي ہے، حالانکہ روايات کہتي ہے کہ امام کي زندگي عادي اور معمول کے مطابق ہے اور دوسرا امام کے وجود کا دنيا سے غائب ہونا معجزہ کے ذريعے ممکن ہے، ليکن معجزہ تب ہے جب اس معجزہ ميں خاص حکمت اور فلسفہ ہو، اس کے علاوہ معجزہ کا استعمال معني نہيں رکھتا کيونکہ الہي سنت کا محور يہ ہے کائنات کے تمام مراحل عادي حالت ميں طے ہوں اور معجزہ صرف استثنائي صورت ميں واقع ہوتا ہے۔ اس بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ امام عادي زندگي اور طبيعي زندگي گزار رہے ہيں مگر کسي خاص مورد پر جہاں خود وجود کو بھي غائب ہونا پڑے اور يہ ہميشگي نہيں ہے، بلکہ ضرورت کے تحت جہاں احتياج ہو اور "لاترونه" کي تعبير امام کے اجنبي يعني امام پہچانے نہ جانے کي طرف اشارہ ہے۔ رہي يہ بات کہ کسي کو توفيق ہوئي ہے امام سے ملاقات کي يا نہيں؟ تو يہ عليحدہ موضوع ہے جس پر بعد ميں بحث ہوگي۔ اب ان دو نظريوں کے ذکر کيے گئے دلائل پر بحث کرتے ہيں جو امام سے ملاقات کو ممکن يا ناممکن بناتے ہيں ۔ پہلا نظريہ: ملاقات کا ممکن ہونا: امام سے ملاقات کے ممکن ہونے سے مراد يہ ہے کہ واقع ميں بھي اگر بعض لوگ تعيين کي گئي شرائط پر پورا اترسکيں تو ان کي امام سے ملاقات ہوسکتي ہے يعني ايسا نہيں ہے کہ شرائط رکھنے کے باوجود بھي وہ کبھي امام کي زيارت نہيں کرسکتے وہ بزرگ ہستياں جنہوں نے اس نظريے کو قبول کيا ہے کچھ کے نام درج ذيل ہيں:شيخ طوسي،سيد مرتضي علم الہدي ،سيد ابن طاووس،علامہ حلي،علامہ بحرالعلوم اور مقدس اردبيلي وغيرہ(۷)۔ ان کے علاوہ علامہ مجلسي،فيض کاشاني،محدث نوري،شيخ محمود عراقي،شيخ علي اکبر نہاوندي، محمد تقي موسوي اصفہاني، آيت اللہ صافي گلپايگاني اور سيد محمد صدر کے نام قابل ذکر ہيں ۔ پہلے نظريہ کے حامي اگرچہ اس مسئلہ کي جزئيات ميں اختلاف رکھتے ہيں ليکن اس بارے ميں اتفاق رکھتے ہيں کہ اولا زمانہ غيبت ميں اصل اور اساس امام کا مخفي ہونا ہے ثانيا يہ کہ اس اصل سے استثناء کو بھي قبول کرتے ہيں۔ پہلے نظريہ کے دلائل ممکن ہے دو طرح کے ہوں: الف) روايات: وہ روايات جو کم از کم تيسري قسم کي ملاقات کو ثابت کرتي ہيں يعني امام سے ملاقات بغير پہچان کے،ليکن ايسي ملاقات جس ميں دوران ملاقات بھي معلوم ہو کہ يہي امام زمانہ (عج) ہيں اس کے ليے دوسرے دلائل کي ضرورت ہے يہ روايات اس پر دلالت نہيں کرتيں۔ يہ روايات دلالت کے اعتبار سے چند قسم کي بنتي ہيں: ۱۔ جن روايات ميں کلمہ "يرونه" استعمال ہوا ہے جو امام کي زيارت اور ملاقات پر واضح دلالت کرتا ہے جيسے ابوبصير امام صادق (عليہ السلام) سے روايت کرتا ہے کہ امام ان الہي سنتوں کو بيان فرما رہے تھے جو خداوند متعال کي طرف سے انبياء کو پيش آئيں،فرمايا:وہ امام مہدي (عج) کو بھي پيش آئيں گي حضرت موسي اور حضرت عيسي کے ذکر کے بعد فرماتے ہيں: "اما سنته من يوسف فالستر يجعل اللہ بينه وبين الخلق حجابا يرونه ولايعرفونه"(۸)۔ "وہ سنت الہي جو حضرت يوسف کو پيش آئي مہدي کو بھي آئے گي اور وہ ہے لوگوں کے درميان نآشنا اور مخفي رہنا کہ لوگ ديکھتے تھے ليکن پہچانتے نہيں تھے۔" ۲۔ اس روايت کا مضمون جو محمد بن عثمان عمري سے نقل ہوا ہے کہ وہ قسم کھاتے ہوئے کہتے ہيں: "واللہ ان صاحب ھذا الامر ليحضر الموسم کل سنة فيري الناس ويعرفھم ويرونه ولا يعرفونه"(۹)۔ "خدا کي قسم صاحب امر (امام زمانہ (عج)) ہر سال حج کے اعمال کو انجام ديتے ہيں اس طرح کہ وہ حاجيوں کو ديکھتے ہيں اور حاجي بھي اسے ديکھتے ہيں ليکن پہچانتے نہيں"۔ يعني حتيٰ کہ گفتگو کے دوران بھي متوجہ نہيں ہوتے کہ يہي امام ہيں۔ اولا نائب دوم کا قسم کھانا اور ثانيا خود اس کا مقام ومرتبہ ملاقات امام کے مسئلہ کو ثابت کرنے کے ليے کافي ہے اور خود امام صادق (عليہ السلام) کي روايت کے ساتھ بھي اس کا مضمون ملتا ہے۔ دوسري قسم: وہ روايات جو بيان کرتي ہيں کہ امام زمانہ (عج) عادي زندگي گزاررہے ہيں اور معاشرہ اور لوگوں ميں نآشنا کے طورپر رہتے ہيں: ۱۔ جيسے صدير صرفي امام صادق(عليہ السلام)سے نقل کرتا ہے کہ جس ميں امام زمانہ (عج) کو حضرت يوسف سے تشبيہ دي گئي ہے کہ جس طرح يوسف اپنے بھائيوں ميں نا آشنا کے طور پر موجود تھا:"صاحب ھذا الامر يتردد بينھم ويمشي في اسواقھم ويطا فرشھم ولايعرفونه حتي ياذن اللہ ان يعرفھم نفسه کما اذن ليوسف"(۱۰)۔ "تمہارا صاحب امر(امام زمانہ (عج)) لوگوں کے درميان آتا جاتا ہے بازاروں مين چکر لگاتا ہے گھروں اور مجلس ميں تشريف لاتا ہے ان کے ساتھ بيٹھتا ہے درحالانکہ لوگ ان کو نہيں پہچانتے مگر يہ کہ امام خداوندمتعال کے اذن سے اپنا تعارف کروائيں جيسے يوسف نبي۔" ۲۔ حذيفہ يماني ايک طولاني حديث امام علي(عليہ السلام)سے نقل کرتا ہے کہ جس ميں امام علي (ع) نے فرمايا:" ... مزید پڑھ ماشية في طرقھا داخلة في دورھا وقصورھا جوالة في شرق ھذہ الارض وغربھا تسمع الکلام وتسلم علي الجماعة تري ولاتُري"(۱۱)۔ يعني: "حجت خدا راستوں اور سڑکوں پر گردش کرتي ہے گھروں اور مجلسوں ميں تشريف لاتي ہے تمام دنيا ميں مشرق سے مغرب تک گھومتي ہے مختلف علاقوں کا نظارہ کرتي ہے لوگوں کي باتوں کو سنتي ہے مجلس ميں موجود اشخاص پر سلام کرتي ہے لوگوں کو پہچانتي ہے درحالانکہ خود نہيں پہچاني جاتي"۔ آخري جملہ ميں جو لفظ "لاتري" آيا ہے اس کا معني يہ نہيں ہے کہ اصلا ان کا وجود ہي نہيں ديکھا جاتا، بلکہ پہلے فقرے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے يہ معني کرنا صحيح نہيں ہے بلکہ مراد يہ ہے کہ اجنبي کے طور پر آتے ہيں ديکھے جاتے ہيں ليکن پہچانے نہيں جاتے۔ تيسري قسم: تيسري قسم روايات کي وہ ہے جو دلالت کرتي ہے کہ بعض خاص افراد امام کے مسکن اور رہائش سے آگاہ ہيں: ۱۔ مفضل امام صادق (ع) سے نقل کرتا ہے کہ امام نے فرمايا: "ان لصاحب ھذا الامر غيبتين احداھما تطول حتي يقول بعضھم مات وبعضھم يقول قتل وبعضھم يقول ذھب فلايبقي علي امرہ من اصحابه الا نفر يسير لايطلع علي موضعه احد من ولي ولاغيرہ الا المولي الذي يلي امرہ" (۱۲)۔ "اس امر کے صاحب (امام زمانہ) کے ليے دو غيبتيں ہيں کہ ان ميں سے ايک کچھ طولاني ہے کہ بعض کہيں گے وہ فوت ہوگئے ہيں اور بعض خيال کريں گے کہ شہيد ہوگئے ہيں اور بعض کہيں گے وہ رحلت فرماگئے ہيں اور ان کا کوئي اثر باقي نہيں رہا، ماننے والا اور نہ ماننے والا کوئي بھي ان کے مسکن اور رہائش سے آگاہ نہيں ہوگا، مگر وہ شخص جو حضرت کے کاموں کو انجام دينے پر مامور ہو صرف ايسا شخص امام کي رہائش سے آگاہ ہوگا۔" ۲۔ اسحاق بن عمار صيرفي امام صادق (ع) سے نقل کرتا ہے: "للقائم غيبتان احداھما قصيرة والاخريٰ طويلة: الغيبة الاوليٰ لايعلم بمکانه فيھا الا خاصة شيعته والاخري لايعلم بمکانه فيھا الا خاصة مواليه"(۱۳)۔ "قائم کے ليے دو غيبتيں ہيں کہ ايک تھوڑي مدت والي اور دوسري طولاني مدت ہے پہلي قسم کي غيبت کي خصوصيت يہ ہے کہ بعض خاص افراد کے علاوہ باقي شيعہ ان کے محل زندگي سے واقف نہيں اور دوسري غيبت کي خصوصيت يہ ہے کہ اس کے ماننے والے بھي ان کے مسکن سے آگاہ نہيں ہيں مگر خاص اشخاص اور منتخب افراد"۔ ممکن ہے "خاصة مواليه" سے مراد بہت ہي قريبي اور ہمراز افراد ہوں يا جو امام کي خدمت ميں ہوتے ہيں جيسا کہ پہلي روايت ميں بھي پڑھا ۔ بہرحال يہ روايت اور پہلي روايت کچھ خاص افراد کو مستثني کرتي ہے کہ جو امام کے محل زندگي سے واقف ہيں حديث کي سند بھي صحيح ہے اور اس کے راوي مثل کليني، محمد بن يحيي، محمد بن حسين (ابوجعفر زيات)، حسن بن محبوب اور اسحاق بن عمار صيرفي ہيں جو بزرگ اصحاب اور مورد اطمينان ہيں ۔ ان روايات کي بناء پر امام سے ملاقات کے ممکن ہونے ميں کم از کم محدود طور پر تائيد ہوتي ہے کيونکہ پہلي قسم کي روايات کي بنا پر لوگ امام کو ايک عام شخص تصور کرتے ہيں اور امام کي طرف متوجہ نہيں ہوتے کہ يہي امام ہيں پس يہ نظريہ کہ غيبت کے زمانہ ميں امام سے ملاقات ممکن ہے پہلي قسم کي روايات صراحت کے ساتھ اس پر دلالت کررہي ہيں۔ دوسري قسم کي روايات مثلا لوگوں کے درميان امام کا آنا جانا، سلام کرنا اور مجلسوں ميں شرکت وغيرہ خود امام کے ديکھے جانے پر دلالت کرتي ہيں، کيونکہ ان روايات ميں بحث اس سے نہيں کہ امام کا وجود مبارک نظر نہيں آتا يا امام سے ملاقات نہيں ہوتي بلکہ بحث اس سے ہے کہ امام پہچانے نہيں جاتے جو غيبت کے فلسفہ کي وجہ سے ہے۔ تيسري قسم کي روايات اس چيز کو بيان کررہي ہيں کہ امام کي رہائش اور مسکن سے کوئي واقف نہيں ہے سوائے چند خاص افراد کے۔ البتہ رہائشي مکان کے علاوہ دوسري جگہ پر امام سے ملاقات يا امام کي زيارت کو رد نہيں کر رہيں۔ بنابر اين، ان تمام روايات ميں جس چيز پر زيادہ توجہ دي گئي ہے اور تاکيد کي گئي ہے وہ ہے امام کا اجنبي ہونا اور نہ پہچانا جانا حضرت اس جگہ اجنبي کے طورپر ملاقات کرتے ہيں جب خود نہ چاہيں وگرنہ اگر اذن الہي سے چاہيں تو اپنا تعارف بھي کروا سکتے ہيں،جيسا کہ امام صادق (عليہ السلام) سے نقل کي گئي روايت ميں گزرچکا ہے۔ ب) امام کي زيارت کے واقعات: پہلا نظريہ کہ امام سے ملاقات ممکن ہے اس پر ايک دليل روايات کي صورت ميں بيان ہوئي ہے اور دوسري دليل خود امام کي زيارت کے واقعات اور حکايات جو تاريخ ميں بيان ہوئي ہيں خود دليل ہيں کہ امام سے ملاقات ممکن ہے، کيونکہ ايک چيز کا واقع ہونا بہترين دليل ہے اس کے ممکن ہونے پر ۔ اگرچہ ہماري بحث ان ملاقاتوں سے نہيں ہے جو امام سے ہوئي ہيں بلکہ ہم ان کو بطور دليل اس ليے نقل کررہے ہيں کہ اتنے واقعات کا نقل ہونا اگرچہ شايد ہر ايک واقعہ عليحدہ عليحدہ طورپر امام کي زيارت کے ممکن ہونے پر دليل نہ بن سکے، ليکن مجموعي طورپر ان واقعات سے کم از کم اتنا اطمينان حاصل ہوجاتا ہے کہ امام سے ملاقات ممکن ہے، البتہ ہماري بحث اس سے نہيں ہے کہ ہم واقعات پر عليحدہ عليحدہ بحث کريں کہ کونسا واقعہ حقيقت رکھتا ہے اور کونسا واقعہ حقيقت نہيں رکھتا، اس کے ليے عليحدہ اور مستقل طورپر بحث کي ضرورت ہے يہاں ہم صرف ان کو بطور دليل ذکرکررہے ہيں ۔ تواتر حکايات: بيداري کي حالت ميں امام سے ملاقات کے واقعات بہت زيادہ ہيں اور شيعہ علماء نے بھي ان واقعات کے متواتر ہونے کو اجمالي طورپر قبول کيا ہے اور اس کي طرف اشارہ بھي کيا ہے، آيت اللہ صافي گلپايگاني لکھتے ہيں: وہ لوگ جنہيں غيبت کبري کے آغاز سے لے کر آج کے زمانہ تک، امام کي زيارت ہوئي ہے بہت زيادہ ہيں(۱۴)۔ بعض محققين نے ان واقعات کو تواتر سے بھي زيادہ اہميت دي ہے بہت سارے ان واقعات کو نقل کرنے والے اور جن کي امام سے ملاقات کے واقعات نقل ہوئے ہيں اکثر فقيہ، زاہد اور علمي شخصيات ہيں بنابر ايں ان واقعات کا نقل ہونا اور بزرگ شخصيات مثلا سيد بن طاووس، علامہ بحرالعلوم اور مقدس اردبيلي کا خود ان افراد ميں سے ہونا جن کو امام کي زيارت ہوئي ہے يہ سب دليل ہيں امام سے ملاقات کے ممکن ہونے پر ۔ زيارت کرنے والوں کا اقرار: بہت سارے افراد نے اقرار کيا ہے کہ انہيں امام کے ساتھ ملاقات نصيب ہوئي ہے اگرچہ علماء کي روش يہ رہي ہے کہ ايسے معاملے کو مخفي اور پنھان رکھا جائے، اس کے با وجود بعض نے صراحتا اس چيز کو ذکر بھي کيا ہے، مثلا حاج علي بغدادي(۱۵)،سيد احمد رشتي(۱۶)،(۱۷) ،علي ابن ابراہيم مھزيار(۱۸)، علامہ بحرالعلوم(۱۹)، محمد علي قشنري(۲۰)، محمد بن عيسي بحريني(۲۱)، حسن بن مثلہ جمکراني(۲۲)،آيت اللہ مرعشي نجفي(۲۳)،سيد بن طاووس وغيرہ ہر ايک نے تمام واقعہ کو نقل کيا ہے ۔ پس اس بنا پر يہ جو اعتراض کيا جاتا ہے کہ (جن مجتہدين يا بزرگ ہستيوں کي طرف امام سے ملاقات کي نسبت دي جاتي ہے انہوں نے کہيں بھي خود اس کا ذکر نہيں کيا) يہ اعتراض قابل قبول نہيں،کيونکہ بعض علماء جيسے مرعشي نجفي نے اپني امام سے ملاقات کو لکھا ہے اور بيان کيا ہے۔ پس کچھ علماء اور بزرگ ہستيوں نے اپني ملاقات کے واقعہ کو نقل کيا ہے اور کچھ نے نہيں کيا جو ہميشہ کےليے ايک راز بن گئے۔ امام زمانہ (عج) سے اعمال اور دعاوں کا نقل ہونا: جو ذکر اور دعائيں امام زمانہ (عج) سے منسوب ہيں شيعہ کتابوں ميں بغير شک وشبہ کے ان دعاوں کا امام سے ذکر ہونا خود امام سے ہونے والي ملاقات پر دلالت کرتا ہے وگرنہ ان دعاوں کا امام سے منسوب کرنا درست نہيں ہے خصوصا جب علماء کسي نامعلوم چيز کو امام سے نسبت دينے ميں احتياط سے کام ليتے ہوں اور ہرگز جس چيز کا امام سے صادر ہونا يقيني نہ ہوتا امام سے نسبت نہيں ديتے تھے، خصوصا شرعي احکام، دعائيں اور عبادات۔ اس سے بھي زيادہ بعض ملاقاتوں ميں امام نے ايک خاص حکم بھي ارشاد فرمايا، جيسے مسجد جمکران کي بنياد رکھنا اور شيعوں کو اس مکان کي طرف توجہ کرنے کا حکم دينا،جيسا کہ ۳۷۳ھ ماہ رمضان ميں حسن بن مثلہ جمکراني کے ساتھ ہونے والي ملاقات ميں فرمايا۔ امام نے اس ملاقات ميں مسجد بنانا اور شيعوں کي اس مقدس مقام کي طرف توجہ دلانے کے ساتھ ساتھ مسجد جمکران ميں دو رکعت نماز جو ايک خاص طريقے سے پڑھي جائے اس کا حکم بھي ديا اور يہ مشہور ومعروف ہے بعض ملاقاتوں ميں امام سے خاص دعائيں بھي نقل ہوئي ہيں، جيسے آئمہ اطہار کے مزاروں کي زيارت کا خاص طريقہ، استخارہ کرنے کا طريقہ، رکوع ميں مستحب اعمال، قنوت ميں پڑھي جانے والي دعا، اور زيارت جامعہ کي نصيحت وغيرہ جو امام سے نقل ہوئي ہيں ۔ان دعاوں کا معتبر کتابوں ميں موجود ہونا اور اس پر عمل محکم دليل ہے امام سے ملاقات کے ہونے پر اور اس کو نسبت دينا امام سے صرف اس وقت صحيح ہے جب اس کے امام سے نقل ہونے پر يقين يا اطمينان ہو۔ وگرنہ يہ ايک قسم کي بدعت ہوگي جو باعمل علماء سے بعيد ہے کيونکہ انہوں نے حتي ايک لفظ کو بھي امام سے منسوب نہيں کيا، مگر يہ کہ يقين يا اطمينان حاصل ہوجائے کہ يہ امام سے نقل ہوا ہے چہ جائيکہ اعمال اور دعائيں وغيرہ۔ اس بنا پر پہلا نظريہ جو ملاقات امام کو ممکن سمجھتے ہيں محکم دلايل سے ہمکنار ہے پس پہلا نظريہ ثبوتي اعتبار سے کوئي مشکل نہيں رکھتا اور خود بعض علماء کے بيانات بھي اس کي اہميت کردوبالا کرديتے ہيں ہم يہاں بعض بزرگ ہستيوں کے چند قول نقل کرتے ہيں: ۱۔ سيدمرتضيٰ علم الہديٰ(م۴۳۶) جن کا شمار شيخ مفيد(م۴۱۳) کے ممتاز شاگردوں ميں کيا جاتا ہے، اپني کتاب "تنزيہ الانبياء" ميں لکھتے ہيں: ہمارا اعتقاد يہ نہيں ہے کہ غيبت کے زمانہ ميں کوئي بھي امام سے ملاقات نہيں کرسکتا اور کسي کا بھي امام سے رابطہ نہيں ہے(۲۴)، (۲۵)۔ اسي طرح کتاب "الشافي في الامامۃ" ميں اس بات کو رد کرتے ہيں کہ امام سے ملاقات نہيں ہوسکتي بلکہ اس کے اثبات پر تاکيد کرتے ہوئے رقمطراز ہيں:ہم ہرگز يہ عقيدہ نہيں رکھتے کہ امام اپنے بعض خاص ماننے والوں کے سامنے نہ آئيں بلکہ ہماري نظر ميں يہ احتمال وجود رکھتا ہے(يعني بعض افراد کے سامنے امام تشريف لاتے ہيں اور ملاقات کرتے ہيں وغيرہ)۔ کتاب "رسائل" ميں تو واضح طور پر ملاقات کے مسئلہ کو صريحا ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہيں: امام تک دسترس جن سے کوئي ڈر نہيں ہے(شيعيان يا مکتب شيعہ کو کوئي نقصان نہيں ہے) ممکن ہے(۲۶)۔ يعني سيد مرتضيٰ ان لوگوں کي ملاقات کو ممکن سمجھتے ہيں جو شہرت طلبي کے پيچھے نہ ہوں، راز فاش نہ کريں، غلط استفادہ نہ کريں وغيرہ ان کے ليے ممکن ہے، کيونکہ يہ بہت حساس مقام ہے شيعہ امام کي محبت کي وجہ سے امام سے ملاقات کرنے والے کو بہت عظيم سمجھتے ہيں اور ممکن ہے آگے وہ شخص اندر سے مضبوط نہ ہو اور شيعوں کو گمراہ نہ کردے، اس ليے سيد مرتضي کي طرح دوسرے علماء بھي اس بات پر تاکيد کرتے ہيں کہ چند خاص اشخاص سے ملاقات ممکن ہے جن ميں تعيين شدہ شرائط پائي جائيں بلکہ سيد مرتضي نے ماہرانہ نگاہ سے ديکھتے ہوئے ايک نظريہ قائم کرديا ہے کہ ہر شخص کے ليے نہيں بلکہ جس سے شيعہ يا مکتب تشيع کو نقصان نہ پہنچے۔ البتہ يہ ہمارے مدعے کو واضح طورپر ثابت کررہا ہے کہ ملاقات ممکن ہے۔ ۲۔ شيخ طوسي(م۴۶۰) ايک جاني پہچاني شخصيت ہے اور شيخ مفيد کے ممتاز شاگردوں ميں سے ہيں اور شيخ الطائفہ کے لقب سے مشہور ہيں، کتاب الغيبہ ميں لکھتے ہيں: ہم معتقد نہيں ہيں کہ امام اپنے تمام اولياء سے پوشيدہ اور غائب ہيں بلکہ شايد بہت سارے محبين کو نظر آتے ہوں اور ان کے سامنے امام ظاہر ہوں کيونکہ کوئي بھي اپني حالت کے علاوہ باقي لوگوں کے حالات سے آگاہ نہيں ہے، پس اگر امام ايک شخص کے ليے ظاہر ہوں اس حالت ميں غيبت کي جو علت تھي وہ اس شخص کي نسبت برطرف ہوگئي ہے اگر زيارت نہ ہو تو وہ جانتا ہے کہ ميري اپني بے لياقتي ہے يا کوئي مصلحت ہے کہ امام کي زيارت نہيں ہورہي(۲۷)۔ شيخ طوسي ايک اور جگہ کتاب الغيبہ ميں اس بات کي طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہيں کہ امام کي بعض اشخاص اور ماننے والوں سے ملاقات ممکن ہے جيسا کہ يہ عبارت ہے: دشمن اگرچہ رکاوٹ ہيں کہ امام علنا کسي سے ملاقات کريں ليکن امام کے خصوصي ارتباط کو جو مخصوص محبين کے ساتھ پوشيدہ طور پر ہيں ان کے آگے رکاوٹ نہيں بن سکتے(۲۸)۔ يہ عبارت واضح طورپر دلالت کررہي ہے کہ ممکن ہے امام کا رابطہ بعض خاص افراد کے ساتھ ہو۔ ۳۔ ابوالفتح کراجکي (م۴۴۹) بھي اپني کتاب کنزالفوائد ميں رقمطراز ہيں: ہميں يقين نہيں ہے کہ کوئي بھي غيبت کے زمانہ ميں امام سے ملاقات نہيں کرتا اور امام کو نہيں پہچانتا بلکہ بعض اوقات بعض خاص محبين کے ليے ملاقات کا موقع فراہم ہوتا ہے وہ امام سے ملاقات کرتے ہيں ليکن اس بات کو پوشيدہ رکھتے ہيں(۲۹)۔ ۴۔ سيدبن طاووس(م۶۶۴) کہ جن کي امام سے ملاقات کے واقعات بھي نقل ہوئے ہيں اس بارے ميں کتاب الطرايف ميں لکھتے ہيں: اب جبکہ تمام شيعيان کے سامنے امام ظاہر نہيں ہيں مشکل نہيں ہے کہ بعض خاص افراد سے ملاقات کريں اور وہ امام کي گفتار اور رفتار کو الگو اور نمونہ قرار ديں اور اس بات کو پوشيدہ رکھيں(۳۰)۔ سيد بن طاووس ايک اور کتاب "کشف المحجہ" ميں بھي اپنے بيٹے کو خطاب کرتے ہوئے کہتے ہيں: ميرے بيٹے! اگر خدا کي عنايت شامل حال ہو تو تيرے امام تک پہچنے کا راستہ تيرے سامنے کھلا ہے(۳۱)۔ ۵۔ محقق نائيني لکھتے ہيں: کبھي ايسا ہوتا ہے کہ غيبت کے زمانہ ميں بعض بزرگان امام زمانہ سے ملاقات کريں اور شرعي مسائل ميں حکم الہي کو، خود امام سے دريافت کريں(۳۲)۔ ۶۔ آقاي آخوند خراساني بھي غيبت کے زمانہ ميں امام سے ملاقات کو ممکن جانتے ہيں وہ لکھتے ہيں:احتمال ہے بعض منتخب اور شايستہ اشخاص امام سے ملاقات کريں اور اس ملاقات ميں امام کو پہچان ليں(۳۳)۔ ۷۔ سيد محمد تقي موسوي اصفہاني کہ جو امام سے ملاقات کي آرزو اور دعا کو حضرت امام زمانہ (عج) پر ايمان رکھنے والے کے لئے ضروري سمجھتے ہيں لکھتے ہيں: کيونکہ روايات اور واقعات جو امام سے ملاقات کو ثابت کرتے ہيں اہل يقين کے لئے اطمينان کا باعث بنتے ہيں(۳۴) ۔ ۸۔ سيد محمد صدر، اگرچہ ان واقعات کو اس لئے کہ يہ متواتر ہيں اس دليل کو قبول نہيں کرتے اور ان سب واقعات کو سچا نہيں مانتے ليکن واقعات کے نقل کرنے والے متقي پرہيز گار افراد کي وجہ سے ان روايات کو صحيح مانتے ہوئے کہتے ہيں: کيونکہ بہت سارے واقعات يہ دلالت کرتے ہيں کہ نہيں ہوسکتا جان بوجھ کر سب نے جھوٹ بولا ہو، اس کے علاوہ خود نقل کرنے والے افراد کا تقوا اور پرہيزگاري اور ان کا مقام ومرتبہ ان واقعات کے اعتبار ميں اضافہ کرديتا ہے (۳۵)۔ سيد محمد صدر نآشناء طورپر لوگوں سے امام کي ملاقات کو روزمرہ کا معمول سمجھتے ہيں۔ ۹۔ آيت اللہ صافي گلپايگاني کہ جنہوں نے خود مہدويت کے موضوع پر بہت زيادہ تحقيقات اور کتابيں لکھي ہيں اپني کتاب منتخب الاثر ميں ان واقعات کو امام کے وجود پر مہم ترين دليل سمجھتے ہيں(۳۶)، اور اسي طرح کتاب امامت اور مہدويت ميں ايک عاقل شخص کے ملاقات امام زمانہ کو ترديد کرنے کا انکار کرتے ہيں اور امام سے ملاقات کو يقيني طور پر مانتے ہيں۔ ۱۰۔ شيخ محمد جواد خراساني معتقد ہيں کہ امام زمانہ سے ملاقات ممکن ہے،کيونکہ تواتر اجمالي ايک قطعي دليل ہے جو صالح اور پرہيزگار افراد سے نقل ہوئي ہے کہ جو تقوا وپرہيزگاري اور اطمينان کے اعتبار سے، حديث کے راويوں سے کم نہيں(۳۷)۔ ان علماء کے علاوہ اور بھي بہت سارے علماء ايسے ہيں جنہوں نے زيارت کے واقعات کو اپني کتابوں ميں نقل کيا ہے جيسے مرحوم مجلسي بحارالانوار ميں، محدث نوري نے اپني دو کتابيں جنۃ الماوي اور نجم الثاقب ميں، علي اکبر نہاوندي نے عبقري الحسان ميں اور شيخ محمود عراقي نے دارالسلام ميں نقل کي ہيں۔ جيسا کہ ہم گذشتہ ذکر کرچکے ہيں کہ يہ سب مرحلہ ثبوتي ميں بطور دليل سمجھے جاسکتے ہيں اور کم از کم ملاقات کے ممکن ہونے پر دليل بن سکتے ہيں البتہ ان واقعات کے صحيح اور ناصحيح ہونے سے ہماري بحث نہيں ہے کيونکہ بزرگ علماء جو اس بارے ميں احتياط سے کام ليتے تھے اور ہر واقعہ اور دعوے دار کے دعوے کو قبول نہيں کرتے تھے يہ ايک ايسا موضوع ہے کہ جس پر مستقل کتاب کي ضرورت ہے اور اس مختصر سے مضمون کے دامن ميں اتني گنجائش نہيں ہے۔ جو کچھ اوپر گزر چکا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ غيبت کے زمانہ ميں امام سے ملاقات ممکن ہے اگرچہ مسئلہ کي جو جزئيات ہيں ان سب سے بحث کرنا ممکن نہيں ہے خود علماء کے بيانات بھي امام سے ملاقات کو ممکن قرار ديتے ہيں اور پہلے نظريہ کو ثابت کرتے ہيں۔ دوسرا نظريہ: امام سے ملاقات کا ممکن نہ ہونا: اب يہاں دوسرا نظريہ کے پيروکاروں سے بحث ہوگي جو کہتے ہيں کہ غيبت کبري ميں امام سے ملاقات ممکن نہيں، البتہ خود امام کي زيارت کے ممکن ہونے يا نہ ہونے ميں جو اختلاف ہے اور جو نظريات پائے جاتے ہيں اگرچہ يہ اختلاف خود روايات ميں استعمال شدہ دقيق کلمات کي وجہ سے پيدا ہوتا ہے اور اسي وجہ سے چار گروہ ہيں کہ جن ميں سے ہر ايک گروہ کا ايک خاص نظريہ ہے جو يہ ہيں: پہلا گروہ: جو ملاقات کو ممکن سمجھتے ہيں اور تمام واقعات کو جو نقل ہوئے ہيں ان کو بھي صحيح سمجھتے ہيں ۔ دوسرا گروہ:جو خود ملاقات کو ممکن سمجھتے ہيں کہ غيبت کے زمانہ ميں امام سے ملاقات ممکن ہے، ليکن جو ملاقات امام کا دعوي کرے اس کو قبول نہيں کرتے اور اسي طرح امام سے ملاقات کے واقعات کو بھي رد کرتے ہيں ۔ تيسرا گروہ:جو ملاقات کو ممکن سمجھتے ہيں البتہ زيارت اور ملاقات سے متعلق ذکر کيے گئے واقعات ميں سے صرف ان واقعات کو قبول نہيں کرتے جس ملاقات ميں، ملاقات کرنے والے کو پتہ چل جائے کہ يہي امام زمانہ ہے يعني ايسا نہيں ہوسکتا کہ ملاقات اور زيارت کے دوران پتہ چل جائے کہ يہي امام ہيں۔ چوتھا گروہ:جو اصلا امام سے ملاقات کو ناممکن سمجھتے ہيں اور کہتے ہيں غيبت کے زمانہ ميں اصلا امام سے ملاقات نہيں ہوسکتي ۔ پس يہاں ہماري بحث چوتھي قسم کے نظريہ سے ہے جو اصلا ممکن نہيں سمجھتے ۔ شيخ يداللہ دوزدوزاني ان افراد ميں سے ہيں جو غيبت کے زمانہ ميں امام سے ملاقات کو ممکن نہيں سمجھتے اور کہتے ہيں کہ امام سے ملاقات اصلا ممکن نہيں ہے اور ايک مضمون لکھا "تحقيق اللطيف حول توقيع الشريف"، اس مضمون ميں امام زمانہ (عج) کے فرمان سے جو آخري نائب خاص کو خط ميں لکھا گيا اس سے استفادہ کرتے ہوئے کہتے ہيں کہ ممکن نہيں ہے امام سے ملاقات کرنا۔ علي اکبر ذاکري نے بھي ايک مضمون ميں(۳۸) (ارتباط با امام زمان (عج)) دونوں نظريوں کو بيان کرنے اور ان پر بحث کرنے کے بعد دوسرے نظريہ کو اہميت ديتے ہوئے اس کو ثابت کرنے کي کوشش کي ہے اور اپنے دلائل کو ذکر کيا ہے کہ ان کے مہم ترين دلائل درج ذيل ہيں: ۱۔ امام زمانہ (عج) کا خط آخري نائب خاص علي بن محمد سمري کو (کہ جس پر تفصيلي بحث اور تبصرہ بعد ميں آئے گا)۔ ۲۔ وہ روايات جو دلالت کرتي ہيں کہ امام لوگوں کے درميان نا آشناء کے طورپر رہتے ہيں ۔ ۳۔ وہ روايات جو دلالت کرتي ہيں کہ امام حج کے موقع پر نظر نہيں آتے ۔ ۴۔ وہ روايات جو غيبت کے زمانہ ميں شيعوں کے امتحان پر دلالت کرتي ہيں کہ حتما امام غائب ہوگا جس کے ذريعہ شيعوں کا امتحان لياجائے گا کہ کون اپنے ايمان پر باقي رہتا ہے ۔ اس سے پہلے کہ دوسرے نظريہ کے دلايل پر تبصرہ کيا جائے ضروري ہے کہ جو انکار کے قايل ہيں اور کہتے ہيں کہ امام زمانہ (عج) کي ملاقات ممکن نہيں،ان کي ذہني فضا کا مطالعہ کيا جائے کہ کس انگيزہ کي بنياد پر وہ ملاقات کو ناممکن سمجھتے ہيں ۔ ان کے ديے گئے دلائل پر اگر غور کيا جائے تو معلوم ہوتا ہے جو ملاقات کو ممکن نہيں سمجھتے زيادہ تر ہدف ان کا يہ ہے کہ خرافات اور جھوٹے دعويداروں سے بچا جاسکے، ہوسکتا ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کيلئے شيعہ عوام کو گمراہ کريں، اور دوسرا امام زمانہ (عج) کي آخري توقيع (خط) جو آخري نائب خاص کو فرمائي۔ ليکن سوال يہ ہے کہ کيا يہ خود امام کي توقيع يا دوسري روايات سے ثابت ہوسکتا ہے کہ زيارت يا ملاقات ممکن نہيں؟ اس باب ميں ان کے ذکر کيے گئے دلايل اور ان پر تبصرہ کيا جائے گا۔ ملاقات کے ممکن نہ ہونے پر دلائل: وہ لوگ جو ملاقات امام کو ممکن نہيں سمجھتے اور کہتے ہيں کہ امام سے اصلا ملاقات ممکن نہيں ہے، انہوں نے اپنے نظريہ کو ثابت کرنے کے ليے چند ايک دلائل پيش کيے ہيں ليکن اگر ان کے دئيے گئے دلائل پر غور کيا جائے تو سوائے امام زمانہ(عج)کے آخري خط کے جو آخري خاص نائب محمد بن علي سمري کو ملا تھا باقي دلايل ان کي بات ثابت کرنے کيلئے کافي نہيں ہيں، پس يہاں ہم روايات جو انہوں نے دلائل کے طور پر پيش کي ہيں ان کي دو قسميں کرتے ہيں: ايک امام کا آخري خط (توقيع شريف)، اور دوسري باقي روايات، تاکہ تفصيلي طور پر بحث کي جاسکے۔ الف) امام کے آخري خط کے علاوہ روايات: ان روايات کي بھي چند قسميں ہيں: ۱۔وہ روايات جو امام کو تلاش کرنے اور امام کا کھوج لگانے سے منع کرتي ہيں، مثلا روايت ميں آيا ہے:"من بحث فقد طلب ومن طلب فقد دل ومن دل فقد اشاط ومن اشاط فقد اشرک"۔ "ان دللتھم علي الاسم اذاعوہ وان عرفوا المکان دلوا عليه"(۳۹)۔ "اگر امام کا نام لوگوں کو بتا دوں اس کو فاش کرديں گے اور اگر امام کي رہائش سے واقف ہوجائيں تو اس کو بھي فاش کرديں گے"۔ جيسا کہ عبارات سے معلوم ہے يہ روايات غيبت صغري کے زمانہ کي طرف اشارہ ہيں کہ جب خطرہ تھا اور جو منع کيا گيا ہے اس کا سبب يہي تھا کہ کہيں دشمن آپ (عج) کو گرفتار اور شہيد نہ کرديں،ليکن غيبت کبريٰ کے زمانہ ميں يہ بات صدق نہيں کرتي ۔ ۲۔ وہ روايات جو امام کے نآشنا ہونے پر دلالت کرتي ہيں بعض کہتي ہيں کہ امام اصلا نہيں پہچانے جاتے البتہ اجنبي کے طورپر لوگوں ميں رہتے ہيں رابطہ رکھتے ہيں جيسا کہ امام صادق (عليہ السلام) سے روايت ہے:"ولايعرفونه حتي ياذن اللہ ان يعرفھم نفسه"(۴۰)۔ "لوگ امام کو نہيں پہچانتے مگر يہ کہ امام خدا کے اذن سے اپنا تعارف نہ کرائيں"۔ بعض روايات صرف حج کے موقع پر امام کے نآشنا ہونے پر دلالت کرتي ہيں جيسے کہ يہ روايت ہے: "يفقد الناس امامھم يشھد الموسم فيراھم ولايرونه"(۴۱)۔ "ايک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کي اپنے امام تک دسترسي حاصل نہيں ہوگي امام مراسم حج ميں تشريف لائيں گے لوگوں کو پہچانتے ہوں گے ليکن لوگ انہيں نہيں پہچان پائيں گے۔" يا ايک اور روايت ميں ارشاد فرمايا:"للقائم غيبتان يشھد في احداھما الموسم يري الناس ولايرونه (۴۲)۔ "حضرت قائم (عج) کے ليے دو غيبتيں ہيں کہ ان دو ميں سے ايک ميں حج کے اعمال کےليے تشريف لائيں گے اور لوگوں کو ديکھيں گے ليکن لوگ انہيں نہيں پہچان پائيں گے"۔ يہ دونوں روايات امام صادق (عليہ السلام) سے منقول ہيں يہ روايات نہ صرف ملاقات يا زيارت کي نفي نہيں کرتيں بلکہ الٹا زيارت اور ملاقات کو ثابت کرتي ہيں جيسا کہ پہلے گزرچکا ہے، کيونکہ "لايعرفونه"؛ "لوگ امام کو نہيں پہچانتے"جيسا کہ پہلي روايت ميں ہے امام کي ملاقات اور زيارت کي طرف اشارہ ہے اور دوسري روايت ميں"لايرونه"؛ "لوگ امام کو ديکھ نہيں پاتے"، سے مراد بھي"لايعرفونه" ہے کيونکہ پہلي روايت اور دوسري روايت سے استفادہ کرتے ہوئے اس کا معني بھي يہي ہے کہ پہچانے نہيں جاتے نہ اينکہ اصلا امام کا وجود مبارک ہي نظر نہيں آتا۔ پس اس بنا پر نتيجہ يہ نکلتا ہے کہ امام دوسرے افراد کي طرح عادي طورپر حج کے اعمال انجام ديتے ہيں لوگوں سے ملاقات ہوتي ہے البتہ لوگ نہيں پہچان پاتے کہ يہي امام زمانہ (عج) ہيں۔ اس کے علاوہ امام کے دوسرے خاص نائب محمد بن عثمان سے جو نقل ہوا ہے انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ امام ہر سال حج کے اعمال انجام دينے کے ليے تشريف لاتے ہيں اور لوگ امام کو ديکھتے ہيں ليکن پہچانتے نہيں ہيں پہلي دو روايات ظاہرا اس قول کے ساتھ مطابقت رکھتي ہيں۔ اگر بالفرض مان ليا جائے کہ يہ روايات دلالت کرتي ہيں کہ امام اصلا ديکھے نہيں جاتے اور نظر نہيں آتے ليکن پھر بھي يہ فقط حج کے موسم کي طرف اشارہ ہے يعني حج کے موقع پر نہيں ديکھے جاتے ليکن دوسري جگہوں کي نفي نہيں ہوتي۔ ۳۔ وہ روايات جو دلالت کرتي ہيں کہ امام کو نہيں ديکھ سکوگے اور اس کا نام مبارک ہي زبان پر لانا جائز نہيں، مثلا امام ہادي (عليہ السلام) ارشاد فرماتے ہيں: "انکم لاترون شخصه ولايحل لکم ذکرہ باسمه"(۴۳)۔ "تم امام کو نہيں ديکھ سکو گے اور جايز نہيں ہے کہ ان کا نام ليا جائے۔" امام رضا (عليہ السلام) بھي ارشاد فرماتے ہيں: "لايري جسمه ولايسمي اسمه"(۴۴)۔ "امام ديکھے نہيں جاسکيں گے اور ان کو ان کے نام سے نہيں پکارا جائے گا ۔" يہ دو روايات بھي ملاقات يا زيارت کے ممکن نہ ہونے سے ربط نہيں رکھتيں،کيونکہ پہلي روايت غيبت صغريٰ کے زمانہ کو بيان کررہي ہے اور ان خطرات و مشکلات سے مربوط ہے جو دشمنوں نے فراہم کي ہوئي تھيں۔ اور جو نام سے نہ پکارنے کا مسئلہ ہے اور منع کيا گيا ہے کہ امام زمانہ(عج) کو ان کے نام سے مت پکارنا اور جستجو مت کرنا تو يہ بھي غيبت صغريٰ کي طرف اشارہ ہے جب حکمران حساس تھے اور اس طرف متوجہ تھے کہ کسي طرح امام کي جگہ کا علم ہوجائے تا کہ وہ اپنے مذموم مقاصد ميں کامياب ہوسکيں، اسي بنا پر بہت سارے شيعہ علماء غيبت کبريٰ ميں امام زمانہ (عج) کے نام لينے کو جائز سمجھتے ہيں،کيونکہ اس زمانہ ميں کوئي وجہ نہيں ہے کہ امام کے نام کو چھپايا جائے يا تقيہ کيا جائے اور يہ جو عبارت پہلي روايت ميں آئي ہے: "لاترون شخصه" کہ "امام کے وجود مبارک کو نہيں ديکھ پائيں گے" يا دوسري روايت ميں آيا ہے: "لايري جسمه" "امام کا وجود مبارک نظر نہيں آئے گا"، اس کا مطلب يہ ہے کہ لوگ جس طرح دوسرے لوگوں کو ديکھتے ہيں ان کے ساتھ اٹھتے بيٹھتے ہيں جانتے ہوئے سلام دعا کرتے ہيں ايسا نہيں ہوگا، البتہ ہوسکتا ہے کہ ايک شخص ايک دفعہ کہيں ايک جگہ امام کي زيارت کرلے يا امام سے ملاقات ہوجائے تو يہ ہرگز ان روايات کے منافي نہيں ہے۔ ۴۔ وہ روايات جو غيبت کو شيعوں کا امتحان قرار ديتي ہيں کيونکہ امتحان جو غيبت کا فلسفہ بيان ہوا ہے وہ ختم ہوجائے گا اور غيبت اور غير غيبت ميں کوئي فرق نہيں رہے گا،اس بارے ميں روايات بہت زيادہ ذکر ہوئي ہيں مرحوم نعماني قدس سرہ نے اپني کتاب "الغيبہ" ميں باقاعدہ طور پر ايک باب ذکر کيا ہے جس ميں ان روايات کو جمع کيا گيا ہے جو کم وبيش بيس روايات بنتي ہيں ہم صرف ايک کو ذکر کرنے پر اکتفاء کرتے ہيں: ابوبصير امام صادق (عليہ السلام) سے امام زمانہ(عج) کے ساتھيوں کے بارے ميں سوال کرتا ہے، امام نے جواب ديا: "مع القائم من العرب شيء يسير"۔ "ظہور امام کے وقت عربوں ميں سے بہت کم لوگ امام

4