ہم آپ کی خدمت میں حضرت عقیل ابن ابی طالب کے چند حالات ذکر کرتے ہیں ان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے معاویہ کی نصرت کی یا پھر امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے طرف دار تھے۔
عقیل بن ابی طالب کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ معاویہ کے پاس گئے اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ معاویہ کے پاس امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی وفات کے بعد گئے جب امام حسن (علیہ السلام) اور معاویہ کے درمیان صلح ہوئی اور بعض کہتے ہیں وہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی حیات میں معاویہ کے پاس گئے۔
اگر وہ امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کی زندگی میں گئے تو روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جناب عقیل (رضوان اللہ علیہ) اپنے بھائی امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کےلیے خطوط لکھا کرتے تھے، جن میں وہ بتاتے کہ معاویہ یا اس کے ساتھی کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں یا کیا کر چکے ہیں۔ لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عقیل ممکنہ طور پر امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کےلیے رہنما (جاسوس) اور مددگار تھے۔
وہ کئی بار معاویہ کے سامنے جواب دے کر اسے جھاڑ پٹا دیتے تھے اور سر عام کہہ دیتے تھے کہ میں امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے لشکر سے گزرکر آیا ہوں وہ ایسا لشکر ہے جو لشکرِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح تھا ،جہاں صرف قرآن کی تلاوت یا عبادت کی جاتی تھی۔
اور جب وہ معاویہ کے لشکر میں جاتے تو سوال کرتے کہ یہ کون ہے جو تمہارے ساتھ بیٹھا ہے ،معاویہ کہتا :عمرو بن العاص تو عقیل کہتے کہ یہ وہ شخص ہے جس کے متعلق قریش کے چھ افراد نے اختلاف کیا (ہر ایک نے دعویٰ کیا کہ یہ میرا بیٹا ہے) اور جَزار (العاص) نے ان سب پر غلبہ پایا۔ پھر وہ سوال کرتے کہ یہ کون ہے آپ کی بائیں جانب، معاویہ کہتا :ابو موسی الاشعری، تو عقیل کہتے :یہ ابن السراقة ہے (چوری کرنے والی ماں کا بیٹا) یہ سن کر سب لوگ غصے میں آ جاتے۔
کبھی معاویہ عقیل کا موقف کو کمزور کرنے کی کوشش کرتا تو عقیل نہایت ذہانت سے حق بات کہہ دیتے اور آخرکار مجلس سے نکل جاتے۔
ایک بار معاویہ نے جناب عقیل کو بلایا اور ان کا استہزاء کرنے لگا کہ یہ ابو لہب ہے، جس پر عقیل نے کہا کہ جس کے متعلق قرآن میں آیا "اور اس کی عورت" وہ اسی معاویہ کی چچی ہے۔ پھر معاویہ نے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کو برا کہنے کو کہا تو جناب عقیل کہتے ہیں: علی حق کے ساتھ ہیں اور حق علی کے ساتھ ہے علی دین کے ساتھ ہیں اور تمہارے ساتھ دنیا ہے۔
معاویہ نے عقیل کو ایک لاکھ دینار دیے اور پوچھا کیا علی اتنی سخاوت کریں گے؟ جناب عقیل نے کہا: تم وہ دیتے ہو جو تمہارا نہیں علی وہ مال دیتے ہیں جو ان کا اپنا ہے۔
پھر جناب عقیل نے یہ ایک لاکھ دینار معاویہ کی طرف پھینک دیے اور باہر چلے گئے۔
معاویہ نے کہا کہ عقیل کی موجودگی نے ان کی مجالس خراب کر دی ہیں۔
لہذا جو شخص عقیل ابن ابی طالب کے حالات کا مطالعہ کرے گا وہ دیکھے گا کہ جناب عقیل کے اقدامات سے اہل شام کو بہت نقصان پہنچا کیونکہ وہ اہلِ بیت، امیرالمؤمنین (علیہ السلام)، امام حسن (علیہ السلام) اور سید الشہداء امام حسین (علیہ السلام) کے دفاع اور وفاداری میں اپنا نمایاں کردار ادا کرتے رہے اور بہت سے مصادر اس بات کی تصدیق کرتے ہیں۔