logo-img
رازداری اور پالیسی
( 32 Year ) - پاکستان
7 ماہ قبل

سند كتاب سليم بن قيس

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ "کتاب سلیم بن قیس حلالی" سند کے حوالے سے کس قدر اہمیت رکھی ہے، آیا اسکی سند امام زین العابدین ع اور امام جعفر صادق ع سے لی گئی ہے؟


وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کتابِ سلیم ان اوائل کتب میں سے ہے جو ہمارے پاس پہلی صدی ہجری سے پہنچی ہیں، کیونکہ اس کے مؤلف سلیم بن قیس ہلالی کی وفات تقریباً (76 – 80) ہجری کے درمیان ہوئی۔ اس کتاب کی حجیت پر فریقین کے درمیان شدید قسم کا اختلاف پایا جاتا ہے طوالت سے بچنے کےلیے ہم اس جہت کے متعلق گفتگو ترک کرتے ہوئے فقط مختصر کلام کریں گے تاکہ اس کی حجیت ثابت ہو سکے۔ سلیم نے اپنی کتاب قراءت اور مناولہ کے ذریعے ابان بن ابی عیاش کو منتقل کی اور ابان نے اسے بصرہ کے ایک بڑے شیعہ عالم عمر بن اُذینہ کے حوالے کی۔ اس کے بعد ابان یا ابن اُذینہ سے اس کی مختلف اسناد چلیں۔ بعض کے نزدیک ابان نے پوری کتاب ابن اُذینہ کو دی، اور بعض کے مطابق ابان نے دوسروں کو اس کی کچھ احادیث ہی سنائی تھیں۔ پھر یہ کتاب ان دونوں کے بعد کئی ہم عصر افراد تک پہنچی، جیسے: ابن ابی عُمَیر، حماد بن عیسی، عثمان بن عیسی، معمر بن راشد بصری، ابراہیم بن عمر یمانی، ہَمّام بن نافع صنعانی اور عبدالرزاق بن ہَمّام صنعانی۔ انہوں نے یہ کتاب یا تو ابن اُذینہ سے یا پھر ابن اُذینہ اور ابان دونوں سے حاصل کی۔ کتاب کے طرق اور نسخے یہ کتاب اور اس کی روایات ہم تک متعدد اسناد کے ذریعے پہنچی ہیں۔ بعض طریقے وہ ہیں جو قدیم نسخوں کے آغاز میں درج ہیں، بعض وہ ہیں جن میں پوری کتاب تک سلسلہ سند پہنچنے کو ثابت کرتے ہیں جبکہ بعض وہ ہیں جو ابان یا دوسروں کے واسطے سے کتاب سلیم کی احادیث تک پہنچتے ہیں، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ اصل کتاب سے ماخوذ ہیں۔ اس کے علاوہ، خواص اور بعض عامہ (اہل سنت) کے علماء کی طرف سے اس کتاب یا اس کی روایات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ان کے نزدیک معروف اور مشہور تھی۔ جہاں تک اس کے خطی نسخوں کا تعلق ہے، وہ تین راویوں پر ختم ہوتے ہیں: ابن ابی عمیر، حماد بن عیسی (شیخ طوسیؒ کے واسطے سے) اور معمر بن راشد بصری (محمد بن صبیح کے واسطے سے)۔ پہلا طریق (صحیح سند کے ساتھ) یہ طریق کم از کم ایک جگہ صحیح ہے، اور وہ شیخ طوسی سے سلیم تک اس سند کے ساتھ پہنچتا ہے۔ شیخ طوسی کہتے ہیں: ہمیں ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ غضائری نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں ابو محمد ہارون بن موسیٰ بن احمد تلعکبری (رحمہ اللہ) نے خبر دی انہوں نے کہا ہمیں ابو علی بن ہمام بن سہیل نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ بن جعفر حِمیری نے خبر دی، یعقوب بن یزید، محمد بن حسین بن ابی خطاب اور احمد بن محمد بن عیسی سے، انہوں نے محمد بن ابی عمیر سے، انہوں نے عمر بن اُذینہ سے، انہوں نے ابان بن ابی عیاش سے، اور انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے۔ دوسرا طریق شیخ طوسی کا دوسرا طریق یہ ہے۔ ہمیں ابن ابی جَید نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن حسن بن احمد بن ولید اور محمد بن ابی القاسم ماجَلوَیہ سے، انہوں نے محمد بن علی صَیرفی سے، انہوں نے حماد بن عیسی سے، انہوں نے ابان بن ابی عیاش سے، انہوں نے سلیم بن قیس ہلالی سے۔ اس طریق میں محمد بن علی صیرفی ہے جس پر غلو اور جھوٹ کا الزام لگایا گیا ہے لیکن اس پر بحث کی گنجائش باقی ہے، خاص طور پر اس بات کے حوالے سے کہ غلو کی تعریف اور اس کا مصداق کیا ہے یعنی کیا وہ واقعا غالی تھا یا اس پر غلو کی تہمت لگائی گئی۔ تیسرا طریق ابو طالب محمد بن صبیح بن رجا نے دمشق میں سنہ 334 ہجری میں کہا: مجھے ابو عمرو عصمۃ بن ابی عصمۃ بخاری نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابو بکر احمد بن منذر بن احمد صنعانی نے صنعاء میں خبر دی جو ایک صالح، امین اور اسحاق بن ابراہیم دُبری کے پڑوسی تھے انہوں نے کہا: ہمیں ابو بکر عبدالرزاق بن ہمام بن نافع صنعانی حِمیری نے خبر دی انہوں نے کہا: ہمیں ابو عروہ معمر بن راشد بصری نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے ابان نے بلایا … یہ طریق بعض مقامات پر اہلِ سنت کے رواۃ پر مشتمل ہے، البتہ وہ ان کے نزدیک معتبر ہیں۔ اور اس کے بعض افراد کے بارے میں کتبِ رجال میں کوئی تفصیل نہیں ملتی۔ کتاب سلیم بن قیس کی حجیت پر فقط ایک حدیث ذکر کرتے ہیں۔ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبْدُونٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزُّبَيْرِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ فَضَّالٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ، عَمَّنْ رَوَاهُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: هَذِهِ وَصِيَّةُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِلَى الْحَسَنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَهِيَ نُسْخَةُ كِتَابِ سُلَيْمِ بْنِ قَيْسٍ الْهِلَالِيِّ، رَفَعَهَا إِلَى أَبَانٍ وَقَرَأَهَا عَلَيْهِ. قَالَ أَبَانٌ: وَقَرَأْتُهَا عَلَى عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَقَالَ: صَدَقَ سُلَيْمٌ رَحِمَهُ اللَّهُ. قَالَ سُلَيْمٌ: فَشَهِدْتُ وَصِيَّةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ أَوْصَى إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَشْهَدَ عَلَى وَصِيَّتِهِ الْحُسَيْنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَمُحَمَّداً، وَجَمِيعَ وُلْدِهِ، وَرُؤَسَاءَ شِيعَتِهِ، وَأَهْلَ بَيْتِهِ. (الغيبة للطوسی ج ۱، ص ۱۹۴) احمد بن عبدون نے ہمیں خبر دی، ابن ابی الزبیر قریشی سے، انہوں نے علی بن الحسن بن فضال سے، انہوں نے محمد بن عبداللہ بن زرارہ سے اور انہوں نے اس سے جس نے یہ روایت کی انہوں نے عمرو بن شمر سے، انہوں نے جابر سے، انہوں نے امام ابو جعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام سے روایت کی۔ امام باقرؑ نے فرمایا: یہ امیر المؤمنین علیہ السلام کی وصیت ہے جو انہوں نے اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو فرمائی اور یہ سلیم بن قیس ہلالی کی کتاب کی ایک نقل ہے، جسے اُس نے ابان کی خدمت میں پیش کیا اور اُن پر پڑھا۔ ابان نے کہا: میں نے اسے امام علی بن الحسین علیہما السلام پر پڑھا تو آپ نے فرمایا: سلیم نے سچ کہا، اللہ اس پر رحمت نازل کرے۔ سلیم نے کہا: میں اس وقت موجود تھا جب امیر المؤمنین علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو وصیت کی اور اپنی وصیت پر امام حسین علیہ السلام، محمد (ابن حنفیہ)، اپنی تمام اولاد، اپنے شیعوں کے رؤسا اور اپنے اہلِ بیت کو گواہ بنایا۔

2