logo-img
رازداری اور پالیسی
Aqeelraza husssinali ( 57 Year ) - پاکستان
8 ماہ قبل

أسماء خاصّة لنخبة 313

السلام علیکم !امام زمانہ علیہ السلام کے خاص اصحاب 313 کے نام بتایں اور وہ کس جگہ سے ھونگے؟


وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ اس کے متعلق مختلف روایات وارد ہوئی ہیں ہم فقط ایک روایت کے ذکر پر اکتفاکرتے ہیں۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم! امیر المؤمنین (علیہ السلام) ان (اصحاب مہدی) کو ان کے ناموں، ان کے آباؤ اجداد اور ان کے قبائل کے لحاظ سے ایک ایک شخص کو پہچانتے تھے۔ اور ان کے گھروں کے مقامات اور ان کے مراتب سے آگاہ تھے۔ پس جو کچھ امیر المؤمنین نے پہچانا وہ سب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے پہچانا، اور جو امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے پہچانا وہ امام حسین علیہ السلام تک پہنچا اور جو امام حسین علیہ السلام نے جانا وہ علی بن الحسین علیہ السلام تک پہنچا اور جو کچھ علی بن الحسین علیہ السلام نے جانا وہ محمد بن علی (امام باقر) علیہ السلام تک منتقل ہوا اور جو کچھ محمد بن علی علیہ السلام نے جانا وہ انہوں نے اپنے جانشین یعنی (امام جعفر صادق علیہ السلام) تک پہنچا دیا۔ ابو بصیر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: کیا یہ سب لکھا ہوا ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: ہاں، یہ ایک کتاب میں لکھا ہوا ہے، دل میں محفوظ ہے، ذکر میں ثابت ہے اور اسے بھلایا نہیں جاسکتا۔ ابو بصیر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: مولا! آپ ان کی تعداد، ان کے شہروں اور مقامات کے بارے میں بتائیں تاکہ میں ان کے نام جان سکوں۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: جمعہ کے دن نماز کے بعد میرے پاس آنا۔ چنانچہ جمعہ کو میں حاضر ہوا تو امام نے فرمایا: اے ابو بصیر! تم اس مقصد کےلیے آئے ہو جس کے بارے میں پوچھا تھا؟ میں نے عرض کیا: جی، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!" امام علیہ السلام نے فرمایا: لیکن تم یاد نہیں رکھ سکو گے۔ تمہارا وہ ساتھی کہاں ہے جو تمہارے لیے لکھتا ہے؟ میں نے عرض کیا: شاید اسے کسی کام نے مشغول کر دیا اور میں نے چاہا کہ تاخیر نہ کروں۔ پس امام علیہ السلام نے اپنی مجلس میں موجود ایک شخص سے فرمایا: اسے لکھ دو۔ یہ وہی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے امیر المؤمنین علیہ السلام کو املا کروایا تھا اور ان کے سپرد کیا تھا۔ اس میں امام مہدی کے اصحاب کے نام اور ان کی تعداد درج ہے، جن میں وہ بھی شامل ہیں جو اپنے بستروں سے غائب ہو جائیں گے، اپنے قبائل سے نکل کر رات دن سفر کرتے ہوئے مکہ پہنچیں گے اور یہ اُس وقت ہوگا جب وہ آواز سنائی دے گی (یعنی ظہور کا وقت)۔ وہ لوگ نجباء، قضاة اور لوگوں کو حکم دینے والے ہوں گے۔ پھر امام علیہ السلام نے شہروں اور ان اصحاب کی تعداد ذکر فرمائی۔ طاربندِ شرقی: 1 شخص (مرابط سیاح) صامغان: 2 شخص فرغانہ: 1 شخص برید: 2 شخص دیلم: 4 اشخاص مرو الروذ: 2 اشخاص مرو: 12 اشخاص بیروت: 9 اشخاص طوس: 5 اشخاص القریات: 2 اشخاص سجستان: 3 اشخاص طالقان: 24 اشخاص جبل الغرر: 8 اشخاص نیشاپور: 18 اشخاص ہرات: 12 اشخاص وشیج: 4 اشخاص ری: 7 اشخاص طبرستان: 9 اشخاص قم: 18 اشخاص قرمس: 2 اشخاص جرجان: 12 اشخاص رَقّة: 3 اشخاص رافقة: 2 اشخاص حلب: 3 اشخاص سلمیة: 5 اشخاص طبرية: 1 شخص بافاد: 1 شخص بلبيس: 1 شخص دمياط: 1 شخص اسوان: 1 شخص فسطاط: 4 اشخاص قیروان: 2 اشخاص کرمان: 3 اشخاص قزوین: 2 اشخاص ہمَدان: 4 اشخاص جوقان: 1 شخص بَدو: 1 شخص خلاط: 1 شخص جابروان: 3 اشخاص نسوي: 1 شخص سنجار: 4 اشخاص طالقان: 1 شخص سيمسياط: 1 شخص نصيبين: 1 شخص حران: 1 شخص باغة: 1 شخص قابس: 1 شخص صنعاء: 2 اشخاص قارب: 1 شخص طرابلس: 2 اشخاص قلزم: 2 اشخاص العبثة: 1 شخص وادی القری: 1 شخص خیبر: 1 شخص بدا: 1 شخص الحار: 1 شخص کوفہ: 14 اشخاص مدینہ: 2 اشخاص ری: 1 شخص حيوان: 1 شخص کوثا: 1 شخص طهر: 1 شخص بيرم: 1 شخص اہواز: 2 اشخاص اصطخر: 2 اشخاص الموليان: 2 اشخاص دبیلة: 1 شخص صیدائیل: 1 شخص مدائن: 8 اشخاص عکبرا: 1 شخص حلوان: 2 اشخاص بصرہ: 3 اشخاص اس کے علاوہ اصحاب کہف (7 افراد) عانہ سے انطاکیہ جانے والے دو تاجر اور ان کا غلام (3 افراد) روم جانے والے مسلمان پناہ گزین (11 افراد) سرانديب میں اترنے والے دو اشخاص سِمَند کے 4 افراد سلَاہِط میں اپنے جہاز سے غائب ہونے والا شخص شیراز یا سیرَاف سے ایک شخص (راوی کو شک ہوا) سرُوانیہ کی طرف ہجرت کرنے والے 2 افراد صقلیہ میں گوشہ نشین شخص یخْشَب کا حق کا متلاشی شخص اپنی قبیلہ سے بھاگنے والا شخص سرخس کا وہ شخص جو کتاب کے ذریعے ناصبی پر احتجاج کرے گا۔ یہ سب ملا کر 313 افراد بنتے ہیں، جو اہل بدر کی تعداد کے برابر ہے۔ اللہ انہیں ایک ہی رات (جمعہ کی رات) میں مکہ میں جمع کرے گا اور صبح کو وہ سب مسجد الحرام میں موجود ہوں گے۔ ان میں سے کوئی ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ وہ مکہ کی گلیوں میں پھیل جائیں گے اور وہاں رہائش کےلیے جگہ تلاش کریں گے۔ اہل مکہ انہیں پہچان نہ سکیں گے کیونکہ وہ جانتے ہوں گے کہ نہ یہ حج کے قافلے ہیں، نہ عمرہ یا تجارت کے قافلے۔ چنانچہ اہل مکہ کہیں گے: ہم آج ایسے لوگوں کو دیکھ رہے ہیں جنہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ کسی ایک شہر کے بھی نہیں لگتے اور نہ ہی یہ دیہاتی ہیں، اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی اونٹ یا سواری ہے۔ اسی دوران قریش کے بنو مخزوم کا ایک شخص ان کے سردار کے پاس آئے گا اور کہے گا: میں نے آج رات ایک عجیب خواب دیکھا ہے جس سے میرا دل خوف زدہ ہے۔ وہ سردار سے کہے گا: خواب یہ تھا کہ آسمان سے ایک آگ کا گولہ اترا اور کعبہ پر آ کر گھومنے لگا۔ پھر وہ شعلے کی مانند جراد (ٹڈیوں) کی صورت اختیار کرکے کعبہ کے گرد چھا گیا اور پھر مشرق و مغرب کی طرف پھیل گیا جہاں سے بھی گزرا ہر بستی کو جلا ڈالا اور ہر آبادی کو تباہ کیا۔ میں اسی خوف سے بیدار ہوا۔ لوگ اسے "اقرع" (ثقفی) کے پاس لے جائیں گے تاکہ خواب کی تعبیر بتائے۔ وہ کہے گا یہ تو عجیب خواب ہے! رات کو خدا کے لشکر نے تمہیں گھیر لیا ہے جس کے مقابلے کی تم میں طاقت نہیں۔ یہ سن کر لوگ پریشان ہوں گے اور چاہیں گے کہ ان اجنبیوں پر حملہ کریں لیکن اللہ ان کے دلوں میں رعب ڈال دے گا۔ پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے جلدی نہ کرو، انہوں نے تمہارے خلاف کوئی برا کام نہیں کیا اور نہ ہی کوئی بغاوت دکھائی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ تمہارے اپنے قبیلوں کے ہی لوگ ہوں۔ اگر یہ کوئی بُرا قدم اٹھائیں گے تو تب تم ان سے نمٹ لینا۔ الف – امام صادق علیہ السلام نےفرمایا وہ لوگ (دشمن) انہیں دیکھیں گے کہ یہ سب دین دار ہیں، ان کی صورت و سیرت نیک ہے اور وہ خدا کے حرم (مکہ) میں ہیں، جس میں کسی کو کوئی زیادتی کرنے کی اجازت نہیں جب تک کوئی اس میں فساد نہ کرے۔ اس موقع پر قریش میں سے ایک سردار (مخزومی) کہے گا ہمیں یہ خطرہ ہے کہ ان کے پیچھے کوئی مددگار نہ آجائے، اگر ان کے ساتھی پہنچ گئے تو ان کا معاملہ قوی ہو جائے گا۔ تمہیں چاہئے کہ ابھی ان پر قابو پالو جبکہ یہ تعداد میں کم ہیں اور شہر میں انجان ہیں۔ یہ مکہ آئے ہیں اور ضرور ان کا کوئی مقصد ہے اور مجھے لگتا ہے کہ تمہارے ساتھی (پیغمبرؐ) کے خواب کی تعبیر سچی ہے۔ لہٰذا ان کے لیے اپنی سرزمین خالی کر دو اور مشورہ کر لو جبکہ موقع موجود ہے۔ دوسرا شخص کہے گا اگر ان کے پاس ان جیسے اور لوگ آئیں تو بھی تمہیں ان سے کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ ان کے پاس نہ اسلحہ ہے، نہ گھوڑے، نہ قلعہ جس میں پناہ لے سکیں۔ یہ سب اجنبی اور محصور ہیں۔ لیکن اگر ان کے ساتھ لشکر آ گیا اور تمہیں ان سے اور ان سے بیک وقت نمٹنا پڑا تو یہ ایسے ہوں گے جیسے پیاسا پانی پر ٹوٹ پڑتا ہے۔ وہ لوگ اس طرح کی باتیں کرتے رہیں گے یہاں تک کہ رات آ جائے گی اور خدا ان کی آنکھوں اور کانوں پر نیند طاری کر دے گا، پھر یہ لوگ بچھڑنے کے بعد کبھی دوبارہ اکٹھے نہیں ہوں گے یہاں تک کہ قائم علیہ السلام قیام کریں۔ اور فرمایا گیا: قائم کے اصحاب جب ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے وہ یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ شام کو جدا ہوں مگر صبح کو دوبارہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ یہی اللہ کے اس فرمان کی تفسیر ہے ﴿فَاستَبِقُوا الخَيرَاتِ أَينَ مَا تَكُونُوا يَأتِ بِكُمُ اللَّهُ جَمِيعاً﴾ ابو بصیر کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں قربان جاؤں! کیا اس وقت زمین پر ان کے علاوہ کوئی مومن نہیں ہوگا؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: کیوں نہیں، مگر یہ وہ جماعت ہے جس کے ذریعے قائم علیہ السلام ظہور کریں گے۔ یہ نجباء (منتخب کردہ لوگ)، قاضی، حاکم اور فقہاء دین ہوں گے۔ اللہ ان کے سینوں اور پشتوں پر ایسا اثر ڈالے گا کہ کوئی حکم ان پر مشتبہ نہ ہوگا۔ (معجم احادیث الامام المهديؑ، ج ۵، ص ۷۴–۳۷) اس کے بعد امام صادق علیہ السلام نے ابو بصیر کو قائم علیہ السلام کے اصحاب کے نام بتائے۔ طازبند شرقی: بندار احمد بن سکتہ المعروف بازان (سیاح و مرابط)۔ شام سے: دو شخص، ابراہیم بن الصباح (قصاب، قریہ صویقان کا رہنے والا) اور یوسف بن صریا (دمشق کا عطار)۔ صانعان سے: احمد بن عمر خیاط (بزیع کا رہائشی) اور علی بن عبد الصمد تاجر (نجارین کا رہائشی)۔ سراف سے: سلم کوسج بزاز (باغ کا رہنے والا)، خالد بن سعید بن کریم دہقان، کُلیب دانشاہ کا رہنے والا۔ مرو رود سے: جعفر شاہ دقاق، جور مولیٰ الخصیب۔ مرو سے: بارہ آدمی؛ بندار بن خلیل عطار، محمد بن عمر صیدانی، عریب بن عبداللہ بن کامل، مولیٰ قحطب، سعد رومی، صالح بن الرحال، معاذ بن ہانی، کردوس ازدی، دہیم بن جابر بن حمید، طاشف بن علی قاجانی، قرعان بن سوید، جابر بن علی احمر، خوشب بن جریر۔ بارود سے: نو آدمی؛ زیاد بن عبدالرحمان بن جحدب، عباس بن فضل بن قارب، سُحَیق بن سلیمان حناط، علی بن خالد، سلم بن سلیم بن فرات بزاز، محموية بن عبدالرحمان بن علی، جریر بن رستم بن سعد کیسائی، حرب بن صالح، عمارة بن معمر۔ طوس سے چار آدمی؛ شهمرد بن حمران، موسیٰ بن مہدی، سلیمان بن طلیق (وادی سے، وادی وہ جگہ ہے جہاں امام رضاؑ کا روضہ ہے)، علی بن سندی صرّاف۔ فاریاب سے: شاہویہ بن حمزہ، علی بن کلثوم (باب الجبل کے رہائشی)۔ طالقان سے: چوبیس آدمی؛ ابن الرازی جبلی، عبداللہ بن عمیر، ابراہیم بن عمر، سهل بن رزق اللہ، جبرئیل حداد، علی بن ابی علی رواف، عبادہ بن ممهور، محمد بن جیھار، زکریا بن حبة، بہرام بن سرح، جمیل بن عامر بن خالد، خالد، کثیر مولیٰ جریر، عبداللہ بن قرط بن سلام، فزارة بن بہرام، معاذ بن سالم بن جلیـد تمار، حمید بن ابراہیم بن جمعہ غزال، عقبہ بن وفر بن الربیع، حمزہ بن عباس بن جنادہ (دار الرزق سے)، کائن بن حنیذ صائغ، علقمہ بن مدرک، مروان بن جمیل بن ورقا، ظہور مولیٰ زرارہ بن ابراہیم، جمهور بن حسین زجاج، ریاش بن سعید بن نعیم۔ سجستان سے: خلیل بن نصر (زنج کا رہنے والا)، ترک بن شبہ، ابراہیم بن علی۔ غرر سے: آٹھ آدمی؛ محج بن خربوذ، شاهد بن بندار، داود بن جریر، خالد بن عیسیٰ، زیاد بن صالح، موسیٰ بن داود، عرف الطویل، یرکُرد۔ نیشاپور سے اٹھارہ آدمی؛ سمعان بن فاخر، ابو لبابہ بن مدرک، ابراہیم بن یوسف قصیر، مالک بن حرب بن سکین، زرود بن سوکن، یحییٰ بن خالد، معاذ بن جبرئیل، احمد بن عمر بن زفر، عیسیٰ بن موسیٰ سواق، یزید بن درست، محمد بن حماد بن شیت، جعفر بن طرخان، علان ماہویہ، ابو مریم، عمر بن عمیر بن مطرف، بلیل بن وهاید بن هو مردیار۔ ہرات سے بارہ آدمی؛ سعید بن عثمان وراق، ماسح بن عبداللہ بن نبيل، غلام کندی، سمعان قصاب، ہارون بن عمران، صالح بن جریر، مبارک بن معمر بن خالد، عبدالأعلى بن ابراہیم بن عبده، نزل بن حزم، صالح بن نعیم، أرم بن علی، خالد القوانس۔ بوسنج سے چار آدمی؛ طاہر بن عمرو بن طاہر (الأصلع)، ہشام۔ ری سے سات آدمی؛ اسرائیل قَطّان، علی بن جعفر بن حرزاد، عثمان بن علی بن درخت، مسکان بن جبلة بن مقاتل، كردين بن شیبان، حمدان بن كر، سلیمان بن دیلمی۔ طبرستان سے چار آدمی؛ حرشام بن كردم، بہرام بن علی، عباس بن ہاشم، عبداللہ بن یحییٰ۔ قم سے اٹھارہ آدمی؛ غسان بن محمد عتبان، علی بن احمد بن بقرة بن نعيم بن یعقوب بن بلال، عمران بن خالد بن كليب، سهل بن علی بن صاعد، عبدالعظيم بن عبداللہ بن الشاه، حسكة بن هاشم بن الداية، الأخوص بن محمد بن اسماعیل بن نعیم بن طریف، بليل بن مالك بن سعد بن طلحة بن جعفر بن احمد بن جریر، موسیٰ بن عمران بن لاحق، عباس بن بقر بن سلیم، حويد بن بشر بن بشیر، مروان بن علابة بن جریر (ابن رأس الزق)، صقر بن اسحاق بن ابراہیم، كامل بن هشام۔ قومس سے دو آدمی؛ محمود بن محمد بن ابی الشعب، علی بن حموية بن صدقة (قرية الخرقان کے رہائشی) جرجان سے: بارہ آدمی؛ احمد بن ہارون بن عبداللہ، زرارة بن جعفر، حسین بن علی بن مطر، حمید بن نافع، محمد بن خالد بن قرة بن حوتة، علا بن حمید بن جعفر بن حمید، ابراہیم بن اسحاق بن عمرو، علی بن علقمة بن محمود، سلمان بن یعقوب، عریان بن خفان (ملقب بخال روت)، شعبہ بن علی، موسیٰ بن كردويه۔ موقان سے: ایک آدمی؛ عبید بن محمد بن ماجور۔ سند سے: دو آدمی؛ سياب بن عباس بن محمد، نضر بن منصور (معروف بناقشت)۔ ہمدان سے چار آدمی: ہارون بن عمران بن خالد، طیفور بن محمد بن طیفور، ابان بن محمد بن ضحاک، عتاب بن مالک بن جمهور۔ جابروان سے تین آدمی کرد بن حنیف، عاصم بن خلیط خیاط، زیاد بن رزین۔ الشورى سے ایک شخص: لقیط بن فرات۔ خلاط سے: وہب بن خربند بن سروین۔ تفلیس سے پانچ آدمی: جحدر بن الزیت، ہانی العطاردي، جواد بن بدر، سلیم بن وحید، فضل بن عمیر۔ قرباب الأبواب سے جعفر بن عبدالرحمان۔ سنجار سے چار آدمی عبداللہ بن زریق، سمیم بن مطر، ہبۃ اللہ بن زریق بن صدقہ، ہبل بن کامل۔ تألیف سے کردوس بن جابر۔ سمیاط سے موسیٰ بن زرقان۔ نصیبین سے دو آدمی: داود بن المحق، حامد (صاحب البواری)۔ موصل سے سلیمان بن صبیح (قریہ الحدیثہ کا رہنے والا)۔ یَلمورق سے دو آدمی بادصبا بن سعد بن سحیر، احمد بن حمید بن سوار۔ بلد سے بور بن زائدہ بن ثوارن۔ رُہا سے کامل بن عُفَیر۔ حران سے زکریا السعدی۔ برقہ سے تین آدمی احمد بن سلیمان بن سلیم، نوفل بن عمرو، اشعث بن مالک۔ الرابعة سے عیاص بن عاصم بن سمرہ بن جحش، ملیح بن سعد۔ حلب سے چار آدمی یونس بن یوسف، حمید بن قیس بن سُحَیم بن مدرک بن علی بن حرب بن صالح بن میمون، مہدی بن ہند بن عطارد، مسلم بن ہو أمرد۔ دمشق سے تین آدمی نوح بن جویر، شعیب بن موسیٰ، حجر بن عبداللہ الفزاری۔ فلسطین سےسوید بن یحییٰ۔ بعلبک سے المنزل بن عمران۔ طبرية سے معاذ بن معاذ۔ یافا سے صالح بن ہارون۔ قومس سے ریاب بن الجلد، خلیل بن السید۔ تیس سے یونس بن الصقر، احمد بن مسلم بن سلم۔ دمیاط سے علی بن زائدہ۔ اسوان سے حماد بن جمهور۔ فسطاط سے چار آدمی نصر بن حواس، علی بن موسیٰ الفزاری، ابراہیم بن صفیر، یحییٰ بن نعیم۔ قیرَوان سے علی بن موسیٰ بن الشیخ، عنبرہ بن قرطہ۔ باغہ سے شرحبیل السعدی۔ تلبیس سے علی بن معاذ۔ بالسین سے ہمام بن فرات۔ صنعاء سے: فیاض بن ضرار بن ثروان، میسرة بن غندر بن مبارک۔ ملزن سے عبد الکریم بن غند۔ طرابلس سے ذوالنور بن عبیدہ بن علقمہ۔ إبله سے دو آدمی یحییٰ بن بدیل، حواشہ بن فضل۔ وادی القریٰ سے حر بن زبرقان۔ الجيزة سے سلیمان بن داود۔ ریدار سے طلحہ بن سعید بن بہرام۔ الجار سے حارث بن میمون۔ مدینہ سے دو آدمی حمزہ بن طاہر، شرحبیل بن جمیل۔ ربذہ سے حماد بن محمد بن نصیر۔ کوفہ سے چودہ آدمی ربیعہ بن علی بن صالح، تمیم بن الیاس بن اسد، العضرم بن عیسیٰ، مطرف بن عمر کندی، ہارون بن صالح بن میثم، وکایا بن سعد، محمد بن روایہ، حرب بن عبداللہ بن ساسان، قودہ الاعلم، خالد بن عبد القدوس، ابراہیم بن مسعود بن عبدالحمید، بکر بن خالد، احمد بن ریحان بن حارث، غوث الاعرابی۔ قلزم سے المرجئة بن عمرو، شبیب بن عبداللہ۔ حیرہ سے بکر بن عبداللہ بن عبد الواحد۔ كرثا سے ربا بن حفص بن مروان۔ الطاهي سے جاب بن سعید، صالح بن طیفور۔ اہواز سے عیسیٰ بن تمام، جعفر بن سعید الضرير (جو دوبارہ بینا ہوگا)۔ شام سے علقمہ بن ابراہیم۔ اصطخر سے المتوکل بن عبداللہ، ہشام بن فاخر۔ المولیان سے حیدر بن ابراہیم۔ نيل سے شاکر بن عبده۔ قندیل سے عمرو بن فروہ۔ مدائن سے آٹھ آدمی محمد و احمد (ابناء المنذر)، تیمور بن حارث، معاذ بن علی بن عامر بن عبدالرحمن بن معروف بن عبداللہ، حرسی بن سعید، زہیر بن طلحہ، نصر، منصور۔ عکبرا سے زائدہ بن ہبہ۔ حلوان سے ماهان بن کثیر، ابراہیم بن محمد۔ بصرہ سے عبدالرحمن بن الاعطف بن سعد، احمد بن ملیح، حماد بن جابر۔ اصحاب کہف سات افراد مکسلمینا اور اس کے ساتھی۔ تاجران انطاکیہ سے موسیٰ بن عون، سلیمان بن حر اور ان کا غلام رومی۔ مستأمنہ (روم جانے والے گیارہ آدمی) صہیب بن عباس، جعفر بن …، حلال بن حمید، ضرار بن سعید، حمید القدوسی، المنادی، مالک بن خلید، بکر بن الحر، حبیب بن حنان، جابر بن سفیان۔ سَرانديب میں دو افراد جعفر بن زکریا، دانیال بن داود۔ سندرا سے چار آدمی خور بن طرخان، سعید بن علی، شاہ بن بزرج، حر بن جمیل۔ سَلاهط میں کشتی سے گم شدہ منذر بن زید۔ سيراف یا شیراز سے مسعدہ الحسین بن علوان۔ سروانية کو بھاگنے والے: السری بن اغلب، زیادۃ اللہ بن رزق اللہ۔ صقلیہ میں گوشہ نشین ابو داود الشعشاع۔ حق کی تلاش میں طواف کرنے والا: یخشب (عبداللہ بن صاعد بن عقبہ)۔ بلخ سے بھاگنے والا ادس بن محمد۔ سرخس کے ناصبی پر احتجاج کرنے والا نجم بن عقبہ بن داود۔ فرغانہ سے ازدجاه بن الوابص۔ برّیہ سے صخر بن عبدالصمد القنابلی، یزید بن القادر۔ پس یہ تعداد تین سو تیرہ (313) آدمیوں کی ہے، جو اہلِ بدر کی تعداد کے برابر ہے۔