پاک حضرت بی بی فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے دربار جانا،سیدہ سلام اللہ علیہا کا حق نہ دینا،سیدہ سلام اللہ علیہا کا دروازہ جلانا،
اور کس نے دروازہ جلایا،اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب کلمہ اور دوات مانگی تو کس نے کہا کہ ہمارے لیے قرآن کافی ہے۔یہ سب اہلِ سنت کی کتب میں حوالہ نمبر کے ساتھ عرض کریں گے، شکریہ۔
ہم تمام سوالوں کے اکٹھے جواب نہیں دے سکتے برائے مہربانی آپ کا جو بھی مطلوبہ سوال ہو ہمیں الگ الگ ارسال کریں تاکہ ہمیں جواب دینے میں آسانی ہو۔
جہاں تک سیدہ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا پر ہونے والےظلم کا سوال ہے تو ہم آپ کی خدمت میں اہل سنت کی مشہور و معروف کتب سے چند حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن سے بآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ آخر اس دلخراش واقعے کا سبب کون افراد تھے۔
1. الامامة والسياسة (ابن قتیبہ دینوری)۔۔۔اور حضرت ابو بکر نے ان لوگوں کو تلاش کیا جو ان کی بیعت سے پیچھے رہ گئے تھے اور وہ علی (علیہ السلام) کے ساتھ تھے، تو انہوں نے خلیفہ دوم کو ان کے پاس بھیجا۔ خلیفہ دوم نے آ کر انہیں بلایا، لیکن انہوں نے باہر آنے سے انکار کر دیا۔ خلیفہ دوم نے لکڑیاں منگوائیں اور کہا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، یا تو باہر آؤ ورنہ میں اس گھر کو اس میں رہنے والوں سمیت جلا دوں گا۔ کسی نے کہا: اے ابو حفص! اس میں فاطمہ بھی رہتی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: تو کیا ہوا!" (جلد 1، صفحہ 30)
2. المختصر في أخبار البشر (ابو الفداء اسماعیل) … حضرت عمر آگ پکڑ کر آئے تاکہ گھر کو جلائے۔ حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) ان سے ملیں اور کہا: اے ابن خطاب! کیا تم ہمارا گھر (جلانے کے لیے آئے ہو)؟ انہوں نے کہا: ہاں، یا تم وہ کرو جو امت نے کیا ہے۔ (جلد 1، صفحہ 156)
3. تاریخ الأمم والملوك (ابن جریر طبری) … زیاد بن کلیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر حضرت علی علیہ السلام کے گھر آئے، جہاں طلحہ، زبیر اور مہاجرین میں سے کچھ لوگ موجود تھے۔ حضرت عمر نے کہا: قسم ہے اللہ کی، یا تو باہر آؤ یا میں تم سب کو جلا دوں گا!" (جلد 3، صفحہ 198)
4. أنساب الأشراف (بلاذری) … حضرت ابو بکر نے حضرت علی علیہ السلام کو بیعت کےلئے بلایا، لیکن وہ نہیں آئے۔ عمر ایک فتیلہ لے کر آئے اور دروازے پر فاطمہ (سلام اللہ علیہا) سے ملے۔ حضرت فاطمہ علیہا السلام نے کہا: اے ابن خطاب! کیا تم میرے دروازے کو جلاؤ گے؟ حضرت عمر نے کہا: ہاں، جو کچھ تمہارے والد لائے تھے وہ اس سے کہیں زیادہ قوی ہے۔ (جلد 1، صفحہ 586)
5. الملل والنحل (شہرستانی)"… نظّام نے کہا کہ حضرت عمر چلا کر کہتے تھے: اس گھر کو گھر والوں سمیت جلا دو! (جلد 1، صفحہ 56)
6. العقد الفريد (جلد 5، صفحہ 12، مطبعہ مکتبہ ریاض)
7. شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید، جلد 1، صفحہ 134)
8. كنز العمال (المتقی الہندی، جلد 5، صفحہ 651
9. اعلام النساء (عمر رضا کحالة، جلد 4، صفحہ 114)
مزید حوالہ جات
حضرت ابو بکر کا اپنے عمل پر ندامت کا اعتراف کرنا خود اس واقعے کی تصدیق کرتا ہے۔
الذهبي (ميزان الاعتدال)۔۔۔۔عبد الرحمن بن عوف سے روایت ہے … حضرت ابو بکر نے کہا: مجھے ان تین کاموں پر افسوس ہے جو میں نے کیے: میں چاہتا تھا کہ کاش میں نے فاطمہ کے گھر کا دروازہ نہ کھلوایا ہوتا اور اسے چھوڑ دیا ہوتا… (جلد 2، صفحہ 215)
یہی بات دیگر کتب میں بھی بیان کی گئی ہے:
كنز العمال (جلد 5، صفحہ 631)
لسان الميزان (ابن حجر عسقلانی، جلد 4، صفحہ 219)
مروج الذهب (جلد 2، صفحہ 301)
الامامة والسياسة (ابن قتیبہ، جلد 1، صفحہ 18)
تاریخ الأمم والملوك (جلد 2، صفحہ 619)
سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا پر ہونے والے مظالم کے متعلق مزید جاننے کےلیے سید جعفر مرتضی العاملی کی کتاب مأساة الزهراء کی طرف رجوع کریں۔
اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری وقت میں قلم اور دوات نہ دینے کے حوالے سے ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی نے اپنی کتاب المیہ جمعرات میں تفصیلی گفتگو کی ہے آپ اس کی طرف مراجعہ کریں۔