قرآن میں سائنسی علوم؟
قرآن کریم میں بہت سی آیات ہیں جن میں کائنات، زمین، سمندر، نباتات، حیوانات اور انسانی تخلیق سے متعلق ایسے حقائق بیان ہوئے ہیں جو جدید سائنس سے مطابقت رکھتے ہیں۔ مفسرین اور جدید محققین انہیں قرآن کے علمی اعجاز کےطور پر دیکھتے ہیں۔
یہاں یہ بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ کائنات کے اسرار و رموز کے متعلق جو کچھ قرآن کہتا ہے اس میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہوتی جبکہ سائنس کے ذریعے کشف ہونے والی چیزوں میں تغیر اور تبدل دیکھنے کو ملتا ہے یعنی سائنس جس نظریہ کو ثابت کرتی ہے کچھ عرصہ بعد دوسرا سائنسدان آ کر اس کے مخالف نظریہ کو اختیار کر لیتا ہے لہذا حقیقت کے ادراک کےلیے سائنس کو معیار بنانا درست نہیں پس اگر کوئی چیز معیار اور ملاک بن سکتی ہے تو وہ قرآن اور اسلامی تعلیمات ہیں۔
قرآن مجید میں مذکور چند ایسی مثالیں جو جدید سائنس سے مطابقت رکھتی ہیں۔
1۔ أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا۔۔۔ (الأنبياء (21:30)
کیا کفار اس بات پر توجہ نہیں دیتے کہ یہ آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کر دیا ہے اور تمام جاندار چیزوں کو ہم نے پانی سے بنایا ہے۔
ایک تفسیر کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ آسمانوں اور زمین میں سے ہر ایک باہم ملے ہوئے تھے درمیان میں کوئی شگاف نہ تھا۔ ہم نے ان دونوں میں شگاف ڈال دیا تو آسمان برسنے اور زمین سبزہ اُگانے لگی۔
جیساکہ سائنس بھی اس چیز کو مانتی ہے کہ تمام جانداروں کو پانی سے خلق کیا گیا۔
سیل (Cell) جو ہر جاندار کی بنیادی اکائی ہے، اس کا 70% سے 90% حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔
تمام کیمیائی عمل (Metabolic Reactions) جو جاندار کو زندہ رکھتے ہیں، وہ پانی میں ہی انجام پاتے ہیں۔
زمین پر زندگی کی ابتدا کے نظریات میں (مثلاً "Primordial Soup Hypothesis" اور "Abiogenesis") یہ بتایا جاتا ہے کہ سب سے پہلی حیاتیاتی کیمیاوی ترکیب پانی میں ہوئی۔
2۔ وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ۔ (الذاريات (51:4)
یعنی ہم نے آسمان کو قوت سے بنایا اور ہم اسے وسیع کر رہے ہیں۔
جدید فلکیات کے مطابق کائنات مسلسل پھیل رہی ہے (Expanding Universe)
3۔ زمین کی ساخت اور پہاڑ
وَأَلْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِكُمْ۔ (النحل 15:16)
یعنی ہم نے زمین میں پہاڑوں کو گاڑ دیا تاکہ وہ تمہیں ہلا نہ دیں۔
جدید سائنس پہاڑوں کو زمین کےلیے stabilizers قرار دیتی ہے جیسے کیل زمین میں گڑے ہوتے ہیں۔
4۔ بارش اور آبی سائیکل
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَلَكَهُ يَنَابِيعَ فِي الْأَرْضِ…(الزمر (39:2)
یہ آبی چکر (Water Cycle) کی وضاحت ہے: بارش کا زمین میں جذب ہونا پھر چشمے/ندیوں کے ذریعے نکلنا۔
5۔ انسان کی تخلیق اور جنین (Embryology)
المؤمنون (23:12–14)
ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا پھر اسے نطفہ بنایا، پھر علقہ (جونک جیسی شکل) بنایا، پھر مضغہ (لوتھڑا) بنایا…
یہ مراحل جدید ایمبریولوجی سے بالکل مطابقت رکھتے ہیں۔
نوٹ: مزید تفصیلات کےلیے اسلام اور جدید سائنس کے عنوان سے بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں آپ ان کی طرف مراجعہ کریں۔