logo-img
رازداری اور پالیسی
( 18 Year ) - پاکستان
10 ماہ قبل

شہوت پر قابو پانے اور گناہوں سے بچنے کے عملی طریقے

بعض اوقات شہوت کا بہت غلبہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے گناہ ہو جاتا ہے۔ عرض ہے کہ غیر شادی شدہ لوگ جن کی شادی میں ابھی دو تین سال ہوں، وہ شہوت کو کس طرح قابو کریں کہ اس کی وجہ سے ہونے والے گناہ سے بچ سکیں۔ بہت کوشش کے باوجود اس پر قابو پانا مشکل ہے۔ شادی کی عمر کو ابھی پہنچنے میں دو تیں سال ہیں۔ میں 17 سال کا ہوں؟


سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ شہوت کا پیدا ہونا فطری اور اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ جذبہ ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے حلال راستہ بھی مقرر کیا ہے — یعنی شادی۔ اور اس وقت تک جب انسان شادی نہیں کر سکتا، شریعت اور عقل یہ چاہتی ہے کہ وہ صبر اور پرہیز کے ساتھ خود کو قابو میں رکھے۔ آپ کی عمر ایسی ہے جس میں نفس کی خواہشات شدت سے ابھرتی ہیں، مگر اسی مرحلے پر اگر آپ نے خود پر قابو پا لیا تو یہ آپ کے لیے آخرت میں بڑا سرمایہ ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس پر قابو کیسے پایا جائے؟ اس کے لیے درج ذیل نکات پر عمل کریں: 1. شہوت کو ابھارنے والے عوامل سے مکمل پرہیز کریں جو چیزیں شہوت کو بیدار کرتی ہیں، ان سے خود کو دور رکھنا لازم ہے، جیسے:فلمیں، ڈرامے،انسٹاگرام، فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز،فحش یا نیم فحش مواد،غیر ضروری نیٹ گردی وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں ظاہری طور پر معمولی لگتی ہیں، مگر درحقیقت دل و دماغ میں زہر گھول دیتی ہیں۔ 2. تنہائی سے بچیں اکیلا بیٹھنا، خاص طور پر موبائل کے ساتھ، ایسے خیالات کو جنم دیتا ہے جو گناہ کی طرف لے جاتے ہیں۔اگر تنہائی ناگزیر ہو، تو موبائل یا انٹرنیٹ تک رسائی محدود کریں ہمیشہ کھلی جگہ یا گھر والوں کے پاس بیٹھنے کی عادت ڈالیں۔ 3. نماز میں خشوع و خضوع پیدا کریں نماز صرف فرض ادا کرنا نہیں، بلکہ اللہ سے تعلق کا ذریعہ ہے۔وقت پر نماز پڑھیں۔معنی و تفسیر کے ساتھ قرآن پڑھیں نیز دعا کریں کہ اللہ شہوت پر قابو عطا کرے إن الصلاة تنهى عن الفحشاء والمنكر ترجمہ : بے شک نماز بے حیائی اور برے کاموں سے روکتی ہے۔ 4. نفلی روزے رکھیں روزہ نفس کی خواہشات کو کمزور کرتا ہے اور دل کو پاک کرتا ہے۔ہر ماہ بلکہ ہر ہفتے میں چند دن روزہ رکھنا شروع کردیں۔ 5. برے دوستوں سے بچیں ایسے دوست جو گندی باتیں کرتے ہیں، فحش لطیفے سناتے ہیں یا گناہ کی طرف بلاتے ہیں، ان سے فورا دوری اختیار کریں۔ نیک، نمازی، اور شریف دوستوں کی صحبت اختیار کریں۔ 6. اپنے وقت کو بامقصد مشغول کریں فارغ وقت سب سے بڑا دشمن ہے۔ اگر آپ خود کو کسی کام میں لگا لیں تو ذہن ادھر ادھر نہیں بھٹکے گا۔ کوئی جز وقتی (part-time) نوکری کریں، کوئی ہنر سیکھیں (جیسے کمپیوٹر، گرافک ڈیزائن، ویڈیو ایڈیٹنگ)، کوئی کھیل یا جسمانی مشغلہ اپنائیں۔ یاد رکھیں کہ جب آپ خود کو کام میں الجھائیں گے، تو آپ کا دماغ بھی اسی میں لگا رہے گا اور شہوانی خیالات سے محفوظ رہے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ جیسے نوجوانوں سے بہت محبت کرتا ہے، اور جو جوان گناہ کی دعوت کے باوجود صبر کرتا ہے، اس کا مقام بہت بلند ہے۔ بلکہ ملتا ہے کہ وہ نوجوان جو اللہ کی عبادت میں جوانی گزارے، قیامت کے دن عرش کے سائے تلے ہوگا۔ لہذا، اللہ سے بار بار دعا مانگتے رہیں، مایوس نہ ہوں، اور کوشش جاری رکھیں۔ اللہ یقیناً مدد فرمائے گا۔

3