وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ.
میاں بیوی ایک دوسرے سے ہر طریقے سے لذت اٹھا سکتے ہیں، اور کوئی بھی ایسا طریقہ نہیں ہے جس میں زنا کا حکم لگایا جا سکے.
البتہ، عورت کے دبر(پچھلی جگہ) کے ذریعے جماع کرناسخت مکروہ ہے، اور احتیاطا اسے ترک کرنا بہتر ہے، بالخصوص اس صورت میں کہ جب عورت راضی نہ ہو۔ اور اگر اس سے عورت کو اذیت پہنچتی ہو تو یہ حرام ہے۔
البتہ جماع کے چند ایک مستحبات و مکروہات ہیں:
مستحب امور:
ان میں سے ایک یہ ہے کہ جماع کے وقت اللہ کا نام لے (یعنی "بسم اللہ.. " پڑھے)، کیونکہ یہ شیطان کی شراکت سے بچاؤ کا ذریعہ ہے۔
امام صادقؑ سے روایت ہے:
إِنَّهُ إِذَا أَتَىٰ أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ فَلْيَذْكُرِ اللَّـهَ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ وَكَانَ مِنْهُ وَلَدٌ كَانَ شِرْكُ الشَّيْطَانِ.
"جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس جائے تو اللہ کو یاد کرے، اگر وہ ایسا نہ کرے اور اس سے کوئی بچہ پیدا ہو، تو وہ شیطان کا شریک ہوگا۔"
اور اسی مفہوم کی بہت سی احادیث ہیں۔
مستحبات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان اللہ سے یہ دعا کرے کہ وہ اسے نیک، بابرکت، پاکیزہ، صالح، اور متوازن بیٹا عطا کرے۔
نیز مستحب ہے کہ وضو کی حالت میں جماع کرے، بالخصوص اس وقت کہ جب عورت حاملہ ہو۔
مکروہ امور:
ان اوقات میں جماع مکروہ ہے:
چاند گرہن کی رات،
سورج گرہن کے دن،
سیاہ یا زرد آندھی اور زلزلےکے دن
سورج کے غروب کے وقت سے لے کر شفق (سرخی) ختم ہونے تک
صبح صادق کے بعد سے سورج نکلنے تک
ماہِ قمری کے آخری دنوں (محاق) میں
ہر قمری مہینے کی پہلی رات (سوائے رمضان کے)
ہر مہینے کی پندرہویں رات
بدھ کی رات
عید الاضحی اور عید الفطر کی راتیں
البتہ، یہ اوقات جماع کے لیے مستحب ہیں:
پیر، منگل، جمعرات، اور جمعہ کی راتیں
جمعرات کے دن زوال (دوپہر) کے وقت
جمعہ کے دن عصر کے بعد
مندرجہ ذیل صورتوں میں بھی جماع مکروہ ہے:
سفر میں کہ جب غسل کیلئے پانی موجود نہ ہو،
ننگی (بغیر کپڑوں کی) حالت میں
احتلام کے بعد غسل سے پہلے جماع کرنا
ہاں، اگر کئی بار درمیان میں غسل کیے بغیر جماع کیا جائے اس طرح کہ آخر میں ایک غسل بجا لایا جائے تو کوئی حرج نہیں،
البتہ ہر بار فرج (شرمگاہ) دھونا اور وضو کرنا مستحب ہے
قبلہ رخ ہو کر یا قبلہ کی طرف پشت کر کے جماع کرنا
کشتی میں
جماع کے وقت ذکر خدا کی بجائے دنیاوی باتیں کرنا
مرد یا عورت کا مہندی لگا کر جماع کرنا
بھرے پیٹ جماع کرنا
امام صادقؑ نے فرمایا:
ثَلاثٌ يَهْدِمْنَ الْبَدَنَ وَرُبَّمَا قَتَلْنَ: دُخُولُ الْحَمَّامِ عَلَىٰ الْبَطْنَةِ، وَالْغِشْيَانُ عَلَىٰ الْاَمْتِلاءِ، وَنِكَاحُ الْعَجَائِزِ.
"تین چیزیں جسم کو تباہ کرتی ہیں اور کبھی مار بھی ڈالتی ہیں: شکم سیر ہو کر حمام جانا، بھرے پیٹ جماع کرنا، اور بوڑھی عورتوں سے نکاح۔"
کھڑے ہو کر جماع کرنا
کھلے آسمان کے نیچے جماع کرنا
پھل دار درخت کے نیچے جماع کرنا
مرد اور عورت کا ایک ہی کپڑا (رومال یا تولیہ) استعمال کرنا بھی مکروہ ہے، بلکہ مرد کا الگ کپڑا ہو اور عورت کا الگ، اور وہ دونوں ایک ہی کپڑے سے نہ پونچھیں تاکہ شہوت ایک دوسرے پر نہ پڑے۔
کیونکہ حدیث میں ہے:
إِنَّ ذَٰلِكَ يُعَقِّبُ بَيْنَهُمَا الْعَدَاوَةَ.
"ایسا کرنے سے ان دونوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوتی ہے۔"