فقہ امامیہ میں آئمہ اہل بیت علییم السلام کی تعلیمات پر مشتمل نماز وہی ہے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ علیہ وآلہ وسلم ادا کیا کرتے تھے. لہذا ہمارے نزدیک نماز اہل بیتؑ کے فرامین کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کے تمام ارکان اور تفصیلات اہل بیتؑ کی احادیث سے ماخوذ ہیں۔ میں آپ کو مختصر اور جامع طریقہ بتا رہا ہوں:
نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ (شیعہ فقہ کے مطابق)
1. نیت
دل میں ارادہ کریں کہ میں اللہ کی رضا کے لیے واجب/مستحب نماز پڑھ رہا ہوں (زبان سے کہنا ضروری نہیں)۔
2. تکبیرۃ الاحرام
ہاتھوں کو کانوں تک اٹھائیں اور ہاتھ اٹھاتے وقت کہیں: "اللّٰهُ أَكْبَرُ"۔اور مستحب ہے کہ ختم تب کرے جب ہاتھ کانوں تک پہنچ جائیں۔
مرد ہاتھ کھلے رکھیں، سینے یا پیٹ پر باندھنا جائز نہیں۔
عورت: ہاتھ سینے کے قریب رکھ سکتی ہیں، لیکن باندھنا نہیں۔
3. سورہ فاتحہ اور دوسری سورہ
پہلی اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد (بسم اللہ سمیت) اور اس کے بعد کوئی اور مکمل سورہ (جیسے سورہ توحید) پڑھیں۔
4. رکوع
رکوع میں جا کر کہیں: "سُبْحَانَ رَبِّيَ العَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ" (کم از کم ایک بار واجب ہے،اورتین بار مستحب ہے)۔
رکوع سے اٹھ کر کہیں: "سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"۔
5. سجدہ
سجدہ گاہ یا پاک مٹی پر پیشانی رکھیں۔
کہیں: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الأَعْلَى وَبِحَمْدِهِ" (کم از کم ایک بار واجب ہے،اورتین بار مستحب ہے)۔
دو سجدے مکمل کریں، دونوں کے درمیان بیٹھنا واجب ہے۔
6. قنوت (دوسری رکعت میں مستحب)
قنوت میں ہاتھ اٹھا کر کوئی بھی دعا پڑھ سکتے ہیں، مثلاً:
"رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ"
یا
"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ"۔
7. تشہد
دوسری اور آخری رکعت میں دونوں سجدوں کے بعد بیٹھ کر پڑھیں:
"أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ"۔
8. سلام
آخری رکعت کے تشہد کے بعد کہیں:
"السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ"
"السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَىٰ عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ"
"السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ"۔
اہم نکات:
وضو اور طہارت کی پابندی کریں۔
سجدہ زمین یا پاک مٹی پر کریں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ اور آئمہؑ نے ہمیشہ ایسا کیا۔
اذان اور اقامت کہنا مستحب ہے، اور اس سے نماز کا ثواب کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اخلاص اور خشوع نماز کی روح ہے، اسے دل سے ادا کریں۔
یہ طریقہ اہل بیتؑ کی احادیث اور شیعہ فقہ کے مطابق ہے۔
کسی مخصوص حکم کے متعلق مزید معلومات کیلئے اپنا سوال ارسال کر سکتے ہیں.