علیکم السلام و رحمۃ اللہ
1۔ جب امام حسینؑ دشمنوں پر حملہ کرنے کا ارادہ فرما رہے تھے تو اچانک ایک گرد و غبار بلند ہوا اور اس میں سے ایک باوقار شخصیت ایک عجیب و غریب سواری پر نمودار ہوئی۔ اس نے امامؑ، ان کے نانا، والد اور والدہ (علیہم السلام) پر سلام کیا۔ امامؑ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: تم کون ہو جو اس حالت میں، مجھ مظلوم و غریب پر سلام کر رہے ہو؟
اس نے عرض کی: اے فرزندِ رسول خدا! میں زعفر زاہد ہوں، جنّات کا بادشاہ۔ اس بیابان میں میری فوج ہے۔ جب آپ کے والد ماجد نے بئر العلم کے مقام پر جنات کے خلاف جہاد فرمایا تھا تو انہوں نے میرے والد کو سلطنت عطا فرمائی تھی، اور ان کے بعد یہ بادشاہی مجھے ملی ہے۔
پس ہمیں اجازت دیں کہ ہم آپ کے ان دشمنوں سے جنگ کریں۔
امامؑ نے فرمایا: نہیں، کیونکہ تم انہیں دیکھ سکتے ہو مگر وہ تمہیں نہیں دیکھ سکتے۔
زعفر نے عرض کی: ہم ان کی شکل و صورت اختیار کرکے جنگ کریں گے۔ اگر مارے گئے تو آپ کی راہ میں شہید ہوں گے۔
امامؑ نے فرمایا: اللہ تمہیں جزائے خیر دے، اے زعفر! مگر میں دنیا سے بیزار ہو چکا ہوں اور خواب میں دیکھا ہے کہ میں آج کے دن شہید ہو کر خدا سے ملاقات کروں گا۔ لہٰذا تم واپس جاؤ اور ان لوگوں کے درپے نہ ہونا۔
حوالہ: (موسوعة كلمات الإمام الحسين (ع) - لجنة الحديث في معهد باقر العلوم (ع) - ص 581)
2۔ اگر آپ انہیں مجلس یا کسی نیک عمل کا ثواب ھدیہ کرنا چاہتے ہیں تو ایسا کرنے میں بذاتِ خود کوئی حرج نہیں ۔