سلام آغا جان...
آغا جان سوال ہے ،ہم مسلمان کیوں کہلاتے ہے جب کہ قرآن میں مؤمن، انسان وغیرہ کے الفاظ ملتے ہیں اور لفظ مسلمان کا ذکر نہیں ملتا اور اگر قرآن میں ذکر ہے تو کوئی آیت پیش کریں. اور مسلمان کی کس زبان کا لفظ ہے, عربی کا ہے یا فارسی کا؟ اور اس کی لغوی اور اصطلاحی مفہوم کیا ہوگا؟
السلام...
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ
"مسلمان" عربی زبان کا لفظ ہے جو "سَلِمَ" سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں
فرمانبردار ہونا
سلامتی اختیار کرنا
تسلیم ہو جانا
لہٰذا "مسلم" یا "مسلمان" کا لغوی معنی ہوگا
وہ شخص جو اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کر دے اور سلامتی والا ہو۔
اصطلاحی معنی: ایسا شخص جو دل سے اللہ کی وحدانیت اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے اور زبان سے اس کا اقرار کرے۔
قرآن مجید لفظ مسلمان کا ذکر پایا جاتا ہے جیساکہ
ارشاد ہوتا ہے: ہُوَ سَمّٰىکُمُ الۡمُسۡلِمِیۡنَ (الحج 78)
اسی نے تمہارا نام مسلمان رکھا۔
تمام انبیاء کے پیروکار مسلم کہلاتے ہیں۔ ابراہیمی، موسوی، مسیحی اور محمدی نہیں کہلاتے۔
سیاق آیت سے واضح ہے کہ اس الٰہی پیغام کے تمام ماننے والوں کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے مسلم نام رکھا گیا ہے۔