وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
سوائے خونخوار پرندوں کے ہر وہ پرندہ جو پروں والا ہو اس کا گوشت کھانا حلال ہے، پس کبوتر کی تمام اصناف حلال ہیں جیسے قُمری، خاکی رنگ کے کبوتر، ورشان (کبوتر سے قدرے بڑا ہوتا) اور تیتر، چکور سے مشابہ پرندہ، فاختہ کی قسم، بطخ، کروانك(لمبی چونچ اور بھورے رنگ کا ایک پرندہ جو کبوتر کا ہم شکل اور خوش آواز ہے اس کے متعلق میں کہا جاتا ہے کہ رات کو وہ نہیں سوتا) اور سارس بھی حلال ہیں۔
جیسا کہ مرغ کی تمام اقسام اور چڑیا کی تمام اقسام حلال ہیں جیسے بلبل، زُرزُور (ایک قسم کی چڑیا) چنڈول اور اسی طرح ہدہد، ابابیل، شقرّاق (فاختہ کے مانند اس سے کچھ بڑا ایک پرندہ جس میں سفید و سرخ اور سبز تینوں رنگ ہوتے ہیں)، صُرد (پرندہ جو کیڑوں کو کھاتا اور چڑیا کا شکار کرتا ہے) اور صُوّام کا کھانا حلال ہے اگرچہ اُسے قتل کرنا مکروہ ہے، شتر مرغ اور مور کھانا بھی حلال ہے۔
خون خوار پرندے کی وضاحت:
ہر وہ پرندہ جس کے پنجے ہوں وہ خونخوار ہے خواہ وہ اتنی طاقت رکھتے ہو ں کہ پرندوں کو چیر پھاڑ سکتا ہو جیسے باز، شِکرہ، عقاب، شاہین اور شِکرہ جیسا شکاری پرندہ یا وہ خونخوار پرندے کمزور ہو ں جو پرندوں کو چیرنے پھاڑنے کی طاقت نہ رکھتے ہو ں جیسے گدھ، گدھ نما سفید و سیاہ دھبوں والا چھوٹا پرندہ یہ سب حرام ہیں اور اسی طرح کوے کی تمام اقسام حتیٰ کہ بنا بر احتیاط لازم زاغ (کوے کی ایک نوع) بھی حرام ہے اور اسی طرح ٹڈی کے علاوہ ہر وہ حيوان جو اڑتا ہے لیکن اس کے پر نہ ہو جیسے چمگادڑ، بھڑج، پِسّو، کھٹمل اور تتلی و غیرہ اڑنے والے تمام حشرات بنا بر احتیاط لازم حرام ہیں۔
حرام پرندہ کی مختصر وضاحت:
وہ پرندہ حرام ہوتا ہے جو اڑنے کی حالت میں پَر مارنے سے زیادہ انہیں پھیلا کر رکھتا ہو چاہے وہ تین چیزیں (پوٹا، سنگدانہ اور کانٹا) رکھتا ہو لہٰذا اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان تین اعضا والی اس علامت کی طرف اس وقت رجوع کیا جائے گاجب پرندہ اُڑتے وقت پروں کو پھیلاتا بھی ہو اور حرکت بھی دیتا ہو اور معلوم نہ ہو کہ پرندے کا پر پھیلانے والی حالت زیادہ ہے یا پر مارنے والی حالت زیادہ ہے اور یہی حکم اس صورت میں بھی ہے جب پرندہ ذبح شدہ حالت میں ہو اور معلوم نہ ہو کہ اس کے اُڑنے کی کیا کیفیت ہے۔