علیکم السلام و رحمۃ اللہ
بحار الانوار کی ایک طویل روایت میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے جمعہ نماز پڑھانے کا ذکر موجود ہے جس کا کچھ حصہ درج ذیل ہے۔
وَ بُويِعَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ سَنَةَ خَمْسٍ وَ ثَلاَثِينَ مِنَ الْهِجْرَةِ وَ أَوَّلُ خُطْبَةٍ خَطَبَهَا عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلامُ حِينَ اسْتُخْلِفَ حَمِدَ اللَّهَ وَ أَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ كِتَاباً هَادِياً بَيَّنَ فِيهِ الْخَيْرَ وَ الشَّرَّ فَخُذُوا بِالْخَيْرِ وَ دَعُوا الشَّرَّ۔۔۔(بحار الأنوار ج ۳۲، ص ۷)
اور جمعہ کے دن سن 35 ہجری میں بیعت کی گئی جبکہ ذو الحجہ کے پانچ دن باقی تھے،۔ اور پہلا خطبہ جو امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے خلافت سنبھالتے وقت دیا اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: "بے شک اللہ نے ایک ہدایت دینے والی کتاب نازل فرمائی ہے جس میں بھلائی اور برائی کو واضح کر دیا ہے پس بھلائی کو اختیار کرو اور برائی کو چھوڑ دو۔۔۔