نماز تسبیح یعنی نماز جعفر طیار
نماز جعفر طیار (علیہ السلام) مستحب اور انتہائی اہم و بابرکت نمازوں میں سے ہے، جسے کثیر اور معتبر روایات کے ذریعے نقل کیا گیا ہے۔ اسے "نماز تسبیح" اور "نماز حبوہ" بھی کہا جاتا ہے اور یہ دنیاوی اور اخروی مشکلات کے حل میں مؤثر ہے۔
نماز جعفر طیار (علیہ السلام) مجموعی طور پر چار رکعت پر مشتمل ہے (یعنی دو دو رکعت کی نمازیں)۔ اس نماز میں نمازی ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور ایک سورت پڑھتا ہے، اس کے بعد پندرہ مرتبہ کہتا ہے:
"سُبْحانَ اللّهِ وَالْحَمْدُ لِلّهِ وَلا إِلٰهَ إِلَّا اللّهُ وَاللّهُ أَکْبَرُ"
یہی ذکر (تسبیحاتِ اربعہ) رکوع میں دس مرتبہ، رکوع سے اٹھنے کے بعد دس مرتبہ، پہلی سجدہ میں دس مرتبہ، پہلے سجدہ سے اٹھ کر بیٹھنے کی حالت میں دس مرتبہ، دوسرےسجدہ میں دس مرتبہ، اور دوسرے سجدہ سے اٹھنے کے بعد بیٹھنے کی حالت میں دس مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔
اس طرح، ہر رکعت میں مجموعی طور پر 75 مرتبہ یہ ذکر کہا جاتا ہے۔ دوسری رکعت بھی اسی طریقے سے پڑھی جاتی ہے، اور اس کی آخری دس تسبیحات دوسرے سجدہ کے بعد تشہد اور سلام سے پہلے پڑھی جاتی ہیں۔
باقی دو رکعتیں بھی اسی ترتیب کے مطابق ادا کی جاتی ہیں۔ اس طرح پوری نماز جعفر طیار (علیہ السلام) میں کل 300 مرتبہ یہ تسبیحات پڑھی جاتی ہیں۔
مزید برآں، ہر دو رکعت کی دوسری رکعت میں قنوت پڑھنا مستحب ہے۔
اورمستحب ہے کہ نماز گزار نماز جعفر طیار (علیہ السلام) کی چوتھی رکعت کے دوسرے سجدے میں تسبیحات کے بعد یہ دعا پڑھے:
"یٰا مَنْ لَبِسَ الْعِزَّ وَالْوَقٰارَ، یٰا مَنْ تَعَطَّفَ بِالْمَجْدِ وَتَکَرَّمَ بِهِ، یٰا مَنْ لٰا یَنْبَغی التَّسْبیحُ إِلّٰا لَهُ، یٰا مَنْ أَحْصَیٰ کلَّ شَیءٍ عِلْمُهُ، یٰا ذَا النِّعْمَةِ وَالطَّوْلِ، یٰا ذَا الْمَنِّ وَالْفَضْلِ، یٰا ذَا الْقُدْرَةِ وَالْکَرَمِ، أَسْأَلُکَ بِمَعٰاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ، وَبِمُنْتَهَی الرَّحْمَةِ مِنْ کِتٰابِکَ، وَبِاسْمِکَ الأَعْظَمِ الأَعْلَیٰ، وَکَلِمٰاتِکَ التّٰامَّةِ، أَنْ تُصَلّیَ عَلَیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَفْعَلَ بی کَذٰا وَکَذٰا"
اور "کذا و کذا" کی جگہ اپنی حاجات کو اللہ تعالیٰ سے طلب کرے۔