ایک سوال ہے امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے کاش موسیٰ کاظم کے علاوہ میرا کوئی بیٹا نہ ہوتا تاکہ اس کے ساتھ محبت میں کوئی دوسرا شریک نہ ہوتا (اعیان الشیعہ ) اس حدیث پر روشنی ڈالیں؟
امام صادق (علیہ السلام) کے زمانے میں بعض شیعوں کے درمیان ایک غلط فہمی پیدا ہوئی تھی جن کا دائرہ انتہائی محدود تھا۔
یہ غلط فہمی دو بنیادی وجوہات کی بنا پر پیدا ہوئی۔
پہلی وجہ
امام صادق (علیہ السلام) اور ان کے شیعوں پر خصوصاً عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور الدوانیقی کے دور میں سیاسی حالات انتہائی سخت تھے۔ اسی خلیفہ نے بعد میں امام (علیہ السلام) کو زہر دے کر شہید کر دیا۔ اس کے منصوبوں میں شامل تھا کہ امام صادق (علیہ السلام) کے بعد کے امام کو پہچان کر انہیں راستے سے ہٹایا جائے جیساکہ اہل بیت (علیہم السلام) کی روایات اور تاریخی کتب اس بات کی تصدیق کرتی ہیں۔
اس قسم کے سخت سیاسی حالات میں امام صادق (علیہ السلام) اپنے شیعوں کو اپنے بعد کے امام کے متعلق صراحت کے ساتھ نہ بتا سکے۔ یہ بات اس وقت اور زیادہ مشکل ہو گئی جب شیعوں کا دائرہ کار عباسی حکومت کے ابتدائی دنوں میں نسبتاً آزادی کے سبب کئی اسلامی علاقوں تک پھیل گیا تھا۔
لہٰذا امام (علیہ السلام) نے صرف اپنے قریبی اور قابل اعتماد شیعوں کو اپنے بعد کے امام کے متعلق آگاہ فرمایا تھا۔ یہ افراد اپنی عظمت، امام سے قربت، علم، اور تقویٰ کی وجہ سے شیعوں کےلیے قابلِ اعتماد تھے۔
شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب الارشاد میں ان قریبی افراد کے نام ذکر کیے ہیں اور لکھا ہے: ان افراد میں سے جنہوں نے امام صادق (علیہ السلام) سے امام کاظم (علیہ السلام) کی امامت کے متعلق واضح نص روایت کی وہ امام صادق (علیہ السلام) کے بزرگ اصحاب، خاص افراد، قریبی ساتھی، اور ثقہ فقہاء و صالحین تھے جن میں مفضل بن عمر الجعفی، معاذ بن کثیر، عبدالرحمن بن حجاج، فیض بن مختار، یعقوب بن سراج، سلیمان بن خالد، صفوان الجمال، اور ان جیسے دیگر افراد تھے جن کا ذکر طوالت کا باعث بنے گا۔
اسی طرح امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کے بھائیوں میں سے اسحاق اور علی بن جعفر بن محمد (علیہ السلام) نے بھی ان کی امامت کی گواہی دی اور یہ دونوں افراد ایسی فضیلت اور تقویٰ کے حامل تھے کہ اس میں کسی کو اختلاف نہ تھا۔
مزید برآں امام صادق (علیہ السلام) نے امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کی امامت ثابت کرنے کےلیے ان کرامات اور فضائل پر بھروسہ کیا جو امام کاظم (علیہ السلام) نے شیعوں کے سامنے ظاہر کیے۔ یہ کرامات اور علم صرف امام کےلیے مخصوص تھے اور یہ ان افراد کی برتری اور فضیلت کو ظاہر کرتے تھے جنہوں نے امام صادق (علیہ السلام) کے بعد امامت کا دعویٰ کیا تھا۔
دوسری وجہ
بعض شیعوں کی غلط فہمی یہ تھی کہ امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) امام صادق (علیہ السلام) کے سب سے بڑے بیٹے نہیں تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ امامت صرف سب سے بڑے بیٹے میں منتقل ہوتی ہے۔ اس وجہ سے کچھ لوگوں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے اسماعیل کی امامت کو تسلیم کیا۔ لیکن اسماعیل امام صادق (علیہ السلام) کی زندگی میں ہی وفات پا گئے تھے۔ امام صادق (علیہ السلام) نے اسماعیل کی وفات کے وقت اپنے قریبی ساتھیوں اور جنازے میں موجود تمام افراد کو ان کی موت کی گواہی دی۔ امام (علیہ السلام) نے غسل اور دفن سے پہلے اور بعد میں کئی مواقع پر ان کا چہرہ دکھایا تاکہ کسی قسم کا شک باقی نہ رہے۔
تاہم اس کے باوجود بھی بعض افراد نے اسماعیل کی وفات کو قبول نہیں کیا اور ان کے بعد ان کے بیٹے محمد بن اسماعیل کی امامت کا دعویٰ کر دیا۔
جس حدیث کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی امامت قبول نہیں کر رہے تھے عین ممکن ہے امام علیہ السلام نے اس جہت کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا ہو کہ کاش موسیٰ کاظم علیہ السلام کی علاوہ میرا کوئی اور بیٹا نہ ہوتا تاکہ لوگ گمراہ نہ ہوتے۔