السلام علیکم
سید سیستانی کے نزدیک عقیقہ کی کیا شرائط ہیں اور اس کے کیا احکامات ہیں اور بکرا کے لیے کون سی شرائط کا ہونا ضروری ہے۔
بکرے کی کون کون سی اشیاء مکروہ ہیں اور کون سی حرام ہیں۔
اگر ہم دعوت کریں لیکن دعوت میں گوشت کم ہونے کا خدشہ ہو تو کیا اس عقیقہ والے بکرا کے گوشت میں بازاری گوشت مکس کر کے پکا سکتے ہیں؟
اور کیا دو لوگوں کا عقیقہ ایک ہی دیگ میں پکا سکتے ہیں؟
اور بکرے کی ہڈیاں کیا فقط بندھ توڑنے ہوتے ہیں؟ کیا پسلیوں کے ٹکڑے کر سکتے ہیں یا پھر درمیان سے گوشت سے جدا کریں گے؟
جلدی
عقیقہ کی وضاحت. .
عقیقہ مستحب عمل ہے ، پیدائش کے ساتویں روز اس کا کرنا افضل ہے اگر ساتویں روز کسی عذر کی وجہ سے نہ کیا جائے تو بعد میں بهی کرسکتے ہیں. خود بچہ بالغ ہونے کے بعد بهی اپنی طرف سے کرسکتا ہے ، بلکہ حتی اگر کسی کا عقیقہ اسکی حیات میں نہ ہوا ہو تب بهی اس کا وارث اس کے مرنے کے بعد اس کی طرف سے بهی کرسکتا ہے ،
عقیقہ میں گائے بکرا اونٹ میں سے کسی کو بهی ذبح کر سکتے ہیں
عقیقہ میں ضروری نہیں کہ ان تمام صفات کا لحاظ کیا جائے جو قربانی کے جانور میں ضروری ہے بلکہ اگر کوئی عیب بهی ہو تب بھی درست ہے ہاں مستحب ہے کہ موٹا سا جانور ذبح کیا جائے
عقیقہ میں ہڈی کو توڑے بفیر گوشت کو کاٹنا چاہیے
عقیقہ میں جانور کے بدلے اگر کوئی صدقے کے طور پر پیسے دے تو یہ استحباب کو کفایت نہیں کرتا ..ہاں اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرے تو وہ عقیقہ کے استحباب کو مجزی ہے
مزید وضاحت۔۔۔
اولا۔۔۔والدین اور ہر اس کے لیے مکروہ ہے جو کفالت میں شمار ہوتے ہیں مثلا اگر دادا نے کفالت کی ہو تو اسکے لیے مکروہ ہے اگر بہن نے کفالت کی ہو تو اسکے لیے مکروہ ہے وغیرہ ۔۔ مکروہ کا مطلب حرام نہیں ہے ۔۔ یعنی اگر ان میں سے کوئی کھابھی لے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے
ثانیا۔ ہڈیوں کو دفن کرنا واجب نہیں ہے۔
ثالثا۔۔ سادات کھاسکتے ہیں۔
نوٹ:مستحب ہے کہ عقیقہ میں سے دایہ (قابِلَہ) کے لیے چوتھائی حصہ مخصوص کیا جائے، اور اس کے حصے میں ران اور کولھے کا گوشت شامل ہو۔ عقیقہ کو کچے گوشت کی صورت میں بھی تقسیم کرنا جائز ہے اور پکا کر تقسیم کرنا بھی جائز ہے۔ اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ عقیقہ پکایا جائے اور اس پر مؤمنین کی ایک جماعت کو دعوت دی جائے، اور افضل یہ ہے کہ ان کی تعداد دس یا اس سے زیادہ ہو، جو اس میں سے کھائیں اور بچے کے لیے دعا کریں۔