سید نعمة اللہ جزائری نے اپنی کتاب (نور البراھین ج 1 ص 332) پر یہ روایت ذکرکی ہے۔
أن النبي (ص) كان جالساً وعنده جبرئيل فدخل علي (ع), فقام له جبرئيل (ع) فقال النبي (ص): أتقوم لهذا الفتى؟
فقال له : نعم إن له علي حق التعليم، فقال النبي (ص): كيف ذلك التعليم يا جبرئيل؟
فقال : لما خلقني الله تعالى سألني: من أنت وما أسمك ومن أنا وما اسمي؟
فتحيرت في الجواب وبقيت ساكناً، ثم حضر هذا الشاب في عالم الأنوار وعلمني الجواب
فقال : قل أنت ربي الجليل واسمك الجليل وأنا العبد الذليل واسمي جبرئيل۔
نبی اکرم (ص) ایک دن تشریف فرما تھے اور حضرت جبرائیل (ع) بھی آپ کے پاس موجود تھے کہ اسی دوران حضرت علی (ع) اندر داخل ہوئے تو حضرت جبرائیل (ع) ان کے احترام کےلئے کھڑے ہو گئے۔ نبی اکرم (ص) نے حضرت جبرائیل (ع) سے پوچھا: "کیا آپ اس نوجوان کےلئے کھڑے ہوئے؟
حضرت جبرائیل (ع) نے عرض کی: جی ہاں، اس نوجوان کا مجھ پر حقِ تعلیم ہے۔
نبی اکرم (ص) نے فرمایا: وہ تعلیم کیسی تھی، اے جبرائیل؟
حضرت جبرائیل (ع) نے عرض کی: جب اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا فرمایا تو مجھ سے سوال کیا: تو کون ہے؟ تمہارا نام کیا ہے؟ میں کون ہوں؟ اور میرا نام کیا ہے؟
میں اس سوال کے جواب میں حیران و پریشان تھا اور خاموش رہا۔ تب عالمِ انوار میں یہ نوجوان (حضرت علی) تشریف لائے اور مجھے جواب تعلیم دیا۔
انہوں نے فرمایا: 'کہو، تم میرے رب جلیل ہو اور تمہارا نام الجلیل ہے، اور میں تمہارا عاجز بندہ ہوں اور میرا نام جبرائیل ہے۔
اصل میں یہ روایت بستان الکرامہ کے مصنف سے منقول ہے، اور غالباً یہ بستان الکرام محمد بن احمد بن علی بن حسن بن شاذان (چھٹی صدی ہجری کے ایک معروف عالم) کی ہی تصنیف ہے۔ ہمیں اس روایت کی سند نہیں ملی۔ البتہ دلالت کے لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ روایت کسی معصوم کے ذریعے ہم تک پہنچی ہے۔