جنگ نہروان جو کہ "واقعة الخوارج" کے نام سے مشہور ہے، یہ واقعہ سنہ 37 ہجری میں پیش آیا۔
جب حضرت علیؑ کو خبر ملی کہ تحکیم والوں نے عبداللہ بن خباب بن الارت کو قتل کر دیا ہے، عام لوگوں کو لوٹ رہے ہیں، اور امامؑ کے قاصد کو بھی شہید کر دیا ہے، تو ان کے ساتھی مسلمانوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! آپ ان لوگوں کو پیچھے چھوڑ کر ہمارے اہل و عیال اور مال و دولت کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ ہمیں ان کی طرف لے چلیں، اور جب ان سے فارغ ہوں گے تو شام کے دشمن کی طرف بڑھیں گے چنانچہ حضرت علیؑ اپنے لشکر کے ساتھ، جو خوارج کی وجہ سے اپنے اہل و عیال کی فکر میں تھے، واپس پلٹے۔ دونوں گروہ نہروان میں آمنے سامنے ہوئے۔ امامؑ نے جنگ کا آغاز کرنے سے پہلے انہیں دلیل اور حق کی طرف دعوت دی۔ انہوں نے عبداللہ بن عباس کو ان کی طرف بھیجا تاکہ وہ دلائل اور منطقی گفتگو کے ذریعے انہیں قائل کریں، لیکن وہ اپنی ضد اور گمراہی پر قائم رہے۔
پھر امام علی علیہ السلام خود ان کے پاس گئے اور انہیں یاد دلایا کہ انہوں نے تحکیم (ثالثی) کو قبول کرنے سے منع کیا تھا لیکن یہ خود اس پر بضد تھے۔ امامؑ نے انہیں قائل کرنے کی پوری کوشش کی یہاں تک کہ ان میں سے اکثر نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور توبہ کرلی۔ ان میں سے ایک عبداللہ بن کوّا تھا، جو ان کا نمازوں کا امیر تھا لیکن کچھ لوگ لڑائی پر بضد رہے۔
دونوں گروہ جنگ کے لیے تیار ہوگئے۔ اس دوران خبر آئی کہ خوارج پل عبور کرچکے ہیں۔ امامؑ نے فرمایا: خدا کی قسم، وہ پل عبور نہیں کر پائیں گے، ان کا قتل پل سے پہلے ہوگا۔
پھر خبریں آئیں کہ وہ پل عبور کرچکے ہیں، لیکن امامؑ قسم کھاتے رہے کہ وہ عبور نہیں کر پائیں گے۔ پھر امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم ان میں سے دس بھی نہ بچیں گے، اور تم میں سے دس بھی نہیں مریں گے۔
یہ سب امامؑ کے فرمان کے عین مطابق ہوا۔ امامؑ نے فرمایا: خدا کی قسم، میں نے جھوٹ نہیں کہا۔
امامؑ نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ان پر حملہ نہ کرو جب تک وہ خود حملہ نہ کریں۔
خوارج نے نعرہ لگایا: "جنت کی طرف چلو!" اور حملہ کردیا۔
جنگ شروع ہوئی، اور امامؑ کے ساتھیوں نے بے مثال بہادری کا مظاہرہ کیا۔ خوارج میں سے صرف آٹھ افراد جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ امامؑ کے ساتھیوں میں سے صرف سات یا نو افراد شہید ہوئے۔
جنگ کے بعد میدان صاف ہوا تو امام علیؑ نے فرمایا: جاکر ذوالثدیہ کو تلاش کرو۔کچھ لوگوں نے کہا کہ وہ ان میں موجود نہیں۔ امامؑ نے فرمایا: خدا کی قسم، وہ ان میں ضرور ہے! جب مقتولین کی تلاش کی گئی تو اسے ان میں موجود پایا گیا، جیسا کہ امامؑ نے اس کی نشانیاں بتائی تھیں۔ امامؑ نے فرمایا: خدا سب سے بڑا ہے، میں نے جھوٹ نہ کہا اور نہ مجھ سے جھوٹ کہا گیا۔
امامؑ نے مزید فرمایا: اگر یہ نہ ہوتا کہ تم عمل سے رک جاؤ گے، تو میں تمہیں وہ فضیلت بتا دیتا جو نبی اکرمؐ نے ان کے خلاف حق پر رہتے ہوئے لڑنے والوں کے لیے بیان کی ہے۔
جب امامؑ نے خوارج کی لاشوں کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا: "افسوس تم پر! تمہیں کس نے دھوکہ دیا؟
پوچھا گیا: "یا امیرالمؤمنین، انہیں کس نے دھوکہ دیا؟
آپؑ نے فرمایا: "شیطان اور ان کے نفسِ امارہ نے۔ انہیں جھوٹی امیدیں دلائیں، گناہوں کو ان کے لیے مزین کیا، اور یقین دلایا کہ وہ کامیاب ہوں گے۔
لوگوں نے کہا: الحمد للہ، یا امیرالمؤمنین، جس نے ان کا خاتمہ کر دیا۔
امامؑ نے فرمایا: نہیں، خدا کی قسم، یہ ابھی نطفوں کی صورت میں مردوں کی صلبوں اور عورتوں کے رحموں میں موجود ہیں!