وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جواب 1۔
اگرچہ بعض مقامات میں ایسا ملتا ہے مگر آج کے دور حاضر میں اگر یہ عُرف عام میں ایسے افراد سے مماثلت ہو جو بے دین، منحرف، آدابِ انسانیت اور آدابِ اسلامی سے تہی دامن ہیں تو اسکا حکم مختلف ہوگا جس کے لیے اپنے مرجع تقلید کی طرف رجوع کریں۔
جواب 2۔
عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ اَلْحُسَيْنِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا اَلْحَسَنِ اَلرِّضَا عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ عَنِ اَلتَّهْنِئَةِ بِالْوَلَدِ مَتَى فَقَالَ إِنَّهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ اَلْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ هَبَطَ جَبْرَئِيلُ بِالتَّهْنِئَةِ عَلَى اَلنَّبِيِّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ فِي اَلْيَوْمِ اَلسَّابِعِ وَ أَمَرَهُ أَنْ يُسَمِّيَهُ وَ يُكَنِّيَهُ وَ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَ يَعُقَّ عَنْهُ وَ يَثْقُبَ أُذُنَهُ وَ كَذَلِكَ كَانَ حِينَ وُلِدَ اَلْحُسَيْنُ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ أَتَاهُ فِي اَلْيَوْمِ اَلسَّابِعِ فَأَمَرَهُ بِمِثْلِ ذَلِكَ قَالَ وَ كَانَ لَهُمَا ذُؤَابَتَانِ فِي اَلْقَرْنِ اَلْأَيْسَرِ وَ كَانَ اَلثَّقْبُ فِي اَلْأُذُنِ اَلْيُمْنَى فِي شَحْمَةِ اَلْأُذُنِ وَ فِي اَلْيُسْرَى فِي أَعْلَى اَلْأُذُنِ فَالْقُرْطُ فِي اَلْيُمْنَى وَ اَلشَّنْفُ فِي اَلْيُسْرَى وَ قَدْ رُوِيَ أَنَّ اَلنَّبِيَّ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ تَرَكَ لَهُمَا ذُؤَابَتَيْنِ فِي وَسَطِ اَلرَّأْسِ وَ هُوَ أَصَحُّ مِنَ اَلْقَرْنِ .
علی ابن ابراہیم نے اپنے والد سے انھوں نے حسین بن خالد سے روایت کی کہ وہ کہتا ہے:
"میں نے امام رضا علیہ السلام سے پوچھا کہ بچے کی پیدائش پر مبارکباد کس دن دی جاتی ہے؟
آپ نے فرمایا کہ جب امام حسن علیہ السلام پیدا ہوئے تو جبرائیل علیہ السلام ساتویں دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کو مبارکباد دینے آئے اور آپ کو حکم دیا کہ بچے کا نام اور کنیت رکھی جائے، سر منڈوایا جائے، قربانی کی جائے اور کان میں سوراخ کیے جائیں۔ اسی طرح جب امام حسین علیہ السلام پیدا ہوئے تو جبرائیل علیہ السلام ساتویں دن آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ کو اسی طرح کا حکم دیا۔
آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کے سر کے بائیں حصے میں کچھ بال تھے اور کان کے دائیں نرم حصے اور بائیں کان کے اوپری حصے میں سوراخ تھے۔ اس لیے دائیں کان میں قرط(کان کا زیور جیسے بالی) اور بائیں کان میں شنف (کان پہننے والا ایک قسم کا زیور جیسے گوشوارہ) تھا۔
اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان دونوں مبارک نوزائید کے سر کے کچھ بالوں کووسط میں رکھااوریہ بات پہلی بات سے زیادہ صحیح ہے۔"
حوالہ:
رقم الحدیث : ۱۱۴۴۲۷ | تخريج : الکافي , الجزء۶ , الصفحة۳۳
عنوان الباب : الجزء السادس كِتَابُ اَلْعَقِيقَةِ بَابُ أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا اَلسَّلاَمُ عَقَّا عَنِ اَلْحَسَنِ وَ اَلْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا اَلسَّلاَمُ