یا علی مدد کا عقیدہ غالیوں کا ہے اور ہم نے اسے ان کر لیا ہے ؟
کیا یہ بات سچ ہے
جب غالیوں کی تعلیمات اور عقائد کو شیعہ علماء نے بہت ہی شدت اور سختی سے مسترد کردیا ہے تو کس طرح سے یہ سچ ہوسکتا ہے کہ یہ عقیدہ غالیوں جیسے باطل گروہ سے اہل التشیع نے لیا؟؟
مومنین کرام! واضح ہو کہ یاعلی مدد کہنا (یعنی حضرت علی علیہ السلام سے مدد طلب کرنے کا عقیدہ) دراصل خدا کے حضور طلب شفاعت ہے جیساکہ منقول ہے :
ياوجيها عند الله اشفع لنا عبدالله
نیز شیعہ اسلام میں "یا علی مدد" کا استعمال زیادہ تر اس بات کی علامت ہے کہ حضرت علی کو اللہ کے قریب مانا جاتا ہے اور ان سے مدد مانگنا دراصل اللہ سے مدد طلب کرنے کا ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے۔ شیعہ علما اور فقہا نے غلو سے ہمیشہ اجتناب کیا ہے اور حضرت علی کو ایک کامل بشر اور اللہ کے ولی کے طور پر پیش کیا ہے۔
غالیوں کے عقائد میں حضرت علی کو الوہیت دینا شامل تھا، لیکن شیعہ علماء نے ان کی تعلیمات کو مسترد کر دیا۔
لہذا، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ عقیدہ بنیادی طور پر غالیوں سے آیا ہے۔ بلکہ، یہ اہل تشیع مومنین کی عقیدت کی ایک روحانی تشریح ہے، جو حضرت علی اور اہل بیت کی تعظیم پر مبنی ہے، نہ کہ ان کی الوہیت یا خدائی صفات پر۔