عذاب قبر اور سوال نکیرین قرآن مجید سے ثابت ہیں یا فقط حدیث میں اس کا ذکر ہے؟
عقیدہ بنانے میں ضروری نہیں نام قران مجید میں آئے بلکہ روایات میں نام آجائے تو کافی ہے۔
قران مجید میں بہت سی آیات میں قبر اور برزخ میں نعمتوں (جیسے کہ جو اللہ کی راہ میں قتل ہوجائیں انھیں اللہ کی طرف سے رزق ملتا ہے) اور عذاب کا ذکر ہے جن میں سے ایک کی طرف ہم اشارہ کرتے ہیں۔
وَ مِمَّنۡ حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕۛ وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ ۟ۛؔ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟ لَا تَعۡلَمُہُمۡ ؕ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ﴿۱۰۱﴾ۚ ۱۰۱۔ اور تمہارے گرد و پیش کے بدوؤں میں اور خود اہل مدینہ میں بھی ایسے منافقین ہیں جو منافقت پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے (لیکن) ہم انہیں جانتے ہیں، عنقریب ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
وضاحت:
سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ: ہم انہیں دوہرا عذاب دیں گے۔ ایک بار دنیا میں رسوا کر کے دوسری بار قبر میں یا دنیا میں قتل و اسیری اور قبر کا عذاب مراد ہے۔
تفیسر کوثر
قبر کی رات کے اہم واقعات میں سے ایک منکر و نکیر کے سوالات ہیں ۔احادیث (جو کہ تواتر کی حد تک ہیں) کے مطابق، یہ دو فرشتے (جو بہت ہی رعب دار اور کریہہ المنظر ہیں) خدا کی طرف سے اس قبر میں نو وارد انسان کے اعتقادات کی جانچ پڑتال پر مامور ہیں ۔ بعض روایات کے مطابق ان دونوں کو "قبر کے چوکیدار"بھی کہا گیا ہے یہ دونوں فرشتے پہلی رات قبر میں آجاتے ہیں ایک دائیں طرف اور دوسرا بائیں طرف بیٹھتا ہے اور امتحان شروع کرتے ہیں۔
یہ سوالات اہم اہم عقائد کے بارے میں ہیں: جیسے رب کون ہے؟ پیغبر کون ہے؟ امام کون ہے/ جوانی کو کن کاموں میں گزار دیا ؟ وغیرہ پوچھے جاتے ہیں۔
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا دَخَلَ حُفْرَتَهُ يَأْتِيهِ مَلَكَانِ: أَحَدُهُمَا مُنْكَرٌ وَ الْآخَرُ نَكِيرٌ، فَأَوَّلُ مَا يَسْأَلَانِهِ عَنْ رَبِّهِ وَ عَنْ نَبِيِّهِ وَ عَنْ وَلِيِّهِ، فَإِنْ أَجَابَ نَجَا، وَ إِنْ تَحَيَّرَ عَذَّبَاه -
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: بندہ جب قبر میں داخل ہو جاتا ہےتو دو فرشتے آئے ہیں ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے پس سب سے پہلے اس کے رب کے بارے میں، نبی کے بارے میں اور امام کے بارے میں سوال کریں گے اگر ٹھیک جواب دیا تو وہ نجات پائے گا لیکن اگر جواب نہ دے سکا تو اسے عذاب میں مبتلا کریں گے۔
(ابن طاووس، على بن موسى، كشف المحجة لثمرة المهجة ص272)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں : نماز ، دین کے واجبات میں سے ایک ہے اور ملک الموت کے پاس سفارش کرے گی، قبر میں انسان کے لیے مونس ہے اور نکیر و منکر کےسوالوں کا جواب بھی نماز ہے۔- (سُئِلَ النَّبِيُّ ص عَنِ الصَّلَاةِ فَقَالَ ع الصَّلَاةُ مِنْ شَرَائِعِ ... مزید پڑھ وَ شَفِيعٌ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ وَ أُنْسٌ فِي قَبْرِهِ ... وَ جَوَابٌ لِمُنْكَرٍ وَ نَكِيرٍ (ابن بابويه، محمد بن على، الخصال ؛ ج 2 ؛ ص522)
امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے: انسان کو جب قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو دو فرشتے (نکیر و منکر) اس کے پاس آتے ہیں اس حال میں کہ اپنے بالوں کو زمین پر کھینچتے ہوئے دونوں پاؤں سے زمین کو چیرتے ہوئے آئیں گے ۔ان کی آواز گرج اور بجلی کی آواز کی طرح ہو گی ۔ان کی آنکھیں سخت بجلی کی طرح آنکھوں کو خیرہ کرنے والی ہوں گی۔ انسان سے پوچھیں گے تیرا پروردگار کون ہے؟ تیرا دین کیا ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ وہ جواب دے گا کہ خدا میرا پروردگار ہے، اسلام میرا دین اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرا نبی ہے ۔ اس وقت وہ دونوں اس سے کہیں گے: خدا تم کو اسی پر جس پر تو راضی ہے ثابت قدم رکھے۔ اس کے بعد وہ دونوں فرشتےاس کی قبر کو وہاں تک کشادہ کریں گے جہاں تک اس کی بینائی کام کرے گی اور اس کی قبر سے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیں گے --
( تفسير القمي ج 1 ؛ ص369)
اگر روایات میں "نکیر اور منکر کے شر" یا "نکیرین کا خوف" جیسی عبارتیں آئی ہیں تو اس کا مطلب وہ ڈر اور اضطراب ہے جو میت کو ان دونوں فرشتوں کو دیکھنے کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے؛ اسی لیے مشکلات سے بچنے اور سختیوں سے نجات کے لیے سورہ ملک کی تلاوت کرنے کی سفارش ہوئی ہے اسی طرح بعض دعائیں بھی وارد ہوئی ہیں جن کا ان کٹھن لمحات میں پڑھنا میت کے لیے آسانی کا باعث ہوتا ہے۔