خلع کیا ہے اور خلع کی شرائط کیا ہیں خلع کا صیغہ کیا ہوگا ؟
Based on opinion آیت اللہ سيد علی سيستانی
اپنے شوہر کو ناپسند کرنے والی خاتون کی طرف سے فدیہ (مال وغیرہ) دے کر لی جانے والی طلاق کو طلاقِ خلع کہتے ہیں
طلاقِ خلع کی شرائط:
خلع میں وہ تمام امور شرط ہیں جن کا ذکر طلاق میں گزر چکا ہے اور وہ تین امور ہیں:
پہلی شرط: مخصوص صیغہ اور وہ یہ ہے کہ مرد کہے: (أنتِ أو فلانة أو هذه طالق على كذا) اور کذا کی جگہ عورت کی طرف سے دیئےگئے مال کی مقدار بولی جائے۔ یا مرد کہے کہ: (خَلعتُكِ على كذا) يا (أنتِ يا فلانة يا هذه مُخْتلِعة على كذا) اور یہاں لفظ مختلعۃ میں لام کے نیچے زیر کے ساتھ پڑھا جائے گا اور اگر اسے لام کی زبر کے ساتھ پڑھا جائے تو ا ِس کے صحیح ہونے میں اشکا ل ہے۔
اور پہلے صیغے (هي أو أنتِ طالق على كذا) کے ساتھ خلع کے صیغے (أنتِ أو هي مختلِعة على كذا) لگانا ضروری نہیں، اِسی طرح آخر میں بیان کئے جانے والے خلع کے دو صیغوں کے ساتھ طلاق کا صیغہ (هي یا انت طالق علی کذا) کہنا ضروری نہیں لیکن احتیاطِ مستحب یہ ہے کہ طلاق کے صیغوں کے ساتھ خلع کے صیغے اور خلع کے صیغوں کے ساتھ طلاق کے صیغے شامل کئے جائیں۔
اور نکاح فسخ کرنے پر راضی ہونے سے خلع واقع نہیں ہوتی، اِسی طرح طلاق اور خلع کے الفاظ کے بغیر بھی خلع واقع نہیں ہوتی۔
دوسري شرط: تنجیز (طلاق کو کسی شی سے مشروط نہ کرنا بلکہ اس کو کسی شی کے ساتھ جوڑے بغیر نافذ کر دے)، پس اگر خلع کو مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والی کسی یقینی يا متوقّع الحصول چیز پر معلق کردیا جائے یا حال میں رونما ہونے والی چیز جس کے حصول کا احتمال ہو اُس پر طلاق کو مُعلق کیا جائے جبکہ وہ چیز جس پرطلاق کو معلق کیا گیا ہووہ طلاق کے صحیح ہونے کا بنیادی عنصر اور سبب بھی نہ ہو تو خلع باطل ہوگی مثال کے طور پر کہے کہ قَد خَلَعْتُكِ على كَذا إنْ قَدِمَ الحُجَّاج أو إنْ طَلَعَتْ الشّمْسُ غَدَاً، ہاں البتہ اگر خلع کو حال میں واقع ہونے والي کسی ایسي چیز پر معلق کیا جائے جس کا واقع ہونا یقینی ہو یا اُس کے واقع ہونے کا احتمال ہو لیکن وہ طلاق کے واقع ہونے کا بنیادی سبب و عامل ہو تو طلاقِ خلع واقع ہو جائے گی۔ جیسا کہ مرد کہے
(خلعتُكِ إن كنتِ زوجتي أو إن كنتِ كارهةً لي).
(اگر تو میری بیوی ہے تو میں تجھے خلع دیتا ہوں یا یوں کہے کہ اگر تو مجھ سے نفرت کرتی ہے تو میں تجھے خلع دیتا ہوں)
تيسري شرط: گواہ بنانا (یعنی دو عادل مردوں کے سامنے خلع کو یوں واقع كرنا کہ وہ دونوں ان صیغوں کا انشا سن رہے ہوں۔