اگر شوہر اپنی بیوی کو کسی عذرِ شرعی کے بغیر اذیت دیتا ہو یا اُس کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرے تو وہ اپنا معاملہ حاکمِ شرع کے سامنے پیش کر سکتی ہے تاکہ وہ شوہر کو ظلم و اذیت سے منع کرے اور اُسے بیوی کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ رہنے کا پا بند کرے، اگر اِس سے فائدہ ہو تو ٹھیک ورنہ اگرحاکمِ شرع کے لیے ممکن ہو تو شوہر کو تعزیر کرے گا لیکن اگر اِس سے بھی فائدہ نہ ہوتو بیوی طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہےاور اگر وہ اِس پر بھی نہ مانے اور اسے طلاق دینے پر مجبور کرنا بھی ممکن نہ ہوتو حاکمِ شرع طلاق جاری کر دے گا۔