مالک اشتر جنگ صفین میں امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) کے لشکر کے سپہ سالار تھے اور جب آپ معاویہ کے لشکر کو چھیرتے ہوئے معاویہ کے آخری ٹھکانے پر حملہ آور ہوئے اس وقت جب معاویہ کو اپنی شکست اور امام علی(ع) کی کامیابی کے آثار نمایاں دکھائی دینے لگے تو اس نے امام علی کے سادہ لوح سپاہیوں کو فریب دینے کی خاطر قرآن کو نیزوں پر اٹھایا اور قرآن کی حکمیت کی طرف دعوت دیا۔ امام علی(ع) کے سپاہیوں میں سے تقریبا 20000 سپاہی امام کے گرد جمع ہوگئے اور آپ(ع) سے مالک اشتر کو واپس بلانے کی درخواست کی اور نہ مانے کی صورت میں امام علی(ع) کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ امام علی(ع) نے ان کو معاویہ اور عمرو عاص کی فریبکاری سے باخبر کرایا اور کچھ اور لمحوں کی مہلت مانگی تاکہ برائی اور فتنہ و فساد کے آخری ٹھکانے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے لیکن انہوں نے امام کی بات نہ سنی اور مالک اشتر کو واپس بلانے پر اصرار کرنے لگے یوں امام علی(ع) نے مجبور ہوکر مالک کو واپس بلا لیا۔
مالک اشتر لیلۃ الہریر کی صبح معاویہ کے لشکر کے آخری ٹھکانے پر حملہ آور ہو رہے تھے اسلئے قاصد کو واپس بھیجا اور کہا کہ اب میرے واپس آنے کا وقت نہیں ہے مجھے اور تھوڑی بہت مہلت دے دیں تو شاید خدا آج میرے ہاتھوں مسلمانوں کو فتح نصیب کرے گا لذا مجھے واپس نہ بلایا جائے۔
قاصد امام کی خدمت میں آیا اور مالک کا پیغام پہنچایا اس وقت معترضین امام سے بھی بدبین ہوگئے اور کہا کہ کیا آپ نے مالک کو بلایا بھی ہے کہ نہیں؟ امام نے فرمایا میں نے تھمارے سامنے اسے پیغام بھیجا ہے اور تم نے خود میری باتوں کو سنا بھی ہے۔ انہوں نے امام کو دوبارہ مالک کی طرف پیغام بھیجنے پر مجبور کیا اور کہا کہ اگر تم واپس نہیں آؤگے تو ہم آپ خلافت سے عزل کرینگے۔ اس وقت امام نے قاصد سے کہا کہ مالک سے کہو واپس آجائیں کیوں کہ فتنے نے سر اٹھایا ہے۔ قاصد نے مالک کے پاس جا کر جب یہ پیغام سنایا تو انہوں نے کہا کہ آیا یہ فتنہ اس قرآن کے نیزوں پر بلند ہونے کی وجہ سے ہے؟ قاصد نے جواب دیا ہاں۔ اس وقت مالک نے کہا خدا کی قسم جب قرآن نیزوں پر بلند ہوا تو میں سمجھ گیا تھا کہ یہ چیز ہمارے درمیان اختلاف کا سبب بنے گا لیکن کیا اس سنہرے موقع(فتح) کو ہاتھ سے جانے دینا عقل مندی کا کام ہے؟ قاصد نے مالک سے کہا اچھا کیا تمہیں پسند ہے کہ تم یہاں معاویہ پر جیت جاو اور وہاں امیر المؤمنین اپنے لشکریوں کے ہاتھوں شہید ہو جائے؟ مالک نے کہا سبحان اللہ ہرگز مجھے ایسا پسند نہیں ہے۔ قاصد نے کہا انہوں نے امام سے کہا ہے کہ یا مالک واپس آئے یا ہم آپ کو شہید کر دینگے جس طرح عثمان کو قتل کیا ہے یا یہ کہ آپ کو دشمن کے حوالے کر دینگے۔
یوں مالک میدان جنگ سے واپس آئے۔ جنگ سے واپس آکر آپ نے مخالفین سے مذاکرات کئے اور ان کی سرزنش کی اور ایک دوسرے سے لڑنے لگے یہاں تک کہ امام(ع) نے ان کو ٹوکا اور اس کام سے انہیں باز رکھا۔ مالک اشتر حکمیت کے مخالف تھے لیکن چونکہ امام(ع) نے اسے قبول کیا تھا اسلئے آپ نے امام(ع) کی پیروی کی۔[1]
[1]الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، ص ۳۹.