logo-img
رازداری اور پالیسی
ایک سال قبل

عثمان کے محاصرہ

عثمان کے محاصرہ میں حضرت مالک اشترکا کردار؟


جب عثمان گورنروں اور حکومتی منصب داروں کی کارکردگی پر اعتراض کرنے والے مدینہ میں جمع ہو گئے تو مالک اشتر کوفہ والوں کا سردار تھا؛ لیکن جب بات عثمان کے گھر کا محاصرہ اور اسے قتل کرنے کی دھمکی تک پہنچی تو مالک اشتر مخالفین سے جدا ہوگئے اور ان کی پیروی کرتے ہوئی حکیم بن جبلۃ بصرہ والوں کا سردار بھی پیچھے ہٹ گیا لیکن ابن عدیس اور انکے ساتھی جو مصری تھے، نے عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا۔[1] مالک اشتر اور جریر بن عبداللہ بجلی کے درمیان ہونے والی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ مالک عثمان کے قاتلین میں سے نہیں تھا ۔ جریر امام علی(ع) کی طرف سے مذاکرات کیلئے شام گیا تھا لیکن بغیر کسی نتیجے کے واپس آیا۔ اس وقت مالک اشتر نے امام علی(ع) سے کہا اے امیر المؤمنین(ع) اگر جریر کی جگہ مجھے بھیجا ہوتا تو اچھا تھا۔ جب جریر نے یہ بات سنی تو کہا خدا کی قسم اگر تم جاتے تو یہ لوگ تجھے قتل کر دیتے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ تم عثمان کے قاتلین میں سے ہے۔[2] اس گفتگو میں جو لفظ "زعم" آیا ہے اس کا ترجمہ گمانہ زنی ہے اور وہ بھی باطل طور پر یعنی ان کا یہ گمان باطل ہے۔ اگر مالک اشتر عثمان کے قاتلین میں سے ہوتا تو جریر کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ وہ تمہیں عثمان کے قاتلین میں سے جانتے ہیں، کہنا چاہئے تھا۔ نہ یہ کیہ کہیں کہ ان کا خیال ہے کہ تم عثمان کے قاتلین میں سے ہو۔ عثمان کے قتل ہونے کے بعد مالک اشتر نے لوگوں کو امام علی(ع) کی بیعت کی طرف دعوت دی اور آپ کی بعنوان خلیفہ مسلمین بیعت کی۔[3] [1] الطبری، تاریخ الطبری، ج ۳، ص ۴۱۱؛ الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، ص ۴۱. [2] الامین، اعیان الشیعہ، ج۴، ص ۷۵. [3] الامین، اعیان الشیعہ، ج ۹، ص ۴۱.

3