: نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد زہیر نے امام(ع) کیلئے یہ اشعار پڑھا:
اقدم هدیت هادیاً مهدیا الیوم تلقی جدّک النّبیا(ص)
و حسناً(ع) و المرتضی علیا(ع) و ذا الجناحین الفتی الکمیا
و اسد الله الشّهید الحیا
"آگے بڑھتا جا اے ہدایت یافتہ اور لوگوں کا رہنما، آپ اپنے جد نبی اکرم(ص) سے ملاقات کروگے۔ اسی طرح حسن مجتبی(ع)، علی مرتضی(ع) اور جعفر طیار وہ دلیر انسان اور حمزہ شیر خدا شہید زندہ سے ملاقات کرو گے۔"
امام(ع) سے اجازت طلب کرنے کے بعد زہیر میدان کی طرف بڑھتے ہوئے یہ رجز پڑھ رہا تھا:
انا زهیر و انا ابن القین اذودکم بالسیف عن حسین(ع)
ان حسیناً(ع) احد السبطین من عترة البر التقی الذی
ذاک رسول الله غیر المین اضربکم و لا اری من شین
"میں قین کا بیٹا زہیر ہوں اور اپنے تلوار سے امام حسین(ع) کی ناموس سے دفاع کرونگا۔ حسین(ع) رسول خدا(ص) کے دو نواسوں میں سے ایک ہے ایک ایسے خاندان سے ان کا تعلق ہے جن کی زینت نیکی اور تقوا ہے۔ اس وقت وہ خدا کی حجت ہے پیغمبر کے نسل سے اور میں تمہیں قتل کر دونگا اور اسے کوئی عیب نہیں جانتا ہوں۔"
نقل ہوا ہے کہ اس نے میدان جنگ میں دشمن کے 120 افراد کو ہلاک کیا۔آخر کار زہیر کثیر بن عبداللہ شعبی اور مہاجر بن اوس تمیمی کے ہاتھوں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوا۔[1]
[1] مناقب آل ابی طالب ج۳، ص۲۲۵؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۳۶؛ انساب الاشراف ج۳، ص۱۹۶؛ الیامل فی التاریخ، ج۴، ص۷۱.