logo-img
رازداری اور پالیسی
ایک سال قبل

حضرت مقداد

مقداد کے بارے اہل بیت (علیہم السلام) کی کیا احادیث ہیں؟


مقداد کے متعلق معصومین (علیہم السلام) سے متعدد احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں ان کی فضیلت و اخلاقی خصوصیات بیان ہوئی ہیں مثلا: 1. محبت رسول خدا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ)نے فرمایا: خدا نے مجھے چار افراد سے محبت کا حکم دیا ہے۔ کسی نے سوال کیا وہ اشخاص کون ہیں؟ ارشاد فرمایا: علی، سلمان، مقداد اور ابوذر.[1] 2. مقداد کا بہشتی ہونا: انس بن مالک سے روایت ہے: ایک روز رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: بہشت میری امت کے چار افراد کی مشتاق ہے۔ جب حضرت علی (علیہ السلام) نے ان سے متعلق استفسار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: خدا کی قسم! تم ان میں سے پہلے شخص ہو اور دوسرے تین افراد مقداد، سلمان اور ابوذر ہیں۔ اسی طرح امام صادق (علیہ السلام) اس آیت: "إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا"[2] کی تفسیر میں فرمایا: یہ آیت ابوذر، مقداد، سلمان اور عمار کے متعلق نازل ہوئی ہے۔[3] 3. ایمان مقداد: امام صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے: ایمان کے دس درجے ہیں۔ مقداد آٹھویں درجے پر، ابوذر نویں درجے اور سلمان دسویں درجے پر فائز ہیں۔[4] 4. آیت مودّت پر عمل کرنے والا: امام صادق (علیہ السلام) نے آیت مودت (قُل لا أَسئَلُكُم عَلَیهِ أَجراً إِلاَّ المَوَدَّةَ فِی القُربى)[5] کے متعلق فرمایا: خدا کی قسم!اس آیت پر صرف سات افراد کے علاوہ کسی نے عمل نہیں کیا اور ان میں سے ایک مقداد ہے۔[6] 5. مقداد اہل بیت میں سے: ایک روز جابر بن عبداللہ انصاری نے سلمان، مقداد اور ابوذر کے متعلق رسول اللہ سے سوال کیا۔ جواب میں آپ نے ہر ایک کے بارے میں گفتگو کی اور مقداد کے بارے میں فرمایا: مقداد ہم سے ہے۔ جو مقداد کا دشمن ہے خدا بھی اس کا دشمن ہے جو اسکا دوست ہے خدا بھی اس کا دوست ہے۔ اے جابر! اگر چاہتے ہو کہ تمہاری دعا مستجاب ہو تو خدا کے سامنے اس کے نام سے دعا کرو کیونکہ خدا کے نزدیک اس کا نام بہترین اسما میں سے ہے۔[7] 6. حضرت علی (علیہ السلام) سے وفاداری: امام باقر (علیہ السلام) سے مروی ہے: رسول خدا کے بعد سلمان، ابوذر اور مقداد کے علاوہ تمام افراد نے رسول خدا کی سیر کو چھوڑ دیا: [8] بعض روایات مقداد کو امام علی (علیہ السلام) کے مطیع‌ ترین دوستوں میں شمار کرتی ہیں۔[9] 7. رجعت مقداد: احادیث کے مطابق مقداد حضرت مہدی (عجل اللہ فرج) کے ظہور اور ان کے قیام کے دور میں رجعت کرنے والوں، آپ (علیہ السلام) کے اصحاب اور آپ کی حکومت کے کمانڈروں میں سے ہیں۔[10] 8. مقداد کو دوست رکھو: امام صادق (علیہ السلام) نے فرمایا: مسلمانوں پر واجب ہے کہ رسول خدا کے بعد منحرف نہ ہونے والوں سے دوستی رکھیں۔ پھر کچھ نام لئے ان میں سے سلمان، ابوذر اور مقداد کا نام بھی لیا۔[11] نقل حدیث مقداد نے پیغمبر اکرمؐ سے احادیث نقل کی ہیں۔ اسی طرح بعض راویوں نے مقداد سے حدیث سنی یا نقل کی ہیں ان میں: سلیم بن قیس، انس بن مالک، عبدالله بن عباس، عبدالله بن مسعود، عبدالرحمن بن ابی‌ لیلی، ابو ایوب انصاری، ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب (آپ کی زوجہ) اور كريمہ (آپ کی بیٹی)۔[12] [1] شیخ مفید، الاختصاص، جامعہ مدرسین، ص۹. [2]سوره کہف، آیت ۱۰۷. [3]مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴، ص۱۵۱. [4]قمی، شیخ عباس، منتهی الآمال، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۲۲۸ [5]سوره شوری، آیت ۲۳. [6]مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳، ج۲۳، ص۲۳۷. [7]شیخ مفید، الاختصاص، جامعہ مدرسین، ص۲۲۳. [8]خوئی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۰ق، ج۶، ص۱۸۶ [9]شیخ طوسی، اختیار معرفۃ الرجال، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۴۶. [10]مفید، الارشاد، ۱۳۸۸ش، ص۶۳۶ . [11]خوئی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۰ق، ج۶، ص۱۸۷. [12]خوئی، معجم رجال الحدیث، ۱۴۱۰ق، ج۶،

5