logo-img
رازداری اور پالیسی
Syed Hassnain Haider ( 38 Year ) - پاکستان
ایک سال قبل

امام حسين عليه السلام پر سوگ کی مدت

السلام علی الحسین و علی آلہ و اصحابہ۔ کیا امام حسین علیہ السلام کے سوگ کے ایام کے بارے میں کوئی نص یا حدیث موجود ہے، ہمارے آئمہ معصومین نے کتنے دن امام کا سوگ منانے کا حکم دیا ہے، کیونکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ امام کا سوگ شروع میں صرف دس روز کا تھا۔ بعد میں چہلم تک بڑھا اور بعد میں ربیع الاول تک اور اب پاکستان میں 8 ربیع الاول تک منایا جاتا ہے ۔ مہربانی فرما ئیں


تین نقاط ہیں جنکی مدد سے ہم ثابت کریں گے کہ محرم و صفر سوگ کے مہینے ہیں: ۱۔سیرت متشرعہ ۲۔ سیاہ لباس اتارنے کی حدیث اور آل محمد کے غم میں غمزدہ ہونا ۳۔احیاء اسلام 1۔سیرت متشرعہ سیرت متشرعہ سے مراد لوگوں کے ایک گروہ کی عملی روش ہے مثال کے طور پر گروہِ شیعہ اثنا عشری معصوم کے زمانے سے آج تک محرم وصفر میں سوگ مناتے رہے ہیں یہ بھی شرعی دلیل ہوگی ۔ بالفاظ دیگر سیرتِ متشرعہ اگر معصومؑ کے زمانے میں جاری و متحقق ہو اور معصومؑ نے اس عملی سیرت کو دیکھا ہو یا اس کی تقریر و تائید کی ہو تو یہ سیرتِ متشرعہ حجت ہو گی۔ لہٰذا ہم مراجع کرام، علما، صالحین، متدین عوام الناس کو مختلف بلاد میں دیکھتے ہیں کہ سب ہی محرم و صفر میں سوگ مناتے ہیں بلکہ گزشتہ علما کے حالات شہرت رکھتے ہیں کہ وہ بھی محرم و صفر دو ماہ سوگ مناتے تھے جیساکہ سید خوئی اور سید حکیم۔ اسی طرح سے ان سے پہلے علما جیساکہ۔ میرزا تقی شیرازی اور ان جیسے دیگر اعلام دو ماہ مسلسل سوگ مناتے تھے۔ یہ ہی سلسلہ اوپر چلتا جائے تو ہمیں نسل در نسل شیعہ اثنا عشری محرم و صفر سوگ مناتے نظر آئیں گے اور ہمین یقین حاصل ہوجاتا ہے کہ یہ سلسلہ معصوم کے زمانے سے متصل ہے۔ اور یہ ہی سیریت متشرعہ ہے۔ سید محمد شاھرودی کے فارسی خطی استفتا میں موجود ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ دو ماہ تک حسینی سوگ ان چیزوں میں سے ہے جس پر سیریت متشرعہ قائم ہے۔ محرم و صفر کے سوگ ہونے پر آیت اللہ جواد تبریزی کے بعض استفتا: ۱۔ آیت اللہ العظمی شیخ التبریزی (رحمۃ اللہ علیہ) سے سوال کیا گیا کہ محرم اور صفر کے مہینوں میں عقد نکاح کرنے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ان دو مہینوں میں نکاح کرنے میں کوئی برکت نہیں ہے کیونکہ یہ اہل بیت علیہم السلام پر پیش آنے والی آفتوں اور غموں کی وجہ سے غم کے مہینوں میں سے ہیں۔ [صراط النجاة: ج10، ص339]. ۲۔ س: محرم، صفر اور ائمہ معصومین علیہم السلام کی وفات کے دنوں میں سیاہ لباس پہننے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ج: ائمہ معصومین علیہم السلام کی وفات کے ایام اور محرم و صفر کے ایام میں سیاہ لباس پہننا اہل بیت علیہم السلام سے محبت کی دلیل ہے۔ ائمہ علیہم السلام سے وارد ہے: رحم الله من أحيا أمرنا } ترجمہ: {خدا ان لوگوں پر رحم کرے جو ہمارے امر کو زندہ کرتے ہیں} اگر کوئی مسافر وہاں سے گزرے اور لوگوں کو سیاہ لباس پہنے ہوئے دیکھے تو ضرور پوچھے گا:ایسا کیا ہوا جس نے لوگوں کو سیاہ لباس پہنا دیا؟ اور جب یہ سمجھے گا کہ یہ اہل بیت (علیہ السلام) کا غم کی وجہ سے ہےاور یہ ایام رسول خدا (ص) کے فرزند امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کے دن کی وجہ سے ہے تو یہ بذات خود آئمہ کے امر کا احیاء ہے، اور اسی وجہ سے معلوم ہوا کہ محرم اور صفر ، اسلام کی بقا کا سبب ہیں۔ کیونکہ واقعہ طف وہ تھا جس نے حقیقی اسلام کو زندہ کیا۔ لہٰذا ان مراسم کو سنجیدگی اور عزم کے ساتھ منعقد کیا جانا چاہیے تاکہ حسینی جوش و خروش برقرار رہے۔۔۔۔۔ ۳۔س: ائمہ معصومین علیہم السلام کی شہادت کے ایام میں سیاہ لباس پہننے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اور محرم اور صفر کے تمام ایام میں بھی کالا لباس پہننا؟ جواب؛ یہ مستحب ہے، کیونکہ یہ سید الشہداء (علیہ السلام) اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی مصیبت پر رنج و غم ظاہر کرنے کی دلیل ہے۔ حوالہ ﴿۲ اور ۳ : كتاب الشعائر الحسينية /آية الله العظمى الميرزا جواد التبريزي(قدس سره) اعداد وتنظيم الشيخ جعفر التبريزي ) 2۔سیاہ لباس اتارنے کی حدیث اور آل محمد کے غم میں غمزدہ ہونا ایک روایت کے مطابق ۹ ربیع الاول کو (يوم نزع السواد) ترجمہ: “سیاہ لباس اتارنے کا دن“ کہا جاتا ہے جو اس طرف اشارہ ہے کہ سوگ کے دن ختم ہو گئے۔ اس روایت سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ ۹ ربیع الاول سے پہلے سیاہ لباس پہنا جاتا ہے۔ جس وقت ہم روایات اھل بیت (علیھم السلام) کی طرف مراجعہ کرتے ہیں تو ہمیں ملتا ہے کہ عاشورا پر سیاہ لباس پہن لیا گیا روایت ملاحظہ فرمائیں: ففي حسنة عمر بن علي بن الحسين (ع): «لمّا قُتِل الحسين بن علي (ع) لبس نساء بني هاشم السواد والمسوح، وكنّ لا يشتكين من حرّ ولا برد، وكان علي بن الحسين (ع) يعمل لهن الطعام للمأتم» ترجمہ: جب حضرت حسین (علیہ السلام)قتل ہوئے تو بنی ہاشم کی خواتین نے سیاہ اور کھردرا لباس پہن لیا۔ وہ گرمی یا سردی کی شکایت نہ کرتیں تھیں۔ اور امام زین العابدین علیہ السلام ان کے لئے سوگ میں ہونے کی وجہ سے کھانے کا انتظام فرماتے۔ لہٰذا ان دونوں روایات کو جمع کریں تو نتیجہ نکل سکتا ہے کہ ۹ ربیع الاول تک سوگ کرسکتے ہیں بلکہ عاشور کے بعد سے آل رسول کی بیٹیوں پر ظلم و ستم کیا گیا ہے ۔ امام زمانہ(عج) فرماتے ہیں: "آپ کا سر مبارک نوک سناں پر تھا اور آپ کے گھرانے کو اسیر غلاموں کی مانند زنجیروں میں جکڑا گیا تھا۔ ان کے چہرے گرمی کی تپش سے جھلس رہے تھے اور انہیں وسیع بیابانوں اور صحراؤں میں لے جایا جارہا تھا، ان کے ہاتھ ان کی گردنوں میں لٹکے ہوئے تھے اور انہیں بازاروں میں پھرایا جارہا تھا۔"۔ روایات میں وارد ہے کہ ہمارے شیعہ ہماری بچی ہوئی مٹی سے خلق ہوئے اور یہ ہماری خوشی میں خوش اور غم میں غمزدہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک اور روایت ہے: وردت عن النبي الأعظم (ص) روايةٌ عجيبةٌ يتحدّث فيها عن السيّدة زينب (ع) فيقول: «ومن بكى على مصاب هذه البنت كان كمن بكى على أخويها الحسن والحسين» ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عجیب و غریب روایت وارد ہے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : جو شخص میری اس بیٹی کی مصیبت پر گریہ کرے گا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے ان کے بھائی حسن و حسین علیہما السلام پر گریہ کرنا ۔(زينب الكبرى، الشيخ جعفر النقدي: ص17.) 3۔احیاء اسلام ایک مشہور مقولہ ہے: وهي: (الإسلام محمّدی الوجود حسينيّ البقاء) اسلام کا وجود محمدی ہے اور اسلام کی بقا حسینی ہے۔یعنی اسلام لانے والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں جبکہ اسکی حقانیت کی بقا امام حسین علیہ السلام سے ہے۔ اگر سید الشھدا نہ ہوتے اور اسلام کی اقتدار کی حفاظت نہ کرتے تو وجود اسلام مٹ جاتا۔ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف اس افسوسناک المیے کو قتلِ اسلام ۔۔۔ کے مترادف قرار دیتے ہیں اور فرماتے ہیں: "ہلاکت ہو ان سرکشوں پر جنہوں نے آپ کو شہید کر کے اسلام کو مار دیا اور نماز، اور روزے کو بے معنی کرکے معطل کیا، سنتوں کو پامال کرکے رکھ دیا، اور ایمان کے ستونوں کو گرا دیا۔ قرآنی آیات کو بگاڑ دیا اور فساد اور دشمنی میں خوب کوشاں ہوئے۔۔۔ کتاب خدا کو ترک کردیا گیا اور حق و حقیقت کے ساتھ خیانت ہوئی" وَفَقَدَ بِفَقدِكَ التَّكبيرُ وَالتَّهليلُ والتَّحريمُ وَالتَّحليلُ والتَّنزيلُ وَالتّأويلُ وَظَهَرَ بَعدَكَ التَّغييرُ وَالتّبديلُ وَالاِلحادَ والتّعطيلُ وَالاَهواءُ وَالاَضاليلُ وَالفِتَنُ وَالاَباطيلُ آپ کے جانے کے ساتھ ہی اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ، حرام و حلال اور تنزیل و تاویل کا خاتمہ ہوا۔ آپ کے بعد تغییر، تبدیلی، بےدینی، کفر، نفسانی خواہشات، گمراہیاں، بلوے، بیہودگیاں اور باطل اعمال نمودار ہوئے۔"۔ جہاں ضروری ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی تحریک کو سمجھیں وہاں تحریک زینبی کو سمجھنا بہت ضروری ہے کیونکہ اگر تحریک زینبی نہ ہوتی تو تحریک حسینی ختم ہوجاتی۔ امام حسین کو سمجھنے کے لئے محرم الحرام کے پہلے دس دن کو اجاگر کیا جاتا ہے اور تحریک زینبی جو کہ عاشور کے بعد سے صفر کے اختتام پر مشتمل ہے کو اجاگر کرنا بہت ضروری ہے جسے محرم و صفر دو ماہ عزاداری، مجالس کے ذریعہ اجاگر کیا جاتا ہے۔ آخر میں ایک روایت نقل کرتے ہیں جس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ معصوم نے سید الشہدا کا غم کتنا منایا: ایک روایت کے ضمن میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول کہ امام سجادؑ نے (تقریبا) چالیس سال تک اپنے والد کے لئے گریہ کیا جبکہ دنوں کو روزہ رکھتے اور راتوں کو نماز و عبادت میں مصروف رہتے تھے، افطار کے وقت جب آپ کو کھانا اور پانی پیش کیا جاتا تو آپؑ فرمایا کرتے: "فرزند رسول اللہ بھوکے پیاسے مارے گئے!"، اور یہی بات مسلسل دہراتے رہتے اور گریہ کرتے تھے حتی کہ آپ کے اشک آپ کے آب و غذا میں گھل مل جاتے۔ ایک دن ایک چاہنے والے نے آپ سے کہا: اگر آپ کی یہی حالت رہی تو مجھے ڈر ہے کہ آپ زندہ نہیں رہ پائيں گے۔ امام نے فرمایا: میں تو اپنی پریشانی اور غم کا اظہار اللہ ہی کے سامنے کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ پھر فرمایا: حضرت یعقوب نبی تھے اور اللہ نے ان کا صرف ایک بیٹا ان کی آنکھوں سے اوجھل کر دیا جبکہ ان کے بارہ بیٹے ان کے پاس ہی تھے اور وہ جانتے تھے کہ ان کا بیٹا زندہ ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے رو رو کر اپنی آنکھیں سفید کر لیں۔ جبکہ میں نے اپنے بابا، اپنے بھائیوں، اپنے چچا اور تمام اصحاب وانصار کواپنے ارد گرد مقتول دیکھا ہے ۔میرا یہ دکھ درد کیسے ختم ہو سکتا ہے؟ میں جب بھی فرزندِ فاطمہ کی شہادت کو یاد کرتا ہوں صبر کا دامن مجھ سے چھوٹ جاتا ہے۔ میں گریہ کرنے لگتا ہوں میں جب اپنی پھپھیوں اور بہنوں کو دیکھتا ہوں مجھے ان کا شام غریباں میں ایک خیمے سے دوسرے خیمے کی جانب تیزی سے جانا یاد آ جاتا ہے۔ امام سجاد علیہ السلام جب بھی پانی کی طرف دیکھتے تو ان کا حزن اور درد کئی گنا بڑھ جاتا، انھیں اپنے اپنے بابا اور اہل بیت کی پیاس یاد آ جاتی۔ راوی کہتے ہیں: جب بھی امام سجاد(ع) پانی پینے لگتے تو گریہ شروع کر دیتے، جب بھی ان سے اس بارے میں بات کی جاتی تو وہ فرماتے: میں کیسے گریہ نہ کروں میرے بابا کے پانی پینے پر پابندی تھی لیکن درندوں کو اسے پینے کی آزادی تھی۔

10