logo-img
رازداری اور پالیسی
مر تضی علی ( 21 Year ) - پاکستان
ایک سال قبل

عزاداری امام حسین

عزاداری کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں بیان فرمائے؟


انبیاء کرام کی سیرت عملی کی پیروی کرنا بے شک یہ ہمارے موضوع بحث(عزاداری و گريه بر امام حسين عليه السلام ) سے مربوط ہے اور خود عزاداری کے جائز ہونے پر  دلیل عقلی و نقلی بھی ہے کیونکہ انبیاء کرام کی سیرت عملی ہمارے اعمال کے صحیح و شرعی ہونے پر قوی ترین دلیل ہے۔ اس لیے کہ خداوند نے ان کی سیرت و سنت کی اتباع و پیروی سب پر واجب قرار دی ہے: قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَهٌ حَسَنَهٌ فِي إِبْرَهِيمَ. الممتحنه (60): 4 بے شک تمہارے لیے حضرت ابراہیم(ع) کی ذات بہترین عملی نونہ ہے۔ لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَهٌ حَسَنَهٌ. ألاحزاب (33): 21 بے شک تمہارے لیے رسول خدا(ص) کی ذات بہترین عملی نونہ ہے۔ حضرت یعقوب(ع) کا اپنے بیٹے کی جدائی پر گریہ کرنا: حضرت یعقوب کا بیٹے کی جدائی پر صبح و شام گریہ کرنا حتی کہ خداوند حضرت یعقوب کی زبان سے ایسے بیان کر رہے ہیں: وَقَالَ يَأَسَفَي عَلَي يُوسُفَ وَابْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ يوسف(6): 84 کہا کہ ہائے افسوس بر یوسف اور حزن و غم کی وجہ سے انکی آنکھیں سفید ہو گئی وہ بہت صبر کرنے والے تھے۔    حضرت یعقوب بیٹے کے غم میں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ زندہ ہے لیکن پھر بھی جدائی کی وجہ سے ان کی روح اذیت و غم میں تھی۔ اپنی روح کی تسکین کے لیے خداوند کی پناہ تلاش کرتے ہوئے کہتے ہیں: قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُواْ بَثِّي وَحُزْنِي إِلَي اللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ اللَّهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ.يوسف(6): 86. اپنی شکایت اور غم کو خداوند کی بار گاہ میں عرض کرتا ہوں اور جو کچھ خدا وند کی طرف سے جانتا ہوں تم لوگ نہیں جانتے۔ اس دلیل قرآنی سے خداوند کے اولیاء پر گریہ و زاری اور ظالموں کی شکایت خداوند کی بارگاہ میں کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سیرت انبیاء کہ جو بعنوان دلیل محکم و قرآنی ہے، سے اصل عزاداری کا جائز و شرعی ہونا بھی ثابت ہو جاتا ہے۔ شھادت حضرت حمزہ پر رسول خدا(ص) کا گریہ کرنا: حمزه ابن عبدالمطلب اسلام کی اہم شخصیات میں سے ہیں کہ جو جنگ احد میں شھید ہوئے۔ رسول خدا صلّي الله عليه و آله وسلّم اپنے چچا حمزہ کی شھادت پر بہت غمگین ہوئے، کیونکہ وہ اسلام و توحید کے حامی و مدافع تھے، ان کی جدائی پر گریہ کیا اور ان کو سید الشھداء کا نام دیا۔رسول خدا(ص) کا اپنے چچا کی شھادت پر رد عمل ان کے سب پیروکاروں  کے لیے عملی نمونہ ہے۔ حلبی اپنی کتاب سيرۃ النبی میں لکھتا ہے کہ: لما رأي النبي حمزه قتيلا، بكي فلما راي ما مثّل به شهق. جب پیغمبر(ص) نے حضرت حمزہ کا مردہ بدن دیکھا تو گریہ کیا اور جب بدن کو مثلہ کرنے سے آگاہ ہوئے تو زور زور سے گریہ کیا۔ السيره الحلبيه، ج 2، ص 247. یہ گریہ رسول خدا اس قدر شدید تھا کہ ابن مسعود کہتا ہے کہ: ما رأينا رسول اللّه صلّي الله عليه و آله وسلّم باكياً أشدّ من بكائه علي حمزه، وضعه في القبله، ثمّ وقف علي جنازته، وانتحب حتّي بلغ به الغشي، يقول: يا عمّ رسول اللّه! يا حمزه! يا أسد اللّه! وأسد رسوله! يا حمزه! يا فاعل الخيرات! يا حمزه! يا كاشف الكربات! يا حمزه! يا ذابّ عن وجه رسول اللّه!. ہم نے آج تک رسول خدا کو اس قدر شدید گریہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ بدن حضرت حمزہ کو قبلے کی طرف رکھا ہو تھا۔ اس قدر زیادہ گریہ کیا کہ رسول خدا پر غشی طاری ہو گئی۔ وہ پکار پکار کر بدن پر بین کر رہے تھے۔اے پیغمبر خدا کے چچا، اے حمزه! اے شير خدا ،اے شير پيغمبر خدا، اے حمزه! اے وہ کہ جو نیک کام انجام دیتے تھے ، اے حمزه! اے وہ کہ جو  مشكلات کو دور کرتے تھے ، اے  حمزه! جو  رسول خدا سے سختیوں کو دور کرتے تھے۔ ذخائر العقبي، ص 181. حضرت حمزہ پر غم کے تمام مواقع پر گریہ و عزا کا جاری رہنا: ابن کثیر کہتا ہے کہ: آج تک انصار کی خواتین اپنے مردوں پر گریہ کرنے سے پہلے حمزہ پر روتی ہیں: أحمد بن حنبل عن ابن عمر أن رسول الله صلي الله عليه وسلم لما رجع من اُحد فجعلت نساء الأنصار يبكين علي من قتل من أزواجهن قال فقال رسول الله صلي الله عليه وسلم ولكن حمزه لا بواكي له قال ثم نام فاستنبه وهن يبكين. ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم جب جنگ احد سے واپس آ رہے تھے تو دیکھا کہ انصار کی خواتین اپنے مردوں پر گریہ کر رہی ہیں۔ رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم نے فرمایا کہ حمزہ پر کوئی رونے والا نہیں ہے ۔ پھر رسول خدا (ص) بعد میں متوجہ ہوئے کہ عورتیں حضرت حمزہ کے لیے بھی گریہ کر رہی ہیں۔ قال فهن اليوم إذا يبكين يندبن بحمزه. اس دن سے آج تک عورتیں پہلے حمزہ کے لیے اور پھر اپنے شھدا کے لیے عزاداری کرتی ہیں۔ البدايه والنهايه، ابن كثير، ج 4، ص 55. کیا رسول خدا صلّي الله عليه و آله وسلّم کا یہ عمل گریہ و عزاداری کے جائز و شرعی ہونے پر دلیل نہیں ہے؟ اہل ایمان پيغمبر اكرم صلّي الله عليه و آله وسلّم کی سنّت عملی کو اپنے اعمال کے لیے معیار و میزان قرار دیتے ہیں۔ لھذا جناب حمزہ کے لیے گریہ و زاری میں رسول خدا کی عملی سیرت (ص) دوسرے اولیاء و بزرگان دین پر گریہ و عزاداری کی دلیل ہو سکتی ہے۔ شهادت جعفر بن أبی طالب پر رسول خدا(ص) کا گریہ کرنا: جعفر بن أبی طالب جنگ موتہ میں شھید ہوئے تھے۔ رسول خدا صلّي الله عليه و آله وسلّم نے ان کی شھادت کی خبر سنی تو ان کے بیٹے کو ملنے ان کے گھر گئے۔ جب حضرت جعفر کے بچوں کو دیکھا تو گریہ کرنا شروع کیا۔ حضرت جعفر کی بیوی اسماسمجھ گئی کہ جعفر کو کچھ ہو گیا ہے۔ رسول خدا سے سوال کیا کہ: بأبي وأمّي ما يبكيك؟ أبلغك عن جعفر وأصحابه شئ؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں جعفر کو کیا ہوا ہے؟ قال: نعم، أصيبوا هذا اليوم. قرمایا: ہاں آج وہ شھید ہو گئے ہیں۔ أسمازور سے چلاّئی۔ فاطمه زهراء سلام الله عليها ان کے گھر آئیں اور گریہ کرنا شروع کیا: «وا عمّاه». ہائے میرے چچا کو کیا ہو گیا ہے؟ فقال رسول اللّه صلّي الله عليه و آله وسلّم: علی مثل جعفر فلتبك البواكی۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا: رونے والوں کو جعفر جیسے انسانوں پر رونا چاہیے۔ الاستيعاب، ج 1، ص 313 ـ أسد الغابه، ج 1، ص 241 ـ الاصابه، ج2، ص 238 ـ الكامل في التاريخ، ج2، ص 420. اپنے بیٹے ابراهيم کی وفات پر رسول خدا(ص) کا گریہ کرنا: ابراهيم مدینے میں پیدا ہوئے تھے اور ایک سال کی عمر میں فوت ہوئے اور اپنے والدین کو غم کی حالت میں تنھا چھوڑ گئے۔ ابراهيم کی ماں کا نام ماریہ تھا۔ رسول خدا اپنے بیٹے کی وفات پر رو رہے تھے کہ عبد الرحمن نے تعجب کی حالت میں سوال کیا «وأنت يا رسول اللّه؟». آپ بھی رو رہے ہیں؟فرمایا: «يا ابن عوف، إنّها رحمۃ». یہ گریہ کرنا رحمت کی علامت ہے۔ پھر فرمایا: إنّ العين تدمع، والقلب يحزن، ولانقول إلّا ما يرضي ربّنا، وإنّا بفراقك يا إبراهيم لمحزونون. آنکھ رو رہی ہے دل غمگین ہے لیکن میں وہی بات کروں گا جس پر  خدا راضی ہو گا۔ اے ابراھیم ہم تیری وفات پر غمگين ہیں۔ صحيح بخاري، ج 2، ص 85، صحيح مسلم، ج 4، ص 1808، كتاب الفضائل، باب رحمته بالصبيان ـ العقد الفريد، ج 3، ص 19، كتاب التعزيه ـ سنن ابن ماجه، ج 1، ص506، ش 1589، باب ما جاء في البكاء علي الميت ـ مصنف عبد الرزاق، ج 3، ص552، ش 6672، باب الصبر والبكاء والنياحه عبدالمطلب کی وفات پر رسول خدا(ص) کا گریہ کرنا۔ حضرت عبدالمطلب کی وفات پر رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلّم نے گریہ کیا۔ ام ایمن کہتی ہے کہ: انا رايت رسول اللَّه يمشی تحت سريره و هو يبكی. میں نے رسول خدا کو دیکھا کہ حضرت عبد المطلب کے جنازے کے نیچے چلتے جا رہے ہیں اور گریہ کرتے جا رہے ہیں۔ تذكره الخواص، ص 7. حضرت ابوطالب کی وفات پر رسول خدا(ص) کا گریہ کرنا: حضرت ابوطالب با ایمان اور حامی رسول خدا(ص) کی موت بھی پیغمبر پر بہت گران ثابت ہوئی۔ امير المؤمنين عليه السّلام فرماتے ہیں کہ: جب میرے والد کی وفات کی خبر رسول خدا نے سنی تو انھوں نے گریہ کیا اور فرمایا: اذهب فاغسله و كفّنه و واره غفراللَّه له و رحمه. ان کو غسل دو اور کفن دو اور دفن کرو۔ خداوند ان پر رحمت کرے اور  انکی مغفرت فرمائے۔ الطبقات الكبري، ابن سعد، ج 1، ص 105. رسول خدا کا اپنی والدہ حضرت آمنہ کی وفات پر گریہ کرنا: ایک دن رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلّم اپنی ماں کی قبر کی زیارت کے لیے ابوا کے مقام پر تشریف لے گئے۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ حضرت اپنی ماں کی قبر پر اس طرح روئے کہ جو بھی ان کے ساتھ تھا وہ بھی گریہ کر رہا تھا۔ المستدرك، ج 1،ص 357 ـ تاريخ المدينه، ابن شبّه، ج 1، ص 118. فاطمه بنت اسد کی وفات پر رسول خدا(ص) کا گریہ کرنا: فاطمه بنت اسد حضرت ابو طالب کی زوجہ اور امير المؤمنين عليه السّلام کی والدہ محترمہ کا رسول خدا بہت احترام کرتے تھے۔ جب وہ سال سوم ھجری کو فوت ہوئی تو رسول خدا بہت ہی زیادہ غمگین ہوئے اور گریہ کیا۔ مؤرخان لکھتے ہیں: صلّي عليها و تمرغ في قبرها و بكي. رسول نے ان پر نماز پڑھی، انکی قبر میں لیٹے اور ان پر گریہ کیا۔ ذخائر العقبي، ص 56. رسول خدا صلّي الله عليه وآله کا  امام حسين عليه السلام کے لیے گریہ کرنا: امام حسین(ع) کی ولادت کے موقع پر گریہ کرنا: مستدرك الصحيحين ، تأريخ ابن عساكراور مقتل الخوارزمي میں  أم الفضل بنت الحارث سے نقل ہوا ہے کہ: انها دخلت علي رسول الله(ص) فقالت: يا رسول الله اني رأيت حلما منكرا الليله، قال: وما هو؟ قالت: انه شديد قال: وما هو؟ قالت: رأيت كأن قطعه من جسدك قطعت ووضعت في حجري، فقال رسول الله (ص): رأيت خيرا، تلد فاطمه - إن شاء الله - غلاما فيكون في حجرك، فولدت فاطمه الحسين فكان في حجري - كما قال رسول الله (ص) - فدخلت يوما إلي رسول الله (ص) فوضعته في حجره، ثم حانت مني التفاته فإذا عينا رسول الله (ص) تهريقان من الدموع قالت: فقلت: يا نبي الله بأبي أنت وأمي مالك؟ قال: أتاني جبرئيل عليه الصلاه والسلام فأخبرني ان امتي ستقتل ابني هذا، فقلت: هذا؟ فقال: نعم، وأتاني بتربه من تربته حمراء. ام الفضل حارث کی بیٹی ایک دن حضور رسول خدا (صلي الله عليه و آله و سلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا کہ کل رات میں نے ایک بھیانک خواب دیکھا ہے ۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ کیا خواب دیکھا ہے؟کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ آپ کے بدن کا ایک ٹکڑا آپ کے بدن سے الگ ہو کر میری گود میں آ گرا ہے۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ تم نے بہت اچھا خواب دیکھا ہے ۔ بہت جلد فاطمه (عليها السلام) کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہو گا اور وہ بچہ تمہاری گود میں آئے گا۔ کہتی ہے کہ جب حسین(ع) دنیا میں آئے تو میں نے انکو اپنی گود میں اٹھایا۔ ایک دن میں حسین (ع) کو گود میں اٹھائے رسول خدا(ص) کے پاس گئی ۔ وہ حسین(ع) کو دیکھتے ہی اشک بہانے لگے۔ میں نے کہا  میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، آپ کیوں رو رہے ہیں؟آپ نے فرمایا ابھی جبرائیل مجھ پر نازل ہوا ہے اور اس نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت میرے اس بیٹے کو میرے بعد جلدی شھید کر دے گی پھر اس نے مجھے شھادت والی جگہ کی خاک بھی دکھائی اور دی ہے۔ حاكم نيشابوري اس حديث کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے : هذا حديث صحيح علي شرط الشيخين ولم يخرجاه. مستدرك الصحيحين، ج 3، ص 176 و با اختصار در ص 179 ـ تاريخ شام در شرح حال امام حسين عليه السلام: ص 183 رقم 232 ـ مجمع الزوائد، ج 9، ص 179 ـ مقتل خوارزمي، ج 1، ص 159 و در ص 162 با لفظ ديگر ـ تاريخ ابن كثير، ج 6، ص 230 و با اشاره در ج 8، ص 199 ـ أمالي السجري، ص 188. و مراجعه شود به: الفصول المهمه ابن صباغ مالكي، ص 154 و الروض النضير، ج 1، ص 89، و الصواعق، ص 115، و كنز العمال چاپ قديم، ج 6، ص 223، و الخصائص الكبري، ج 2، ص 125. حديث أمّ سلمه: امّ سلمه رسول خدا(ص) کی با وفا ہمسر گرامی تھیں کہ رسول خدا کی زندگی و سیرت کا مہم حصہ انھوں نے نقل کیا ہے۔ وہ رسول خدا صلي الله عليه وآله وسلّم کا حسين (ع) پر گریہ کرنے کو اس طرح روایت کرتیں ہیں: كان رسول الله صلي الله عليه وسلم جالسا ذات يوم في بيتي قال لا يدخل علي أحد فانتظرت فدخل الحسين فسمعت نشيج رسول الله صلي الله عليه وسلم يبكي فأطلت فإذا حسين في حجره والنبي صلي الله عليه وسلم يمسح جبينه وهو يبكي فقلت والله ما علمت حين دخل فقال إن جبريل عليه السلام كان معنا في البيت قال أفتحبه قلت أما في الدنيا فنعم قال إن أمتك ستقتل هذا بأرض يقال لها كربلاء فتناول جبريل من تربتها فأراها النبي صلي الله عليه وسلم ... مزید پڑھ ایک دن رسول خدا(ص) کمرے میں تھے اور فرمایا کہ کوئی بھی میرے کمرے میں داخل نہ ہو۔ میں کمرے کے باہر کھڑی ہو گئی تا کہ جب اجازت ملے تو اندر چلی جاؤں۔ اسی دوران امام حسين عليه السلام رسول خدا کے پاس آئے۔ تھوڑی دیر بعد کمرے سے رونے کی آواز سنائی دی۔ میں نے آگے ہو کر دیکھا کہ حسین(ع) نانا کے زانو پر بیٹھے ہیں اور وہ نواسے کی پیشانی پر ہاتھ لگا لگا کر روتے جا رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا، میں نے حسین(ع) کو کمرے میں نہیں آنے دیا بلکہ وہ خود آئے ہے۔ رسول خدا نے فرمایا کہ ابھی جبرائیل میرے پاس تھا اس نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ کیا آپ حسین سے محبت کرتے ہیں؟ میں کہا کہ ہاں۔ جبرائیل نے کہا: جلد ہی آپ کی امت ان کو کربلاء کی سرزمین پر شھید کرے گی اور بعد میں مجھے اس جگہ کی خاک بھی دکھائی ہے۔ مجمع الزوائد، ج 9، ص189. هيثمی اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے: رواه الطبراني بأسانيد ورجال أحدها ثقات. اس روایت کو طبرانی نے نقل کیا ہے اور اسکی ایک سند کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ مجمع الزوائد، ج 9، ص189. المعجم الكبير، طبراني، ج 3، ص109 ـ مسند ابن راهويه، ج 4، ص 131. عزاداری رسول خدا (ص) بعد از شهادت امام حسين(ع): حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ حَدَّثَنَا رَزِينٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي سَلْمَي قَالَتْ دَخَلْتُ عَلَي أُمِّ سَلَمَه وَهِيَ تَبْكِي فَقُلْتُ مَا يُبْكِيكِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ وَعَلَي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ فَقُلْتُ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا. سلمی کہتی ہے کہ: میں ام سلمہ کے پاس گئی دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہوا ہے کیوں گریہ کر رہی ہیں؟بولیں کہ رسول خدا کو خواب میں دیکھا ہے کہ ان کے سر اور داڑھی خاک آلود ہیں۔ میں نے خواب میں ہی سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا ہوا ہے۔ آپکی یہ حالت کیوں ہوئی ہے؟فرمایا کہ میں نے ابھی خواب میں حسین(ع) کو شھید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔ سنن ترمذي، ج 12، ص 195، كتاب فضائل الصحابه باب مناقب الحسن و الحسين. کیا سيره و سنّت پيامبر خدا صلّي الله عليه و آله وسلّم اس واقعے اور اس طرح کے دوسرے واقعات دلیل و حجت شرعی نہیں ہے؟ خلاصہ کلام۔ ان تمام دلائل و رویات کی روشنی میں عزاداری بر امام حسین(ع) کا جائز اور شرعی ہونا ثابت ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر انبیاء کی سنت و سیرت عملی میں بھی غم و عزا موجود و ثابت ہے۔ غم کے مواقع پر غم منانا اور خوشی کے مواقع خوش ہونا یہ ایک فطری عمل ہے جو تمام انسانوں کی فطرت سلیم میں پایا جاتا ہے۔ اہل بیت بخصوص امام حسین(ع) کے لیے اسے بدعت و نا جائز کہنا یہ فقط و فقط تعصب و بے انصافی ہے۔

4