قرآن کی آیت 35 سورہ الاحزاب کی مومن مرد مومن عورتیں یہ والی آیت اس کی تفسیر ظاہری اور باطنی کیا ہے ؟
قرآن کی یہ آیات جہاں یہ لکھا ہے فاسق مرد فاسق عورتوں کے لیے مومن مرد مومن عورتوں کے لیے خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے صالخ مرد صالخ عورتوں کے لیے ہیں کیا یہ ترجمہ اس آیت کا جو کیا ہے اہل سنت علماء نے تحریف کی ہے مومن مرد مومن عورت کے لیے اس میں کے لیے یہ اضافہ کیا ہے ؟ فقہ جعفریہ کے مطابق اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اچھے لوگوں کی اچھی باتیں برے لوگوں کی بری باتیں ! تفسیر کیا ہے۔
سورت احزاب کی آیت 35:
اِنَّ الۡمُسۡلِمِیۡنَ وَ الۡمُسۡلِمٰتِ وَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡقٰنِتِیۡنَ وَ الۡقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیۡنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیۡنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الۡخٰشِعِیۡنَ وَ الۡخٰشِعٰتِ وَ الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ وَ الۡمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآئِمِیۡنَ وَ الصّٰٓئِمٰتِ وَ الۡحٰفِظِیۡنَ فُرُوۡجَہُمۡ وَ الۡحٰفِظٰتِ وَ الذّٰکِرِیۡنَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ ۙ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃً وَّ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿۳۵﴾ ۳۵۔ یقینا مسلم مرد اور مسلم عورتیں، مومن مرد اور مومنہ عورتیں، اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں، راستگو مرد اور راستگو عورتیں، صابر مرد اور صابرہ عورتیں، فروتنی کرنے والے مرد اور فروتن عورتیں، صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں، روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتیں، اپنی عفت کے محافظ مرد اور عفت کی محافظہ عورتیں نیز اللہ کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کرنے والی عورتیں وہ ہیں جن کے لیے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم مہیا کر رکھا ہے۔
شان نزول: مجمع البیان میں آیا ہے:
اسماء بنت عمیس جب اپنے شوہر جعفر بن ابی طالب کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواج رسول سے پوچھا: کیا ہمارے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل ہوئی ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتیں نامراد، گھاٹے میں ہیں۔ فرمایا: کس چیز میں؟ عرض کیا: چونکہ عورتوں کا کوئی ذکر خیر نہیں ہوتا جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
سورت نور کی آیت نمبر 26 میں ہے:
اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ وَ الۡخَبِیۡثُوۡنَ لِلۡخَبِیۡثٰتِ ۚ وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ وَ الطَّیِّبُوۡنَ لِلطَّیِّبٰتِ ۚ اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوۡنَ مِمَّا یَقُوۡلُوۡنَ ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ﴿٪۲۶﴾
ترجمہ:خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں، یہ ان باتوں سے پاک ہیں جو لوگ بناتے ہیں، ان کے لیے مغفرت اور باعزت روزی ہے۔
اَلۡخَبِیۡثٰتُ: خبث ، کفر و شرک کی خباثت مراد ہو سکتی ہے۔ اسی طرح طیب سے مراد ایمان وعفت کی پاکیزگی ہو سکتی ہے۔
چنانچہ فرمایا:لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجۡعَلَ الۡخَبِیۡثَ بَعۡضَہٗ عَلٰی بَعۡضٍ فَیَرۡکُمَہٗ جَمِیۡعًا فَیَجۡعَلَہٗ فِیۡ جَہَنَّمَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ (۸ انفال:۳۷)
ترجمہ: تاکہ اللہ ناپاک کو پاکیزہ سے الگ کر دے اور ناپاکوں کو ایک دوسرے کے ساتھ باہم ملا کر یکجا کر دے پھر اس ڈھیر کو جہنم میں جھونک دے، (دراصل) یہی لوگ خسارے میں ہیں۔
اس آیت فَیَجۡعَلَہٗ فِیۡ جَہَنَّمَ دلیل ہے کہ خبیث سے مراد کافر ہے۔
لہٰذا آیت کا مطلب یہ بنتا ہے: خبیث عورتوں کا جوڑ خبیث مردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی کافر عورتوں کا جوڑ کافر مردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ اسی طرح پاکیزہ عورتوں کا جوڑ پاکیزہ مردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی مومن عورتوں کا جوڑ مؤمن مردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
بعض مفسرین نے کہا ہے:
بری باتیں برے لوگوں کو سجتی ہیں اور اچھی باتیں اچھے لوگوں کو۔
بعض دیگر نے کہا ہے:
برے اعمال برے لوگوں کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں اور نیک اعمال نیک لوگوں کے لیے مناسب ہیں۔
پہلا معنی زیادہ سیاق آیت سے مربوط ہے چونکہ آخر میں فرمایا ہے: اُولٰٓئِکَ مُبَرَّءُوۡنَ ۔ یہ لوگ ان باتوں سے پاک ہیں۔ یہ دلیل ہے کہ طیب سے مراد افراد و اشخاص ہیں، اقوال و افعال نہیں۔
یہ آیت بھی اَلزَّانِیۡ لَا یَنۡکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً ۔۔۔ کی طرح ہے۔
آیت کا سبب نزول مسئلہ افک سے مربوط لگتا ہے تاہم لفظ کی عمومیت کی وجہ سے ہر مؤمن مرد و عورت اور غیر مؤمن مرد و عورت سب شامل ہیں۔
نوٹ:حقیقی کفو وہ ہے جو نظریات و عقیدے پر مبنی ہے۔