logo-img
رازداری اور پالیسی
عون ( 16 Year ) - پاکستان
ایک سال قبل

حدیث لوح کی سند کی صحت۔

السلام علیکم ۔ برائے مہربانی حدیث لوح جو سیدہ زہرہ سلام اللہ علیہا سے منسوب ہے وہ صحیح سند کے ساتھ اُن تمام تفصیلات کے ساتھ جو بیان کی جاتی ہیں جیسے کی وہ زمرد رنگ کا ہے وغیرہ پیش کریں۔


وعليكم السلام و رحمة الله برادرِ عزیز! یہ حدیث سند کے حوالے سے اپنی مقبولیت اور مختلف منابع میں کثرت کے ساتھ نقل ہونے کی وجہ سے ائمہ معصومین علیھم السّلام کی امامت و خلافت کو ثابت کرنے میں ایک ممتاز مقام کی حامل ہے۔ اس حدیث کی سب سے اہم خصوصیت اس میں تمام آئمہ (علیھم السّلام) کے ناموں کا مذکور ہونا ہے جس میں امام علی (علیہ السّلام) سے لے کر بارہویں امام حضرت امام مہدی(علیہ السّلام) تک کا نام مذکور ہے۔ اس حدیث کا سب سے زیادہ مشہور نقل رسول اکرم (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ) کے جلیل القدر اور معروف صحابی جابر بن عبداللہ انصاری کے توسط سے ہوا ہے۔ وہ تختی جس پر یہ حدیث لکهی ہوئی تھی ایک ایسی تختی ہے جسے خداوند متعال نے امام حسین(علیہ السّلام) کی ولادتِ باسعادت کے موقع پر پیغمبر اکرم (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ) کو بطور ہدیہ عطا فرمایا تھا اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا )کی خشنودی کیلیے اسے حضرت فاطمہ (علیہا السلام) کو ہدیہ کے طور پر عطا فرمایا تھا۔ حدیث لوح مختلف طریقوں سے مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ جس کی ابتدا کچھ یوں ہے کہ امام جعفر صادق (علیہ الصلوۃ والسلام) نے جناب ابی بصیر سے کہا کہ میرے بابا امام محمد باقر (علیہ السلام )نے حضرت جابر سے یہ تقاضا کیا تھا کہ آپ کے پاس  اس تختی  کا نسخہ موجود ہے کہ جو امام حسین (علیہ السلام) کی ولادت کے موقع پر ہدیے کے طور پر جناب جبرائیل لے کر ائے تھے وہ مجھے دکھائیے امام (علیہ السلام) الفاظ پڑھ رہے تھے اور جناب جابر دیکھ رہے تھے کہ ایک ایک حرف ویسے ہی تھا جیسا امام(علیہ السلام) نے بیان کیا تھا اس کے علاوہ اس حدیث میں جہاں ہر امام ( علیہ السلام)کی کچھ صفات بیان ہوئی وہیں امام زمانہ (علیہ السلام )کی خاص صفات بھی بیان ہیں کہ امام(علیہ السلام) کی صفات گرامی انبیاء سے کیسے مشابہ ہیں  کہ ادریس (علیہ السلام) کی رفعت ، حلم ابراہیم (علیہ السّلام)، شدت موسی  علیہ السّلام، صبر  حضرتِ ایوب علیہ السلام کا مجموعہ امام مھدی علیہ السّلام کی ہستی ہے۔ بہرحال مکتب تشیع کی جن معتبر کتابوں میں یہ حدیث مذکور ہے ہم ان کے اسماء ذکر کر رہے ہیں اس کے علاوہ جن قابل اعتبار راویان کے مختلف سلسلہ سند سے یہ حدیث ہم تک پہنچی ہیں ان میں سے بھی چند کے نام مختصرا ذکرر دیتے ہیں تاکہ حدیث کی سند پر کوئی سوال باقی نہ رہے۔ راویان کے طبقات! 1- بكر بن صالح عن عبد الرحمن بن سالم عن أبي بصير. 2- أحمد بن محمّد بن عيسى وإبراهيم بن هاشم, ومحمّد بن الحسين عن الحسن بن محبوب عن أبي الجارود. 3- عبد الله بن محمّد بن جعفر عن أبيه عن جدّه. 4- عبد الله بن جبله عن أبي السفاتج عن جابر الجعفي. 5- عبد الرحمن بن أبي نجران عن صفوان بن يحيى عن إسحاق بن عمار . 6- يحيى بن المغيرة عن محمّد بن المغيرة عن محمّد بن سفيان. 7- العباس بن أبي عمرو عن صدقه بن أبي موسى عن أبي نضرة. 8- محمّد بن سعد صاحب الوافدي عن محمّد بن عمر الوافدي عن أبي مروان. حدیث بہت طویل ہے لہذا درج ذیل کتب کی جانب رجوع کیا جا سکتا ہے۔ الکافی، کمال الدین، عیون اخبار الرضا، الغیبہ نعمانی، الغیبہ شیخ طوسی، الاحتجاج، ارشاد القلوب، تقریب المعارف، المناقب و المثالب، کشف الغمہ، الارشاد۔

1