نماز اسلام کی ایک اہم عبادت اور دین کا ایسا مضبوط ستون ہےجسے خداوند متعال نے اپنے بے پناہ لطف کی بنیاد پر انسانی تربیت اور انسان کو اپنے کمال تک پہنچانے کے لیے اسلام کے آئین میں قراردیا ہے، جو تمام عبادات میں ایک خاص امتیاز اور اہم ترین مقام ومنزلت کی حامل ہے۔
یہ ایک ایسی عبادت ہے جو خداوندِ متعال سے رابطہ استوارکرنے کا بہترین راستہ ہے، دیگرعبادات کے لیے پرچم کی حیثیت رکھتی ہے، خداوند متعال تک رسائی کے لیے نشانِ راہ ہے اور اہم عبادات میں سے ہے جو انسان کے نفس کو پاک کرکے اسے کمال کے بلند ترین درجات تک ارتقا دیتی ہے۔ نماز خداوند متعال کےحضورخشوع و خضوع کا ایک کامل مظہر ہے۔
در حقیقت یہ ہر مسلمان کا معنوی تعارف نامہ اور قربِ خداوند ی کے حصول کا سب سے مضبوط اور دائمی وسیلہ ہے۔
قرآن کریم اور احادیث میں نماز و نمازی کا ایک خاص مقام بیان کیا گیا ہے:
قرآن مجید نے جب کامیاب ہونے والے مومنین کے اوصاف گنوانا شروع کیے ہیں تو ان میں سر فہرست ان کی نماز کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ ہمْ فِی صَلاتِہمْ خَاشِعُونَ ۔(1)
وہ صاحبانِ ایمان یقینا فلاح پا گئے،جو اپنی نماز میں خشوع کرنے والے ہیں۔
اور پھر جب ان کی اوصاف کا تذکرہ مکمل کرنا چاہا تو اس وقت بھی فرمایا:
وَالَّذِینَ ہمْ عَلَىٰ صَلَاتِہمْ یحَافِظُونَ ۔(2)
اور جو اپنی نمازوں کی محافظت کرنے والے ہیں۔
نہج البلاغہ میں امیر المومنین علیہ السلام کی اس نصیحت کے ضمن میں جو آپؑ نے اپنے اصحاب کو نماز کے بارے میں فرمائی ہے، اس میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’پیغمبر اکرمﷺ نے نماز کو اس نہر سے تشبیہ دی ہے جو انسان کے گھر کے سامنے ہو اور وہ ہر روز پانچ مرتبہ اس میں نہائے اور واضح ہے کہ جو دن میں پانچ مرتبہ نہر میں نہائے گا اس کے بدن پر کوئی غلاظت باقی نہ رہے گی۔‘‘(3)
اسی طرح ایک اورحدیث میں امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوا ہے: ’’نماز دین کا ستون ہے اور اس کی مثال خیمے کےاس ستون کی سی ہے جو جب تک اپنی جگہ رہے خیمے کی میخیں اورطنابیں قائم رہتی ہیں لیکن اگر وہ ٹیڑھا ہو جائے اور ٹوٹ جائے تو وہ بھی ثابت نہیں رہ پاتیں یعنی اس کی میخیں اُکھڑاورطنابیں ٹوٹ جاتی ہیں۔‘‘(4)
ایک اور حدیث میں امام صادق علیہ السلام کا فرمان ہے: ’’خداوند عالم روز قیامت سب سے پہلے نماز کا حساب لے گا۔ پس اگر وہ قبول ہوگئی تو سارے اعمال قبول ہو جائیں گے لیکن اگر اسے رد کردیا گیا تو سارے اعمال ردکر دیے جائیں گے۔‘‘(5)
جبکہ متعدداحادیث میں اہل بیت علیہم السلام نے مسلمانوں کو نماز کو معمولی جاننے سے ڈرایا ہے۔
حدیث میں ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا: ’’کوئی بھی عمل خداوند عالم کے نزدیک نماز سے بڑھ کرمحبوب نہیں۔ پس نماز کے وقت دنیا کا کوئی کام بھی تمہیں مشغول نہ کرے کیونکہ خداوند متعال نے قرآن کریم میں کچھ قوموں کو سرزنش کرتے ہوئے فرمایا ہے:
الَّذِینَ ہمْ عَنْ صَلَاتِہمْ سَاہونَ۔(6)
جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔(7)
حدیث میں آیا ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام نےایک ایسےشخص کو جو اپنی نماز کے سجدے بہت تیزی سےبجالارہا تھا فرمایا: ’’کتنی مدت سے اس طرح نماز پڑھ رہے ہو؟‘‘ تو اس نے جواب دیا کہ اتنی مدت سے تو حضرتؑ نے فرمایا: ’’تجھ جیسا انسان خدا کی نظر میں اس کوّے کی مانند ہے جو اپنی چونچ زمین پر مارتا ہے (اور جان لو) اگر تم اس حالت میں مر گئے تو ابو القاسم (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین پر نہیں مرو گے۔‘‘
اور پھر فرمایا: ’’لوگوں میں سب سے بڑا چور وہ ہے جو اپنی نماز میں چوری کرے۔‘‘(8)
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے: ’’نمازکے اولِ وقت کو آخرِوقت پر اتنی ہی فضیلت ہے جتنی آخرت کودنیا پر ہے۔‘‘(9)
اور یاد رہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی احادیث سے(جہاں نماز کی فضیلت و اہمیت ثابت ہے) وہیں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ انسان کےپست اخلاق اور بعض بُرے اعمال بارگاہ خداوند متعال میں نماز کی قبولیت میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
حضرت بی بی فاطمہ الزہراؑ نے اپنے باباﷺ سے پوچھا: ’’بابا جان! مرد و زن میں سے جو نماز میں سستی کرے اس کی کیا سزا ہے؟‘‘ تو آپﷺنے فرمایا: ’’اے فاطمہؑ! جو شخص نماز میں سستی برتے اسے پندرہ (15) مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے گا:
چھ کا اس دنیا میں، تین کاموت کے وقت ، تین کا قبر میں اورتین کا قبر سےاٹھائے جانے کے بعد۔ جن چھے کا دنیا میں سامنا کرنا پڑے گا وہ یہ ہیں:
1. اس کی عمر کم ہو جائے گی۔
2. رزق سے برکت ختم ہو جائے گی۔
3. اللہ اس کے چہرے سے صالح لوگوں کی علامات مٹا دے گا۔
4. اسےکسی کام کا اجر نہیں دیا جائے گا۔
5. اس کی دعا آسمان کی جانب نہیں جائے گی۔
6. صالحین کی دعا اسے شامل نہیں ہوگی۔
اور وہ تین جن کا موت کے وقت سامنا کرنا پڑے گا وہ یہ ہیں:
1. وہ بوقتِ موت ذلت و رسوائی دیکھے گا۔
2. وہ بھوکا مرے گا۔
3. وہ پیاسا مرے گا۔
اور وہ تین جن کا سامنا قبر میں کرنا ہوگا وہ یہ ہیں:
1. اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر کرے گا جو قبر میں اس پر عذاب نازل کرتا رہے گا۔
2. اس کی قبر تنگ کر دی جائے گی۔
3. اس کی قبر تاریک ہو گی۔
جبکہ وہ تین جن کا سامنا وہ بروز محشر کرے گا یہ ہیں:
1. اسے منہ کے بل میدان محشر میں کھینچ کر لایا جائے گا جبکہ پورا محشر اسے دیکھ رہا ہو گا۔
2. اس کا سخت ترین حساب ہوگا۔
3. خدا اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں کرے گا اور اسےدرد ناک عذاب ہوگا۔(10)
پس حسد، تکبر، خودپسندی، غرور اورایسی ہی دیگر خصلتوں کے حامل یا والدین کی نافرمانی، ان کی ایذا رسانی ،غیبت، حرام خوری ، مست کرنے والی اشیا کا پینا اور خمس و زکات نہ دینے جیسے برے اعمال کے مرتکب افراد کی نماز بارگاہ خداوندی میں قبول نہیں ہوتی۔ اگرچہ ان پر نماز کا وجوب اپنی جگہ ہے اور اگر وہ نہ پڑھیں تو دیگر بداعمالیوں کے ساتھ ساتھ تارک الصلوۃ بھی شمار ہونے لگیں گے۔ پس نمازی کے لیے ضروری ہے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور ہر اس گناہ و معصیت کو ترک کرے جس میں وہ مبتلا ہے تاکہ اس کی یہ اہم ترین عبادت شرف قبولیت پاسکے۔
اس سب کے ساتھ ساتھ انسان کو چاہیے کہ نماز حضورِ قلب کے ساتھ ادا کرے اور اس کے دوران اتنا ذہن میں رکھے کہ کس سے مناجات و درخواست کر رہا ہے۔
اسی طرح نمازی کو چاہیے کہ ایسے اعمال سے اجتناب کرے جو نماز کے ثواب کو کم کرتے ہیں مثلاًغنودگی کے عالم میں یا پیشاب روک کر نماز کے لیے کھڑا نہ ہو اور نماز کے وقت آسمان کی طرف نگاہ نہ کرے۔
اور ایسے اعمال انجام دے جو نماز کے ثواب کو زیادہ کریں مثلاً عقیق کی انگوٹھی اور صاف ستھرا لباس پہنے، کنگھی اور مسواک کرےاور عطر استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو خوشبودار کرے.
(1) المومنون: 1-2
(2) المومنون: 9
(3) نہج البلاغہ، خطبہ 199، اہمیۃ الصلاۃ و فوائدھا۔
(4) وسائل الشیعہ ، کتاب الصلاۃ، ابواب اعداد الفرائض، باب 6، ح 12۔
(5) ثواب الاعمال و عقاب الاعمال ، ص 273، ح1، باب عقاب من صلی الصلاۃ لغیر وقتہا ۔
(6) الماعون: 5
(7) خصال شیخ صدوق ، ج2، ص 621، ح10۔
(8) المحاسن،ح1، ص 162، ح232۔
(9) ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، ص 58، ح 2 باب فضل الوقت الاول علی الآخر۔
(10) بحار الانوار21/83، فلاح السائل22