عورت مہر کا دعویٰ کرے اور شوہر انکار کرے تو ایسی حالت میں اگر دخول سے پہلے دونوں میں اختلاف ہو اور عورت کے پاس گواہ نہ ہو تو شوہر سے قسم اٹھانے کا کہا جائے گا اگر اس نے قسم اٹھا لی تو اس کی بات قبول کی جائے گی اور یہی حکم ہوگا اگر دخول کے بعد دونوں میں اختلاف ہو اور عورت مہرِ مثل سے زیادہ کا دعویٰ کرے۔
لیکن اگر بیوی مہرِ مثل یا اُس سے کم کا دعویٰ کرے تو قسم کے ساتھ بیوی کی بات مانی جائے گی مگر یہ کہ اگر شوہر بیوی کو مہر کی ادائیگی پر یا بیوی کا شوہر کو مہر معاف کرنے دینے پر یا کسی اور شخص کے مہر کی کفالت اٹھانے پر گواہ قائم کرے اور وہ گواہی دے دیں تو شوہر کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا وگرنہ بیوی قسم اٹھائے گی پس اگر اس نے قسم اٹھا لی تو اس کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا اور اگر بیوی نے قسم اٹھانے سے انکار کر دے اور مُدّعی سے بھی قسم اٹھانے کا مطالبہ نہ کرے تو حاکمِ شرع کو حق ہے کہ وہ بیوی کے خلاف فیصلہ کرے جیسا کہ حاکمِ شرع کو یہ بھی اختیار ہے کہ وہ مُدّعی کی حالت کو پرکھنے کے لیے اسے قسم اٹھانے کا حکم دے سکتا ہے، پس اگر بیوی نے شوہر سے قسم اٹھانے کا مطالبہ کیا یا حاکمِ شرع نے شوہر سے قسم اٹھانے کا کہا ایسی صورت میں اگر شوہر نے قسم اٹھائی تو اس کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا اگر قسم سے انکار کیا تو اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا۔