logo-img
رازداری اور پالیسی
مہران علی ( 30 Year ) - پاکستان
2 سال قبل

ترتیب عشرہ محرم الحرام

اسلام علیکم میرا سوال عشرہ محرم الحرام کہ سلسلے میں ہے کس امام سے یہ ترتیب دی گئی کہ یکم تا دس محرم الحرام تک امام حسین علیہ السلام و شھداء کربلا کی مناسبت سے عشرہ برپا کیا گیا ؟ جواب میں کچھ کتاب کے دلائل شامل کیے جائے تاکہ استفادہ کر کہ راہ حق تلاش کرسکیں وسلام ۔


وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ برادرِ عز یز! ائمہ اہل بیت علیہم الصلوۃ والسلام کا طریقہ کار رہا ہے کہ جیسے ہی محرم کا مہینہ شروع ہوتا تھا وہ امام حسین علیہ السلام اور ان کے اصحاب و اہل حرم کے ذکر میں مشغول ہو جاتے تھے، غمزدہ رہتے تھے باقاعدہ گھر پر مجالس عزا کا انعقاد کرتے ،مصائب پڑھنے والے لوگ آتے تھے، شعرا گھر پر تشریف لاتے تھے اور ذکر امامِ مظلوم کیا کرتے تھے اور باقائدہ پردہ لگایا جاتا خواتین کے لیئے بھی فضائل و مصائب سننے کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ ہم ان میں سے چند روایات تبرّکا ذکر کرتے ہیں تاکہ عشرہ محرم الحرام میں معرفت کے ساتھ مجالسِ عزا میں شریک ہوں ۔ 1۔ امام جعفر صادق علیہ الصلوۃ والسلام سے سوال ہوا سيدي جعلت فداك انّ الميت يجلسون له بالنياحهة بعد موته أو قتله واراكم تجلسون انتم وشيعتكم من اول الشهر بالماتم والعزاء على الحسين عليه السلام ؟ فرزند رسول میں آپ پر فدا ہو جاؤں! (ایک سوال ہے کہ) جب کوئی کسی کا مر جاتا ہے تو مرنے کے بعد اس کے لیئے گریہ ہوتا ہے، نوحہ ہوتا ہے یا قتل کے وقت ہوتا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں آپ کو اور آپ کے شیعوں کو کہ پہلی محرم سے ماتم اور عزائے امام حسین میں مصروف ہو جاتے ہیں ؟ امام علیہ السلام نے جواب دیا: يا هذا اذا هلا هلال محرم نشرت الملائكه ثوب الحسين عليه السلام وهو مخرق من ضرب السيوف بالدماء فنراه نحن وشيعتنا بالبصيله لا بالبصر والتنفجر دموعنا. اے بندہ خدا جب محرم کا چاند نمودار ہوتا ہے تو ملائکہ امام حسین علیہ الصلوۃ والسلام کا خون آلود کُرتا پھیلا دیتے ہیں، یہ ایسا لباس ہوتا ہے جو تلوار کی ضربوں سے پارہ پارہ ہوتا ہے، جب کہ ہم اسے دیکھتے ہیں اور ہمارےشیعہ بھی دیکھتے ہیں نگاہِ بصیرت سے نا کہ بصارت سے تو ہماری آنکوں سے اشک جاری ہوجاتے ہیں۔ كتاب ثمرات الأعواد مولف علي بن الحسين الهاشمي. 2۔ امام رضا علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ كان أبي إذادخل شهر المحرم لايري ضاحكا وكانت الكئابة تغلب عليه حتي يمضي منه عشرة أيام فإذا كان يوم العاشر كان ذلك اليوم يوم مصيبته وحزنه وبكائه و يقول هواليوم ألذي قتل فيه الحسين .. جب ماہ محرم اتا تھا تو میرے بابا امام موسی کاظم علیہ السلام کو کوئی ہنستا ہوا نہیں دیکھتا ، ہر وقت غم کے آثار ان پر چھائے رہتے یہاں تک کہ پورا عشرۂ محرّم ایسے ہی رہتااور جب عاشور کا دن آتا تو غم و اندوہ اور بڑھ جاتا اور کہتے رہتے کہ یہی وہ دن ہے جو ہمارے لیے مصیبت و حزن اور رونے کا دن ہے اسی دن امام حسین علیہ السلام کو قتل کیا گیا اسی دن۔۔۔! امالي الصدوق مجلس 27 حديث 2 ۔ 3۔ اس کے علاوہ خود امام علی ابن موسی رضا علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس جب پہلی محرم کو ابن شبیب تشریف لے کر آئے تو امام علیہ السلام نے امام حسین علیہ السلام کے مصائب پڑھے اور ارشاد فرمایا يا ابن الشبيب ان كنت باكيا على شيء فابكي على الحسين اے ابن شبیب اگر کسی بات پر رونا ہے تو ہمارے جد امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت پر رویا کرو کیوں نہیں انتہائی مظلومیت اور کرب کے ساتھ شہید کیا گیا۔۔ پروردگار غم امام حسین علیہ السلام میں ہمیں غمزدہ رہنے والوں میں شمار فرمائے۔

7