لڑکا اہل سنت ہے اور لڑکی اہل تشیع ہے ان کا نکاح فقہ جعفریہ کے مطابق ہوا تھا اب لڑکی والے طلاق لینا چاہتے ہیں طلاق فقہ جعفریہ کے مطابق ہو گی یا فقہ حنفی کے مطابق اگر فقہ جعفریہ کے مطابق ہو گی تو کیا لڑکے سے وکالت لینا ضروری ہے یا بس وہ 3دفعہ طلاق طلاق کہہ دے اور بعد میں شیعہ عالم طلاق کے صیغے جاری کر دے؟
Based on opinion آیت اللہ سيد علی سيستانی
برادر محترم السلام علیکم ورحمۃ اللہ
جو صورتحال مسئلے میں پیش کی گئی ہے اس میں اگر لڑکا اپنی فقہ کے مطابق طلاق دے دے تو وہ طلاق فقہ جعفریہ کے مطابق کافی سمجھی جائے گی اور طلاق دینے کے بعد لڑکی کو عدت رکھنا بھی ضروری ہوگی۔
دوبارہ فقہی جعفریہ کے مطابق صیغے پڑھنا لازم نہیں ہے اگر فقہ جعفریہ کے مطابق صیغے پڑھ دیے جائیں گے تو بھی کوئی حرج نہیں ہے۔