logo-img
رازداری اور پالیسی
2 سال قبل

سفر کے آداب

سفر کے آداب اور مکروہات کیا ہیں؟


Based on opinion آیت اللہ سيد علی سيستانی

فقہاء کرام نے سفر کے متعدد آداب اور مکروہات کا ذکر کیا ہے جن میں ہم فقط چند کا ذکر کرتے ہیں: ‮ (العروة الوثقى، السيد اليزدي: ج4، ص322) 1: استخارہ کرنا: اسکی بہت زیادہ تاکید وارد ہوئی ہے اور اس سے مراد اللہ تعالٰی سے خیر طلب کرنا ہے پس اگر وہ سفر کرنے، سفر کا راستہ اختیار کرنے یا کسی بھی دیگر وجہ سے متردد ہو تو خدا وند متعال سے خیر اور بھلائی طلب کرے کیونکہ سفر اور ہر اہم کام کے لئے استخارہ کی ہدایت کی گئی ہے بالخصوص جب انسان کسی معاملے میں حیران و پریشان ہو اور صلاح و مشورہ کے بعد بھی کسی نتیجے تک نہ پہنچ پائے۔ 2: مہینے اور ہفتے کے مخصوص دن جنہیں سفر کے لئے پسندیدہ قرار دیا گیاہے انہیں اختیار کرے، پس ایام ہفتہ میں سے پہلے روز ہفتہ پھر منگل اور جمعرات کا دن اختیار کرے کیونکہ ان دنوں کا ذکر سنت شریفہ سے مروی ہے۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ:جو شخص سفر کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ ہفتے کا دن اختیار کرے کیونکہ ہفتے کے روز اگر کوئی پتھر بھی پہاڑ سے گرے تو اللہ تعالٰی اسے اپنی جگہ پر لوٹائے گا۔ (الخصال، شيخ صدوق : ج1ص394) آئمہ اہل بیت علیھم السلام سے مروی ہے کہ ہفتے کا روز ہمارے، اور اتوار کا روز بنو امیہ کے لئے ہے (وسائل الشيعة، حر عاملي:ج8، ص253) نبی اکرم سے روایت ہے : اے پروردگار ہفتے اور جمعرات کے روز صبح کے وقت کو میری امت کے لئے بابرکت بنا. (وسائل الشيعة، ج8، ص266) اور روز جمعہ نماز جمعہ اور اتوار کے روز حتى الامكان سفر سے پرہیز کرے کیونکہ روایت ہے کہ اتوار کا دن تلوار کی دھار کی طرح ہے (لہذا اس سے بچو) اور سوموار کے دن بھی سفر سے اجتناب کریں کیونکہ یہ دن بنو امیہ کے لئے ہے اور اسی طرح بدھ کے روز بھی سفر نہ کریں کیونکہ یہ بنو عباس کا دن ہے اور خاص طور پر قمری مہینےکے آخری بدھ کو سفر نہ کریں کیونکہ یہ ہمیشہ منحوس دن ہے اور اگر سوموار کے دن سفر کرنا چاہیں تو اس دن صبح کی نماز کی پہلی رکعت میں سورة دهر یعنی سورہ انسان (هل أتى على الإنسان ... مزید پڑھ.) پڑھیں، کیونکہ ایسا کرنے سے اللہ تعالٰی اسے اس دن کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ اور جس مہینے چاند برج عقرب یا حالت محاق میں ہو اس ماہ سفر کرنے سے اجتناب کریں کیونکہ حضرت امام صادق سے روایت ہے کہ: جو شخص قمر در عقرب میں سفر یا شادی کرے گا وہ بھلائی اور خیر نہیں دیکھے گا (وسائل الشيعة، ج11، ص367) 3: آغاز سفر میں صدقہ دینے کی بہت زیادہ اہمیت ہے اور صدقہ دیتے وقت یہ دعا پڑھنا مستحب ہے: دعا (اللّهُمَّ إِنِّی اشْتَرَیتُ بِهِذِهِ الصَّدَقَةِ سَلامَتِی وَسَلامَةَ سَفَرِی، اللّهُمَّ احْفَظْنِی، وَاحْفَظْ ما مَعِی، وَسَلِّمْنِی، وَسَلِّمْ ما مَعِی، وَبَلِّغْنِی، وَبَلِّغْ ما مَعِی بِبَلاغِكَ الَحَسَن الجَمِیلِ). اے اللہ ! میں اس صدقے کے عوض میں اپنے سفر میں سلامتی کو خریدتا ہوں اے اللہ ! میری اور میرے ساتھ ہر چیز کی حفاظت فرما، اور مجھے اور میرے پاس ہر چیز کو سلامتی عطا فرما اور اپنے خاص لطف و کرم سے ہمیں اپنی منزل مقصود تک پہنچا 4: سفر پر نکلتے وقت وصیت کرے بالخصوص واجب حقوق کی (اگر اس کے ذمے ہوں)تو انکی وصیت کر کے نکلے۔ 5: اہل و عیال کو الوداع کہے۔ یعنی انہیں اللہ کے سپرد کرے اور ان پر اللہ تعالٰی کو ولی مقرر کرے لیکن وصیت کرنے سے پہلے دو یا چار رکعت نماز پڑھے اور کہے (اللّهُمَّ إنّی أستَودِعُكَ نَفسی وأهلی ومالی وذرِّیتی، ودُنیای وآخِرَتی، وأمانَتی وخَاتمة عَمَلی) . اے اللہ ! میں اپنی جان، اہل و عیال، مال، دنیا و آخرت، امانت اور اپنے عمل کا (اچھا) انجام تیری ذات کے حوالے کرتا ہوں۔ حضرت امام صادق سے روایت ہے کہ اپنے اہل و عیال پر اللہ تعالٰی کو ولی مقرر کرنے کا اس سے افضل طریقہ کوئی نہیں اور جو شخص اس طرح دعا کرے گا اللہ تعالٰی اس کی دعا قبول کرے گا ۔ (وسائل الشيعة، الحر العاملي:ج8، ص275) 6: برادران ایمانی کو سفر پہ جانے کی اطلاع دے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مروی ہے کہ مسلمان پر لازم ہے کہ جب سفر کرنا چاہے تو اپنے (دینی) بھائیوں کو اطلاع دے اور اس کے (دینی) بھائیوں پر لازم ہے کہ جب وہ سفر سے واپس آئے تو اس کے پاس(ملاقات کے لئے) آئیں۔ 7: اپنے گھر کے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر قرآنی سورتیں، آیات اور منقولہ دعائیں پڑھے اور اور مندرجہ ذیل حالات میں اللہ تعالٰی کا ذکر، تسمیہ(بسم اللہ پڑھنا)، تحمید(الحمد لله کہنا) اور شکر الہی بجا لائے: 1: سوار ہوتے وقت 2: سواری پر براجمان ہوتے ہوئے 3: منزل کے قریب پہنچتے وقت 4: سواری سے اترتے وقت اس کے علاوہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف انتقال کے وقت بھی ذکر خدا میں مشغول رہے۔ حضرت امام صادق سے مروی ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلمجب سواری سے اترتے تو تسبیح خدا کرتے اور جب سوار ہوتے تو تکبیر کہتے تھے۔ حضرت رسول خدا ﷺسے مروی ہے کہ جو آدمی سواری پر سوار ہوتے وقت (بسم الله الرحمن الرحیم) پڑھے تو اس کے پیچھے ایک فرشتہ لگ جاتا ہے جو اس کے اترنے تک اس کی حفاظت کرتا ہے اور اگر سوار ہوتے وقت (بسم الله الرحمن الرحیم) نہ پڑھے تو اس کے پیچھے ایک شیطان لگ جاتا ہے جو اسے کہتا ہےکہ: گانا گا پس اگر وہ کہے کہ میں تو نہیں گا سکتا تو پھر شیطان اسے کہتا ہے کہ کم از کم اس کی تمنا تو کر (اے کاش کہ میں گا سکتا) چنانچہ وہ اترنے تک یہ خواہش کرتا رہتا ہے ۔ اسی طرح مستحب ہے کہ انسان سفر پر نکلتے وقت، گھر سے نکلتے ہوئے اور سواری پر سوار ہوتے وقت سلامتی کے لئے درج ذیل سورتیں اور آیات پڑھے بلکہ ہر حال میں یہ مستحب ہیں: آیت الکرسی، سورہ فلق، سورہ الناس، سورہ توحید، سورہ فاتحہ، سورہ اعراف کی آیت نمبر 54 (إِنَّ رَبَّكُمْ الله الَّذِی خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فِی سِتَّةِ أَیامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ یغْشِی اللَّیلَ النَّهَارَ یطْلُبُهُ حَثِیثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ الله رَبُّ الْعَالَمِینَ)اور تسمیہ پڑھے۔ ترجمہ: تمہارا رب یقینا وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر متمکن ہوا، وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑتی چلی آتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ آگاہ رہو! آفرینش اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے، بڑا با برکت ہے اللہ جو عالمین کا رب ہے۔ امام موسی کاظم سے روایت ہے : کہ اگر تم میں سے کوئی شخص سفر کا ارادہ کرتے وقت اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا ہو کر اور جدھر جانا ہے ادھر کا رخ کرکے اپنے آگے اور دائیں بائیں سورہ الحمد، تین بار معوذتین، سورہ توحید اور تین بار آیت الکرسی پڑھے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے (اللّهُمَّ احْفَظْنِی وَاحْفَظْ مَا مَعِی وَبلِّغْنِی وَبَلِّغْ مَا مَعِی بِبَلاغِكَ الحَسَنِ الجَمِیل) یحْفَظُ وَیبَلَّغُ وَیسَلَّمُ، هُوَ وَمَا مَعَهُ. اے اللہ ! میری اور جو کچھ میرے ساتھ ہے اس کی حفاظت فرما اور مجھے اور میرے ساتھ جو کچھ ہے اسے منزل مقصود تک پہنچا تو یقینا وہ اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوگا وہ حفظ و امان اور سلامتی کے ساتھ منزل مقصود تک پہنچے گا۔ حضرت امام رضا سے مروی ہے کہ سفر و حضر میں جب بھی گھر سے نکلنے لگو تو یہ کہو (بسم الله، وبالله، توكلت على الله، ماشاء الله، لا حول ولاقوة الا بالله) اللہ کے نام سے (آغاز سفر کرتا ہوں)، میں اللہ پہ ایمان لایا ہوں اور اسی پہ توکل کیا ہے وہی ہوگا جو اللہ چاہے گا قوت و طاقت صرف اللہ کی طرف سے ہے (جب شیطان اس سے آمنا سامنا کرتے ہیں تو فرشتے انہیں دھتکار کر کہتے ہیں بھلا تم اس پہ کیسے قابو پا سکتے ہو جبکہ اس نے خدا کا نام لے لیا ہے اس پہ ایمان ظاہر کیا ہے اور اسی پر توکل اور اعتماد کیا ہے حضرت امام صادق جب اپنا پاؤں رکاب میں رکھتے تھے تو یہ پڑھتے تھے (سبحان الذی سخر لنا هذا وما كنا له مقرنین) پاک ہے وہ ذات جس نے اسے (سواری کو)ہمارے تابع بنایا جب کہ ہم اس پر قابو پانے والے نہ تھے پھر سات بار (سبحان الله), سات بار(الحمد لله) اور سات بار (لا إله إلّا الله) پڑھتے تھے۔ حضرت امام زین العابدین سے روایت ہے اگر کوئی شخص پیدل چل کر حج پر جائے اور سورہ قدر کی تلاوت کرے تو اسے چلنے کی تکلیف کا احساس نہیں ہو گا اور فرمایا جو شخص سوار ہوتے وقت سورہ قدر پڑھے گا وہ صحیح و سالم اور بخششِ گناہ کے ساتھ اترے گا اور سورہ قدر کی تلاوت کرنے والا سواری کے جانور کے لیے لوہے سے بھی زیادہ بھاری ہوتا ہے. حضرت امام محمد باقر سے مروی ہے اگر کوئی چیز قضا و قدر سے بچ کر آگے نکل سکتی تو میں ضرور کہتا کہ گھر سے نکلتے وقت سورہ قدر پڑھنے والا صحیح سالم واپس لوٹے گا. حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی  کو وصیت میں فرمایا یاعلی جب کسی شہر یا بستی میں جانا چاہو تو جب اس پر نگاہ پڑے تو یہ دعا پڑھو. (اللَّهُمَّ إنِّی أسْألُكَ خَیرَهَا وَأعُوذُ بكَ مِنْ شَرِّهَا، اللَّهُمَّ حَبِبْنَا إلى أهْلِهَا وَحَبِّبْ صَالِـحِی أَهْلِهَا إلینَا) اے اللہ میں تجھ سے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں اے اللہ اس شہر کے مکینوں کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کر دے اور اس کے نیک لوگوں کو ہمارا محبوب بنا۔ حضرت رسول خدا سے منقول ہے: یا علیؑ جب کسی منزل پر قیام کرو تو یہ دعا پڑھو: (اللّهمّ أَنْزِلْنِی مُنْزَلاً مُبارَكاً، وَأَنْتَ خَیرُ الْمُنْزِلِینَ. تُرْزَقُ خَیرَهُ، وَیدْفَعُ عَنْكَ شَرُّهُ). اے پروردگار مجھے مبارک جگہ پر اتار بے شک تو ہی بابرکت مقام پر اتارنے والا ہے یہ دعا پڑھنے سے اس مقام کی خیر و خوبی تمہیں نصیب ہو گی اور اس کا شرو ضرر تم سے دور ہو گا مسافر کے لئے بہتر ہے کہ بکثرت خدا کو یاد کرے اور اسی پر توکل اور بھروسہ کرے اور حفظ و امان سے متعلق آیات اور دعاؤں کو پڑھے جیسے آیت مبارکہ (كَلاَّ إِنَّ مَعِی رَبِّی سَیهْدِینِ) ترجمہ: حضرت موسیؑ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار یقینا میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ دکھائے گا۔ اور آیت مجیدہ (إِذْ یقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنا) ترجمہ:جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ رنج نہ کر یقینا اللہ ہمارےساتھ ہے۔ اور کلمات فرج (لا إله إلا الله الحلیم الكریم، لا إله إلا الله العلی العظیم) اور اس مضمون کی دیگر آیات اور دعائیں پڑھے۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمسے مروی ہے کہ :جو شخص سفر میں اپنے بستر پر لیٹتے وقت تسبیح زہرا ءؑ اور آیت الکرسی پڑھے گا وہ صبح تک ہر شر و ضرر سے محفوظ رہے گا۔ 8: مسافر کے لئے مستحب ہے کہ ہر بیماری سے شفا یابی اور ہر خوف سے بچنے کے لئے تربت امام حسین (خاک شفا) اپنے ہمراہ رکھے۔ اسی طرح اس کے لئےیہ بھی مستحب ہے کہ اس کے پاس زرد عقیق کی انگوٹھی ہونی چاہیے جس کی ایک طرف (ما شاء الله لا قوة الا بالله استغفر الله) لکھا ہو اور دوسری طرف (محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و علیؑ) نقش ہو۔ اور ایک فیروزہ کی انگوٹھی بھی ہو جس کی ایک جانب (الله المَلِك)کو اور دوسری جانب (المُلْك لله الواحد القهَّار) لکھا ہو۔ 9: قافلے کے ساتھ سفر کرے کیوں کیونکہ تنہا سفر کرنے کی شدید مذمت وارد ہوئی ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نےحضرت علی کو وصیت میں ارشاد فرمایا یا علی !سفر میں تنہا نہ نکلو کیونکہ اکیلے کے ساتھ دوسرا شیطان ہوتاہے جبکہ دو آدمیوں سے وہ(شیطان)نسبتاً زیادہ دور ہوتا ہے. ایک اور حدیث میں ہےکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین قسم کے آدمیوں پر لعنت کی ہے:ایک وہ جو تنہا کھانا کھائے دوسرا وہ جو گھر میں تنہا سوئے اورتیسرا وہ جو راہ میں تنہا سوار ہوکر سفر کرے۔ رسول اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث ہے اللہ تعالی کو ساتھیوں میں چار ساتھی زیادہ عزیز ہیں اور جب بھی کوئی جماعت سات کے عدد سے بڑھ جائے تو ان کے درمیان اختلاف اور کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔ حضرت امام صادق نے ایک حدیث میں فرمایا جو شخص تنہا سفر پہ نکلے وہ یہ دعا پڑھے : (ما شاء الله لا حول ولا قوة إلا بالله) ۔ اسی طرح مستحب ہے کہ سفر میں اس شخص کی رفاقت(ہمراہی) اختیار کرے جو زادِسفر خرچ کرنے میں اس کی مانند ہو اور ایسے شخص کو ہمسفر بنانا مکروہ ہے جو اس سلسلے میں اسے اونچا یا نیچا ہو۔ مسافر کے لئے ایسے شخص کی رفاقت مستحب ہے جو اس کے لئے باعثِ زینت ہو اور اس شخص کی صحبت اختیار نہ کرے جو اس سے زینت حاصل کرے۔ اسی طرح مسافر کے لئے اپنے ساتھیوں کے ساتھ تعاون کرنا, ان کی خدمت کرنا, ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنا اور ان کے پیچھے چلنا مستحب ہے۔ 10:مسافر کے لئے مستحب ہے کہ وہ زیادہ مقدار میں عمدہ و اعلی دسترخوان (کھانا) لیکر جائے خاص طور پر جب حج کا سفر ہو۔ حضرت امام صادق نے فرمایا: ’’سفر میں زادِ سفر زیادہ اور اچھی قسم کا لے جانا اور اسے اپنے ساتھیوں پر خرچ کرنا آدمی کی شرافت اور مروت کی علامت ہے۔‘‘ لیکن سید الشہداء حضرت امام حسین کی زیارت پر جاتے ہوئے عمدہ کھانوں کا انتظام نہ کرے۔ من لا یحضرہ الفقیہ میں حضرت امام صادق کی روایت ہے کہ: آپؑ نے اپنے بعض اصحاب سے پوچھا کہ:آیا تم سید الشہداء کی قبر اقدس کی زیارت کے لئے جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں تو آپؑ نے پوچھا :آیا تم اپنے ہمراہ (دسترخوان) کا انتظام کر کے جاتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں تو آپؑ نے فرمایا اپنے آباؤاجداد کی قبور پر جاتے وقت تو تم ایسا اہتمام نہیں کرتے۔ صحابی پوچھتا ہے : پھر مولاؑ ہم سفر کے دوران کیا کھائیں؟ تو آپؑ نے فرمایا: دودھ کے ساتھ روٹی کھالیا کرو۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ حکم کربلاء مقدسہ کے قریبی علاقوں کے ساتھ خاص ہے جیسے حله, نجف اشرف اور بغداد وغیره جبکہ کربلا سے دور دراز علاقوں کے مکینوں کے لئے یہ حکم نہیں اور بالخصوص ایسے شخص کےلئے نہیں جو عراق میں موجود تمام ائمہؑ کی زیارت کا قصد رکھتا ہو۔ 11: مسافر کے لئے مستحب ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آئے۔حضرت امام باقر سے روایت ہے کہ:اگر بیت اللہ کی جانب سفر کرنے والے میں درج ذیل تین خصلتیں ہوں تو اسکا خداوندعالم کے نزدیک کوئی مقام و رتبہ نہیں:  اپنے ساتھیوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے برتاؤ کرنے والا نہ ہو۔  غصے پہ قابو رکھنے والا نہ ہو۔  خدا کی نافرمانی سے ڈرنے والا نہ ہو۔ حضرت امام رضا سے روایت ہے کہ:زادِ سفر کو خرچ کرنا، اچھے اخلاق سے پیش آنا اور خدا کو ناراض نہ کرنے والی چیزوں میں مزاح کرنا سفر میں مروت شمار ہوتی ہے۔ساتھیوں سے اختلاف کم کرنا اور ان سے جدائی کے بعد ان کے خلاف باتوں کو ترک کرنا بھی مروت میں سے ہے حضرت امام صادق نے فرمایا کہ:یہ محبت نہیں کہ:آدمی سفر میں جو اچھائی یا برائی دیکھے اس کے بارے باتیں کرے ۔ حضرت امام صادق نے فرمایا کہ:اپنے ساتھیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنے کی عادت پیدا کرو اور اپنی زبان کو قابو میں رکھو، غصے کو پی جاؤ ,عفودرگزر کو وطیرہ (شیوہ) بنا لو اور سخاوت پر کاربند رہو۔ 12: مسافر کیلئے ضرورت کی چیزوں کو ہمراہ لے جانا مستحب ہے جیسے اسلحہ، دوائیں اور دیگر ضرورت کا سازوسامان جیسا کہ حضرت لقمانؑ نے اپنے بیٹے کو وصیت میں ایسا کرنے کا کہا ہے اور مسافر کے لئے مستحب ہے کہ اس وصیت میں ذکر ارشادات و ہدایات پر عمل کرے۔ 13:اگر کوئی شخص سفر میں بیمار ہوجائے تو اس کے رفیقوں کے لیے تین دن تک اس کے پاس کام کرنا مستحب ہے۔حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حدیث ہے کہ:جب تم سفر میں ہو اور تم میں سے کوئی بیمار ہو جائے تو اس کے پاس تین دن تک کام کرو۔ حضرت امام صادق نے فرمایا مسافر کا اپنے ساتھیوں پر یہ حق ہے کہ جب ان میں سے کوئی بیمار ہو جائے تو وہ تین دن تک اس کے پاس کام کریں۔ 14:راستوں پر اور وادیوں میں آخرِشب کو سونا مکروہ ہے اسی طرح پیشگی اطلاع کے بغیر مسافر کے لئے اچانک رات کے وقت اپنے اہل و عیال کے پاس آنا مکروہ ہے۔ جبکہ مقصد پورا ہونے کے بعد مسافر کے لئے جلدی اپنے اہل و عیال کے پاس واپس آنا اور ان کے لیے ہدیہ اور تحفہ لانا مستحب ہے۔ حضرت امام صادق سے مروی ہے کہ:جب تم میں سے کوئی سفر سے واپس آنے لگے تو حسبِ توفیق اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ تحفه ضرور لائے اگرچہ وہ پتھر ہی ہو۔ پیدل چلنے والے مسافروں کے لئے ہدایات غیر آباد اور ویران جگہ پر رات بسر کرنے والے کیلئے درج ذیل آیت مبارکہ کا پڑھنا مستحب ہے: (إِنَّ رَبَّكُمْ الله الَّذِی خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ فِی سِتَّةِ أَیامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ یغْشِی اللَّیلَ النَّهَارَ یطْلُبُهُ حَثِیثاً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ أَلا لَهُ الْخَلْقُ وَالأَمْرُ تَبَارَكَ الله رَبُّ الْعَالَمِینَ) ترجمہ: تمہارا رب یقینا وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا پھر عرش پر متمکن ہوا، وہ رات سے دن کو ڈھانپ دیتا ہے جو اس کے پیچھے دوڑتی چلی آتی ہے اور سورج اور چاند اور ستارے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔ آگاہ رہو! آفرینش اسی کی ہے اور امر بھی اسی کا ہے، بڑا با برکت ہے اللہ جو عالمین کا رب ہے۔ اسی طرح چلنے میں تیزرفتاری سے کام لینا مستحب ہے۔ حضرت امام صادق سے روایت ہے کہ:چلو اور تیز چلو یہ تمہارے لئے آسائش کا باعث ہے۔ آپ سے ہی روایت ہے کہ: کچھ پیادہ لوگوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں تھکاوٹ کی شکایت کی تو رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا تیزروی کو اختیار کرو چناچہ انہوں نے ایسا کیا تو ان کی تھکاوٹ دور ہوگئی ۔ حضرت امام زین العابدین سے روایت ہے کہ:چلنے کی تکلیف سے بچنے کے لئے سورہ قدر پڑھو۔ حضرت رسول خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے کہ:مسافر کا زاد ِسفر حُدی خوانی(اونٹوں کو ہنکانے کا گیت) اور شعر خوانی ہے جب تک اس میں جفا نہ ہو۔ ایک نسخہ میں ہے کہ:جب تک اس میں خنا (فحش گوئی) نہ ہو۔ قیام کرنے کے لئے زمین کے ایسے ٹکڑے کا انتخاب کرے جو رنگ میں اچھا ہو، اس کی مٹی نرم اور اس میں آب و گیاہ بکثرت ہوں۔ یہ وہ نصیحتیں اور ہدایات تھیں جو مسافر کے ساتھ خاص ہیں جبکہ ہم اب مسافر کے اہل و عیال اور اس کے رشتہ داروں سے متعلق مستحب چیزوں کا تذکرہ کرتے ہیں جن کی رعایت کرنا بہتر ہے : مسافر کے اہل و عیال اور رشتہ داروں کے لئے مستحب ہے کہ وہ مسافر کو اچھے طریقے سے رخصت کریں، اس کی ہر ممکن مدد کریں، اس کے لئے آسانی اور سلامتی کی دعا کریں اور وداع کے وقت اس کی حاجات پوری کریں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ:جو شخص مسافر مومن کی مدد کرے گا اللہ تعالی اس سے تہتر قسم کے رنج و کرب کو دور کرے گا اور دنیا و آخرت میں اسے ہر دکھ اور پریشانی سے پناہ دے گا اور اس کے (قیامت کے) دن اسے رنج و غم سے نجات دے گا جس دن (خوف کے سبب) لوگوں کی سانسیں حلق میں اٹکی ہوں گی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مومنین کرام کو الوداع کرتے تو دعا دیتے ہوئے فرماتے تھے: خدا تمہیں زادِ تقوی عطا فرمائے، ہر کارِ خیر کی ہدایت فرمائے، تمہاری ہر حاجت بر لائے، تمہارے دین و دنیا کو سلامت رکھے اور تمہیں صحیح و سالم واپس لوٹائے۔ ایک اور حدیث میں امام باقر سے یوں وارد ہوا ہے کہ: حضرتؑ جب کسی مسافر کو الوداع کرتے تو اس کا ہاتھ تھام کر فرماتے: خدا تمہارے لے لئے صحبت کو اچھا کرے, تیری مکمل مدد فرمائے, سختی کو آسان بنائے, دور کو نزدیک کرے,ہرمہم کی کفایت کرے, خدا تیرے دین و امانت اور خاتمہ عمل کی حفاظت فرمائے اور ہر بھلائی کی جانب رہنمائی فرمائے۔ تجھ پہ تقویٰ خداوندی لازم ہے. بہتر ہے کہ مسافر کے کان میں یہ پڑھا جائے: (إِنَّ الَّذِی فَرَضَ عَلَیكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَى مَعَادٍ إنْ شَاءَ الله) اور اس کی روانگی کے بعد اذان واقامت پڑھی جائے جیسا کہ اس پر عمل کرنا مشہور ہے۔اسی طرح بہتر ہے کہ مسافر کے اہل وعیال کے حق میں کوتاہی نہ کی جائے، ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے اور خاص طور پر حج کے مسافر کے اہل وعیال کے بارے میں حضرت امام محمد باقر سے روایت ہے کہ:جو شخص حج پر جاتے ہوئے کسی شخص کو اپنے اہل و عیال اور مال میں جانشین چھوڑ جائے تو(گویا) اس نے(بذاتِ خود)حجرِ اسود کو بوسہ دیا ہے ۔ حج اور عمرہ کرکے واپس آنے والے کی عزت وتکریم کرنا مستحب ہے۔ حضرت امام محمد باقر  سے مروی ہے کہ:حج و عمرہ کرنے والے کی تعظیم و تکریم کرنا تم پر واجب ہے (یعنی سنت مؤکدہ ہے)۔ اسی طرح حضرت امام زین العابدین نے فرمایا:اے حج نہ کرنے والو: حاجیوں کو خوش آمدید کہو، ان سے مصافحہ کرو اور ان کی تعظیم کرو کیونکہ ایسا کرنا تم پر واجب ہے(یعنی سنتِ مؤکدہ ہے) ایسا کرنے سے تم ان کے ساتھ اجر و ثواب میں شریک ہوجاو گے ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ سے حج و عمره کر کے واپس آنے والے کو یوں دعا دیتے تھے: خدا تیرا عمل قبول کرے، تیرے اخراجات کا خدا تجھے بدل د ے اور تیرے گناہ معاف کرے ۔ حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کو وصیت تبرکاً سفروحضر کے اخلاقیات پہ مشتمل اس مفید روایت کو کتاب کے آخر میں ذکر کرنا بہتر ہے کہ: حضرت امام صادق سے روایت ہے کہ:حضرت لقمان ؑنے اپنے بیٹے سے فرمایا: اے بیٹا !جب کسی قوم کے ہمراہ سفر کرو تو اپنے اور ان کے معاملات میں ان سے بکثرت مشورہ کرو اور ان کے روبرو بکثرت مسکراتے رہو اور اپنی ذات کو ان پر خرچ کرنے میں جودوسخا کا مظہر بنا دو، جب وہ تمہیں بلائیں تو لبیک کہو اور اگر تم سے مدد مانگیں تو ان کی امداد کرو، طویل خاموشی کو عمل میں لاؤ، بکثرت نماز پڑھو، سواری پانی اور مال میں سے جو کچھ تمہارے پاس ہو اسے خرچ کرنے میں سخاوت سے کام لو، جب تم سے وہ کسی حق بات میں گواہی طلب کریں تو ان کے حق میں گواہی دو اور جب تم سے مشورہ کریں تو حتی امکان ان کو صحیح رائے دو اور پھر کسی امر میں اس وقت تک پختہ عزم نہ کرو جب تک اس کے تمام پہلوؤں پر اچھی طرح غور و فکر نہ کر لو۔ کسی طلب کردہ مشورے میں اس وقت تک جواب نہ دو جب تک اٹھتے بیٹھتے کھاتے پیتے اور نماز پڑھتے وقت اپنی عقل و فکر سے اچھی طرح غور و فکر نہ کر لو کیونکہ جب کوئی شخص مشورہ طلب کرنے والے کو خالص نصیحت نہ کرے تو خدا اس سے اس کی رائے سلب کرلیتا ہے اور امانت (عقل) اس سے چھین لیتا ہے۔ اور جب اپنے ساتھیوں کو چلتا ہوا دیکھو تو ان کے ساتھ چلو اور جب ان کو کام میں مشغول دیکھو تو ان کا ہاتھ بٹاؤ، جب وہ صدقہ و قرض دیں تو تم بھی دو، جو شخص سن و سال میں تم سے بڑا ہو اس کی بات سنو اور جب تمہیں کسی بات کا حکم دیں یا تم سے کچھ طلب کریں تو ہاں کرو اور انہیں انکار مت کرنا کیونکہ انکارکر نا بے بسی اور بدبختی ہے (صاحب فضل اور مروت لوگ اگر کسی کام پر قادر ہوں تو اسے فورا انجام دیتے ہیں اور اگر اس کام سے عاجز ہوں تو بھی کہتے ہیں کہ ان شاء اللہ آ جائے گا) اور جب رستے کے بارے متعین ہو تو رک جاؤ اور جب کسی مسئلے میں شک ہو تو سنبھل جاؤ اور ایک دوسرے سے مشورہ کرو، جب کوئی اکیلا شخص دیکھو تو اس سے اپنا رستہ نہ پوچھو اور نہ ہی اس سے مشورہ مانگو کیونکہ جنگل میں اکیلا شخص مشکوک ہوتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ چوروں کا جاسوس یا شیطان ہو جس نے تمھیں سرگرداں کیا ہو۔ اور دواشخاص سے بھی ڈرو مگر یہ کہ تم وہ (سچائی کی آثار)دیکھ لو جو میں دیکھ رہا ہوں کیونکہ عقلمند جب اپنی آنکھوں سے کچھ دیکھتا ہے تو وہ حق کو(باطل سے) تمیز کر لیتا ہے اور حاضر وہ کچھ دیکھتا ہے جو غائب نہیں دیکھتا۔ اے بیٹا !جب نماز کا وقت داخل ہوجائے تو اسے کسی چیز کی خاطر مؤخر نہ کرو اور نماز پڑھ کر اس سے فارغ ہو جاؤ کیونکہ یہ ایک قرض ہے اور نماز بھی باجماعت پڑھوخواہ حالتِ جنگ میں ہو۔ اور اپنی سواری پر مت سوؤ کیونکہ اس سے اس کی پیٹھ پر جلدی زخم ہو جاتا ہے اور (ویسے بھی)یہ داناؤں کا چلن نہیں ہے مگر یہ کہ تمہارے محمل میں اس قدر وسعت ہو کہ تم اپنے جوڑوں کو (ڈھیلا)چھوڑسکوں (یعنی آرام سے لیٹ سکو)۔ اور جب منزل کے قریب پہنچو تو اپنی سواری سے اتر جاؤ اور اپنی غذا کا انتظام کرنے سے پہلے اپنی سواری کے چارے کا بندوبست کرو کہ وہ تمہاری جان کی طرح ہے۔ اور جب کہیں رکنا چاہو تو ایسی جگہ اترو جس کا رنگ سب سے بہتر، جس کی مٹی سب سے نرم اور گھاس سب سے زیادہ ہو۔ اور جب قیام کر لو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھو اور قضاءِ حاجت کے لئے دور جاؤ اور جب وہاں سے کوچ کا ارادہ کرلو تو دو رکعت نماز پڑھو اور پھر اس زمین سے الوداع کرو۔ اور اس زمین اور اس کے رہنے والوں پہ سلام کرو کیونکہ زمین کے ہر ٹکڑے پر فرشتے آباد ہیں اور اگر ممکن ہو تو جب بھی کھانا کھاؤ تو پہلے اس سے کچھ صدقہ دو اور جب تک سواری پر سوار ہو، جس قدر ممکن ہو قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہو اور جب تک کام کرتے رہو خدا کی تسبیح میں مشغول رہو اور کام سے فارغ ہونے کے بعددعا و پکار میں مصروف رہو۔ اسی طرح رات کے ابتدائی حصے میں چلنے سے اجتناب کرو اور رات کے آخری حصے میں سفر کرو اور خبردار چلتے وقت آواز زیادہ اونچی نہ کرنا۔ جبکہ تم پہ رات کے آخری حصے میں آرام و سکون کے لئے رکنا لازم ہے۔اور آدھی رات کے بعد آخر شب تک سفر کرنا ضروری ہے۔ اے بیٹا !جب سفر کرو تو اپنی تلوار، موزے، پگڑی، خیمہ، مشکیزہ اور سوئی دھاگا ساتھ لے جاؤ اور اس قدر دوائیں ہمراہ لے جاؤ کہ ان سے تم اور تمہارے ساتھی فائدہ اٹھائیں اور خدا کی نافرمانی کے علاوہ ہر بات میں اپنے ہمراہوں کے ساتھ رہو۔

2