logo-img
رازداری اور پالیسی
2 سال قبل

امربالمعروف اور نہی عن المنکر

شرط لگانے اور جوا کھیلنے کا کیا حکم ہے؟


Based on opinion آیت اللہ سيد علی سيستانی

ایسا کھیل جہاں ہار جیت پائی جائے، اس میں دویا چند افراد کا آپس میں شرط لگانا حرام ہے۔ اور یہاں شرط سے مراد یہ ہے کہ وہ آپس میں طے کریں کہ جیتنے والا ہارنے والے سے کوئی چیز لے گا (خواہ پیسہ ہو یا کوئی اور چیز جو مالیت اور قیمت رکھتی ہو یایہ شرط ہوکہ ہارنے والا بلا اجرت جیتنے والے کے لیے ایسا کام انجام دے گا جو مالیت و قیمت کا حامل ہو)۔ اسی طرح اگر دو لوگ کسی ورزش یاگھریلو کھیل میں شرط لگائیں کہ ہارنے والاکوئی رقم جیتنے والے کو دے گا یا کمپیوٹر وغیرہ کے کھیل میں شرط لگائیں کہ جو بھی ہارے گاکچھ رقم جیتنے والے کو دے گایا کھیل کا پورا خرچہ یا اپنے حصے سے زیادہ دے گا تو یہ جوا شمار ہو گا اور جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اگر فٹبال، والی بال یا گھریلو کھیل وغیرہ کے مقابلے میں ہرٹیم کوئی ایک رقم ادا کرے تاکہ اس سے جیتنے والی ٹیم کے لیے غذا یا کوئی دوسری چیز مہیا کی جائے یا جمع شدہ پیسے سے کپ یا انعام وغیرہ مہیا کریں تاکہ جیتنے والے ایک کھلاڑی یا ٹیم کو دیں تو یہ جوے کا حکم رکھتا ہے اور جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اگر ان موارد میں آپس میں شرط لگائی جائے کہ جو بھی ہارے گا وہ کوئی مخصوص رقم دوسرے کو دے گا تو یہ بھی جوا اور ناجائز ہے لیکن اگر دینے والا ادائیگی پر مجبور نہ ہو اور یہ معین کردہ رقم جیت ہار کے بدلے شمار نہ ہو تو حرج نہیں ہے۔