"بہت سے مفسرین اور راویوں نے سورہ معارج کی ابتدائی چند آیات ﴿سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ؛ مِنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ ﴾ (ایک سوال کرنے والے نے عذاب کا سوال کیا جو واقع ہونے ہی والا ہے۔ کفار کے لیے اسے کوئی ٹالنے والا نہیں ہے، عروج کے مالک اللہ کی طرف سے ہے۔) کی شان نزول کو بیان کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلّم نے حضرت علی علیہ السلام کو غدیر خم میں خلافت کے لیے نصب کیا، اور ان کے بارے میں فرمایا: مَن کُنْتُ مَولَاہُ فَہذَا عَلِيّ مَولاہ۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ خبر عام ہو گئی، نعمان بن حارث فھری (جو کہ منافقوں میں سے تھا) (بعض روایات میں ‘‘حارث بن نعمان’’ اور بعض روایات میں ‘‘نضر بن حارث’’ آیا ہے۔)پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم )کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : آپ نے ہمیں حکم دیا کہ خدا کی وحدانیت اور آپ کی رسالت کی گواہی دیں ہم نے گواہی دی، لیکن آپ اس پر بھی راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ آپ نے (حضرت علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کرکے کہا) اس جوان کو اپنا جانشین قرار دے دیااور کہا : مَن کُنْتُ مَولَاہُ فَہذَا عَلِيّ مَولاہ۔ کیا یہ کام اپنی طرف سے کیا ہے یا خداکی طرف سے؟ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا: اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے، یہ کام میں نے خدا کی طرف سے انجام دیا ہے۔
نعمان بن حارث نے اپنا منہ پھیر لیا اور کہا:خداوندا ! اگر یہ کام حق ہے اور تیری طرف سے ہے تو مجھ پر آسمان سے پتھر برسا!۔
اچانک آسمان سے ایک پتھر آیا اور اس کے سر پر لگا، جس سے وہ وہیں ہلاک ہو گیا، اس موقع پر آیت ﴿ سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ ۔۔۔وَاقِعٍ﴾ نازل ہوئی۔
مذکورہ روایت کی طرح مجمع البیان میں بھی یہ روایت ابو القاسم حسکانی سے نقل ہوئی ہے۔ (مجمع البیان ، جلد ۹و۱۰، صفحہ ۳۵۲)، اور اسی مضمون کی روایت بہت سے اہل سنت مفسرین اور راویان حدیث نے مختصر سے اختلاف کے ساتھ نقل کی ہے، منجملہ: قرطبی نے اپنی مشہور تفسیر میں (تفسیر قرطبی ، جلد ۱۰، صفحہ ۶۷۵۷)، آلوسی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں (تفسیر آلوسی، ، جلد ۲۹، صفحہ ۵۲)، اور ابو اسحاق ثعلبی نے اپنی تفسیر میں(نور الابصار شبلنجی ، صفحہ ۷۱ کے نقل کے مطابق)
علامہ امینی علیہ الرحمہ نے کتاب الغدیر میں تیس علما اہل سنت سے (منابع کے ساتھ) اس روایت کو نقل کیا ہے، جن میں سے: سیر ۃحلبی، فرائد السمطین حموینی، درر السمطین شیخ محمد زرندی، السراج المنیر شمس الدین شافعی، شرح جامع الصغیر سیوطی، تفسیر غریب القرآن حافظ ابوعبید ہروی، اور تفسیر شفاء الصدور ابو بکر نقّاش موصلی، وغیرہ بھی ہیں۔ (تفسیر پیام قرآن ، جلد ۹، صفحہ ۱۸۱)