"امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد مسلم بن عقیل (علیہ السلام) جنہیں امام حسین علیہ السلام نے اپنا سفیر بنا کر کوفہ بھیجا تھا لیکن کوفہ والوں کی بےوفائی کی وجہ سے آپ (علیہ السلام) کوفہ میں ابن زیاد کے ہاتھوں نہایت بے دردی کے ساتھ شہید ہوئے،ان کے دو فرزند محمد (علیہ السلام) و ابراہیم (علیہ السلام) بھی اسیر ہوئے اور عبیداللہ بن زیاد کے حکم پر انہیں کوفہ میں کسی جیل میں بند کیا گیا۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ دو نوں بچے دو سال تک کوفہ میں اسیر رہے اس کے بعد مشکور نامی زندان بان جو اہل بیت (علیھم السلام) کا دوستدار تھا کی مدد سے رات کو زندان سے فرار ہو گئے۔ یہ دو بچے دو دن تک ایک بوڑھی عورت کے ہاں مہمان رہے جو اہل بیت (علیھم السلام) کے محبین میں سے تھی جسکا شوہر ابن زیاد کی فوج میں کام کرتا تھا۔ رات کو جب اس کا شوہر گھر آیا تو ان دو بچوں کی موجودگی کا علم ہوا، یوں اس بدبخت نے انہیں صبح سویرے نہر فرات کے کنارے لے جا کر شہید کر دیا. ان کے لاشوں کو نہر فرات میں پھینک دیا جبکہ ان کا سر کاٹ کر ابن زیاد کے ہاں لے گیا چونکہ اس نے ان دو بچوں کو گرفتار کرنے والے کیلئے انعام کا وعدہ دیا ہوا تھا۔
(مجلسی، بحار الانوار، ج۴۵، ص۱۰۰؛ صدوق، امالی، ص۷۶ به بعد؛ خوارزمی، مقتل الحسین، ج۲، ص۵۴؛ قمی، نفس المہموم، ص۱۴۳-۱۴۷.)
اس واقعے کی تفصیل کو تاریخی کتابوں جیسے تاریخ طبری، امالی صدوق اور مقتل الحسین خوارزمی میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ شیخ صدوق انہیں مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کی اولاد مانتے ہیں۔ (صدوق، امالی، ص۸۳)، خوارزمی انہیں جعفر طیار (علیہ السلام) کی اولاد (خوارزمی، مقتل الحسین، ج۲، ص۵۶-۵۸.)، جبکہ طبری اور بلاذری انہیں عبداللہ بن جعفر (علیہ السلام) کے فرزند قرار دیتے ہیں۔ (طبری، تاریخ، ج۵، ص۳۹۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۲۲۶) ابن سعد بھی انہیں عبداللہ بن جعفر (علیہ السلام) کے فرزند قرار دیتے ہیں اور عبداللہ بن قطبہ کو ان کا قاتل قرار دیتے ہیں۔(ابن سعد، طبقات کبری، ج۱، ص۴۷۸)
نہر فرات کے کنارے کربلا سے چار فرسخ کے فاصلے پر مُسَیِّب نامی شہر واقع ہے۔ اس شہر میں ایک ضریح ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ یہ حضرت مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کے دو فرزند محمد (علیہ السلام) و ابراہیم (علیہ السلام) کی قبریں ہیں۔
( کمونہ، آرامگاہہای خاندان پاک پیامبر(ص)،ص۳۰۲)"