logo-img
رازداری اور پالیسی
2 سال قبل

احکامِ نکاح

اگر شوہر میں گذشتہ دو عیوب کے علاوہ کوئی اور عیب پایا جائے تو کیا بیوی کے لیے خیارِ عیب ثابت ہوتا ہے؟


Based on opinion آیت اللہ سيد علی سيستانی

فقہا کی ایک جماعت نے شوہر کے اندر مندرجہ ذیل عيوب کے پائے جانے سے بیوی کے لیے خیارِ عيب کو ثابت کیا ہے۔ 1: پاگل پن: خواہ شوہر نکاح سے پہلے پاگل ہو یا بعد میں يا نكاح اور ہمبستری کے بعد۔ 2: خصیوں کا نکالنا۔ 3:خصیوں کا یوں کوٹنا کے ان کا اثر ختم ہوجائے۔ 4: کوڑھ۔ 5:برص۔ 6: اندھاپن۔ اُن فقہا کا کہنا ہے کہ آخری پانچ عيوب اگر نکاح کے بعد وجود میں آئے تو بیوی کے ليے خیارِ عیب ثابت نہیں لیکن آیت اللہ سید علی سیستانی کے نزدیک ان چھ عیوب کے ذریعے بیوی کے ليے خیارِ عیب کا ثابت ہونا ہی محلِ اشکال ہے، پس اگر فسخ کرے تو بنا بر احتیاطِ لازم ازدواجي تعلقات يا دونوں کے جدائی کا کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا مگر یہ کہ فسخ کے بعد دوبارہ نکاح یا طلاق کو بھی ملایا جائے ۔