رضاعت کے سبب بچّے پر دس قسم کی خواتین حرام ہو جاتی ہیں:
1:مُرضِعہ(دودھ پلانےوالی)،کیونکہ یہ اُس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے۔
2: مُرضِعہ (دودھ پلانےوالی) کی ماں اور یہ سلسلہ جتنا اوپر چلتا جائے،خواہ نَسبی ہو یا رضاعی کیونکہ یہ اُس کی رضاعی نانی بن جاتی ہے۔
3: مُرضِعہ(دودھ پلانےوالی) کی بیٹیاں جو ولادت کے سبب اُس کی بیٹیاں ہوں کیونکہ یہ اُس کی رضاعی بہنیں بن جاتی ہیں لیکن اُس مُرضِعہ(دودھ پلانےوالی) کی وہ رضاعی بیٹیاں جو اُس شخص کے سبب بننے والا دودھ نہ پیئیں جو اُس بچّے نے پیا ہو تو وہ اُس بچّے پر حرام نہیں ہوں گی(یعنی دودھ پلانے والی کی رضاعی بیٹیوں نے اور اِس بچّے نے جس عورت سے دودھ پیا ہو وہ دودھ ایک مرد سے نہ ہو)۔
4: مُرضِعہ(دودھ پلانےوالی)کے سگے بیٹوں یا بیٹیوں کی سگی اور رضاعی بیٹیاں(یعنی مُرضِعہ کی سگی یا رضاعی پوتیاں اور نواسیاں) کیونکہ دودھ پینے والا انکا رضاعی ماموں یا چچا بن جاتا ہے۔
5: مُرضِعہ(دودھ پلانےوالی) کی نسبی و رضاعی بہنیں کیونکہ یہ دودھ پینے والےکی رضاعی خالائیں بن جاتی ہیں۔
6: مُرضِعہ(دودھ پلانےوالی) کی پھوپھیاں اور خالائیں اور اسی طرح اُس مُرضِعہ(دودھ پلانےوالی) کے باپ اور ماں کی پھوپھیاں اور خالائیں نسبی ہوں یا رضاعی،کیونکہ وہ اُس دودھ پینے والے کی رضاعی پھوپھیاں یا خالائیں بن جاتی ہیں۔
7:رضاعی باپ کی نسبی اور رضاعی بیٹیاں چاہے وہ بالواسطہ بیٹیاں ہوں(یعنی اُس کی پوتیاں یا نواسیاں) یا بلا واسطہ بیٹیاں ہوں، کیونکہ دودھ پینے والا انکا رضاعی بھائی،چچا یا ماموں بن جاتا ہے۔
8:رضاعی باپ کی نسبی یا رضاعی مائیں کیونکہ یہ دودھ پینے والےکی رضاعی دادیاں بن جاتی ہیں۔
9:رضاعی باپ کی نسبی اور رضاعی بہنیں کیونکہ یہ ا ُس دودھ پینے والے کی رضاعی پھوپھیاں بن جاتی ہیں۔
10:رضاعی باپ کی نسبی اور رضاعی پھوپھیاں اور خالائیں اور آگے اُس کے باپ یا ماں (رضاعی دادا) کی نسبی و رضاعی پھوپھیاں کیونکہ یہ اُس دودھ پینے والے کی رضاعی پھوپھیاں یا خالائیں بن جاتی ہیں۔